Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8765

8765 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنِ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَتَى أَبُو طَلْحَةَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ، [ص:327] وَأَبُو طَلْحَةَ رَابُّهُ، فَقَالَ: أَعِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ شَيْءٌ؟ فَإِنِّي مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقْرِئُ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ سُورَةَ النِّسَاءِ، وَقَدْ رَبَطَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا مِنَ الْجُوعِ؟ فَقَالَتْ: كَانَ عِنْدِي شَيْءٌ مِنْ شَعِيرٍ، قَالَتْ: فَطَحَنْتُهُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَى الْأَسْوَاقِ، وَالْأَسْوَاقُ حَوَائِطُ لَهُمْ، فَأَتَيْتُهُمْ بِشَيْءٍ مِنْ حَطَبٍ، فَجَعَلْتُ مِنْهُ قُرْصًا، ثُمَّ قَالَ: أَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِنْ أُدْمٍ؟ فَقَالَتْ: قَدْ كَانَ عِنْدِي نِحْيٌ فِيهِ سَمْنٌ، فَلَا أَدْرِي أَبَقِيَ فِيهِ شَيْءٌ، فَأَتَتْ بِهِ فَعَصَرَتْهُ، فَقَالَ: إِنَّ عَصْرَ اثْنَيْنِ أَبْلَغُ مِنْ عَصْرِ وَاحِدٍ، فَعَصَرَا جَمِيعًا، فَأَخْرَجَا مِثْلَ التَّمْرَةِ قَالَ: فَدَهَنْتُ الْقُرْصَ، ثُمَّ دَعَانِي فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، تَعْرِفُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ: إِنِّي قَدْ تَرَكْتُهُ مَعَ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ يُقْرِئُهُمْ، فَادْعُهُ وَلَا تَدْعُ مَعَهُ غَيْرَهُ، انْظُرْ لَا تَفْضَحْنِي. فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «لَعَلَّ أَبَاكَ أَرْسَلَ إِلَيْنَا؟» قُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ لِلْقَوْمِ: «انْطَلِقُوا» ، فَانْطَلَقُوا يَوْمَئِذٍ وَهُمْ ثَمَانُونَ رَجُلًا، فَأَمْسَكَ بِيَدِي، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الدَّارِ نَزَعْتُ يَدِي مِنْ يَدِهِ، ثُمَّ إِنِّي أَقْبَلْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَجَعَلَ يَطْلُبُنِي فِي الدَّارِ، وَيَرْمِينِي بِالْحِجَارَةِ، وَيَقُولُ: فَضَحْتَنِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّهُ خَرَجَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: «لَا يَضُرُّكَ» ، فَأَمَرَهُمْ فَجَلَسُوا، ثُمَّ دَخَلَ فَأَتَيْنَا بِالْقُرْصِ، فَقَالَ: «هَلْ مِنْ أُدْمٍ؟» فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ كَانَ عِنْدَنَا نِحْيٌ، وَقَدْ عَصَرَتْهُ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمُّوهُ، فَإِنَّ عَصْرَ الثَّلَاثَةِ أَبْلَغُ مِنْ عَصْرِ اثْنَيْنِ» ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَصَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمَا، فَأَخْرَجُوا مِنْهُ مِثْلَ التَّمْرَةِ، فَمَسَحُوا بِهِ الْقُرْصَ، مَسَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: «ادْعُوا لِي عَشْرَةً عَشْرَةً» فَدَعَوْتُ عَشْرَةً فَجَلَسُوا، فَأَكَلُوا حَتَّى تَجَشَّأُوا شِبَعًا، فَمَا زَالُوا يَدْخُلُونَ عَشْرَةً عَشْرَةً حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَا مَعَهُ حَتَّى فَضَلَ «[ص:328] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ، وَلَا عَنْ سَعِيدٍ إِلَّا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، تَفَرَّدَ بِهِ: اللَّيْثُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ابو طلحہ ، حضرت انس کی ماں اُم سلیم کے پاس آئے۔یہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پالنے والے ہیں، کہا: اے اُم سلیم! تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ کیونکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرکر آیا ہوں اس حال میں کہ آپ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر صفہ والوں کو سورۂ نساء پڑھار ہے تھے ، آپ نے کہا: میرے پاس تھوڑے سے جَو ہیں ، آپ فرماتی ہیں: میں نے ان کو پیا پھر مجھے بازار بھیجا، اس زمانے میں بازار چار دیواریوں میں ہوتے تھے۔ میں کچھ لکڑیاں لے آیا۔ اس سے میں نے ٹکیاں بنائیں ، پھر ابو طلحہ نے کہا: کوئی سالن؟ کہا: میرے پاس ایک برتن میں گھی پڑا تھا، دیکھتی ہوں ، معلوم نہیں کچھ باقی ہے کہ ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے لا کر اسے نچوڑا۔ ابو طلحہ نے کہا: دو کے نچوڑنے سے زیادہ نکلے گا۔ پھر دونوں کے مل کر نچوڑا، بس اتنا نکلا جتنی ایک کھجور ہوتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے وہ ٹکیوں کو لگایا ، پھر مجھے بلا کر فرمایا: اے بیٹے! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعارف ہے ، میں نے کہا: جی ہاں! میں دیکھ کر آیا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اصحاب صفہ کو پڑھار ہے ہیں آپ کو دعوت پیش کر ، آپ کے ساتھ کسی اور کو نہ بلانا ، دیکھ مجھے رسوا نہ کرنا۔ پس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ پس جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: شاید تیرے باپ نے تجھے ہماری طرف بھیجا ہے؟ میں نے عرض کی: ہاں! آپ نے تمام ساتھیوں سے فرمایا: چلو! وہ سب چلے ، اس دن تقریبا وہ اسّی آدمی تھے ۔ آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ جب میں اپنے گھر کے قریب ہوا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھٹرا لیا ، پھر آگے چل کر حضرت ابو طلحہ کو جا کر خبر دی، سو وہ گھر میں مجھے تلاش کر رہے تھے اور پھر سے مارنا چاہتے تھے۔ زبان سے کہہ رہے تھے انس تُو نے مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سا منے رسوا کر دیا۔ پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں (خیر ہے)۔ پس وہ سب آپ کے حکم سے بیٹھ گئے ، پھر آپ تشریف لائے، ہم نے ٹکیاں پیش کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا سالن ہے؟ اُم سلیم نے عرض کی: ہمارے پاس ایک چھوٹے مشکیزے میں گھی تھا۔ میں نے اور ابو طلحہ نے مل کر نچوڑا۔ آپ نے فرمایا: وہ لاؤ! اگر تین آدمی مل کر نچوڑیں گے تو دو کے نچوڑنے سے زیادہ نکلے گا ۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ نے ان دونوں کے ساتھ مل کر نچوڑا تو اس میں سے ایک کھجور کے برابر اور نکلا ، اس کو ٹکیوں پر لگا دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا برکت والا ہاتھ لگایا، پھر اس میں برکت کی دعا کی ، پھر فرمایا: دس دس کو میرے پاس بلاؤ! میں نے دس کو بلایا، انہوں نے بیٹھ کر کھایا وہ سیر ہو گئے ، یہاں تک کہ سارے سیر ہو گئے ، دس دس ہی آ کر داخل ہوتے رہے اور سیر ہوتے رہے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوئے ہم نے آپ کے ساتھ مل کر کھایا یہاں تک کہ وہ کھانا باقی بھی بچ گیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْقُرَظِيَّ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبٌ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8765

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8766

8766 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا هُنَّ الْأَقْسَامُ، وَيُعْطِي اللَّهُ، وَلَنْ تَزَالَ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ أَمَةٌ قَائِمَةٌ عَلَى أَمْرِ اللَّهِ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ»

حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فر ماتے ہوئے سنا کہ جس کے ذریعے اللہ عزوجل بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا کرتا ہے، دین کی اقسام اللہ عزوجل عطا کرتا ہے، اس امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا۔ ان کی مخالفت کرنے والے کو نقصان کوئی نہیں دے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آئے اور وہ لوگوں پر غالب آئیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8766

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8767

8767 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَفِي يَدِهِ قُصَّةٌ مِنْ شَعْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا، يَقُولُ: «إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ»

حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ بالوں کا گچھا تھا، فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے اس سے منع کیا اور فرمایا:بنو اسرائیل کو عذاب دیا گیا، جس وقت انہوں نے ان عورتوں کو بڑا بنایا۔

«إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ» ← مِثْلِ هَذَا، ← رَسُولَ اللهِ نَهَى ← ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَفِي يَدِهِ قُصَّةٌ مِنْ شَعْرٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8767

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8768

8768 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى إِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ: خَمْرٍ وَلَبَنٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، ثُمَّ أَخَذَ اللَّبَنَ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ، لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ» لَمْ يَرْوِ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ إِلَّا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پاس معراج کی رات مقام ایلیاء میں لایا گیا ، آپ کے پاس دودھ اور شراب لائی گئی ، آپ نے دونوں کو دیکھا ، پھر آپ نے دودھ لیا، حضرت جبریل نے آپ سے عرض کی: تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہیں ، جس نے آپ کو اس فطرت کی طرف راہنمائی کی ، اگر آپ شراب پکڑتے تو آپ کی امت گمراہ ہوتی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8768

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8769

8769 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَنْبِذُوا بِالدُّبَّاءِ، [ص:329] وَالْمُزَفَّتِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفر ماتے ہوئے سنا کہ دباء اور مزفت (برتنوں) میں نبیذ نہ بناؤ۔

«لَا تَنْبِذُوا بِالدُّبَّاءِ، [ص:329] وَالْمُزَفَّتِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8769

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8770

8770 - وَبِهِ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفر ماتے ہوئے سنا کہ میں دن میں ستر سے زیادہ مرتبہ اللہ سے بخشش مانگتا ہوں۔

وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَکْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8770

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8771

8771 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے نماز کی ایک رکعت پائی اس نے نماز پا لی۔

«مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8771

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8772

8772 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَثَلُ الْمُهَجِّرِ إِلَى الصَّلَاةِ كَمَثَلِ الَّذِي يَهْدِي الْبَدَنَةَ، ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الْبَقَرَةَ، ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الْكَبْشَ، ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الدَّجَاجَةَ، ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الْبَيْضَةَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:نماز کے لیے جلدی آنے والے کی مثال اس کی طرح ہے جو اونٹ کی قربانی کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آتا ہے اس کا ثواب گائے کی قربانی کا ملتا ہے، پھر اس کے بعد آتا ہے اس کو بکری کی قربانی کرنے کا ثواب ملتا ہے ، پھر جو اس کے بعد آتا ہے اس کو مرغی صدقہ کرنا کا ثواب ملتا ہے ، پھر جو اس کے بعد آتا ہے اس کو انڈہ صدقہ کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8772

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8773

8773 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قِبَلِكُمْ بِكَثْرَةِ مَسَائِلِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفر ماتے ہوئے سنا: میں تمہیں جس سے منع کروں اس سے بچو! جس کا حکم دوں اس کو کرو، جتنی تم طاقت رکھتے ہو ، تم سے پہلے والے اس سے ہلاک ہوئے زیادہ سوال اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی وجہ سے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8773

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8774

8774 - وَبِهِ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، [ص:330] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لِحَيِّ بْنِ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قَصَبَةً فِي النَّارِ؛ كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کوفر ماتے ہوئے سنا:کہ میں نے عمرو بن لحیی ابن عامر الخزاعی کو دیکھا جہنم میں بانس کھینچتے ہوئے ، یہ سب سے پہلا ہے جس نے اونٹیوں کو چھوڑا (بتوں کے نام پر) کہ اب ان سے کام نہیں لیا جائے گا اور نہ ان پر سواری کی جائے گی۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، [ص:147] ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8774

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8775

8775 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي قَدِ اتَّخَذْتُ عِنْدِكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِكَ قُرْبَةً لَهُ إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کی:اے اللہ! میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں تو ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے ، کوئی مؤمن کو میری طرف سے تکلیف ہو یا اس کو کوڑا مارا ہو تو یہ اس کے لیے اپنے پاس قیامت کے دن ثواب کا سبب بنا دے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8775

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8776

8776 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:اللہ عزوجل ہلاک کرے یہود و نصاریٰ کو! انہوں نے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنایا۔

«قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8776

chevron_left Previous
1…91011…98
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male