المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8765
8765 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنِ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَتَى أَبُو طَلْحَةَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ، [ص:327] وَأَبُو طَلْحَةَ رَابُّهُ، فَقَالَ: أَعِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ شَيْءٌ؟ فَإِنِّي مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقْرِئُ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ سُورَةَ النِّسَاءِ، وَقَدْ رَبَطَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا مِنَ الْجُوعِ؟ فَقَالَتْ: كَانَ عِنْدِي شَيْءٌ مِنْ شَعِيرٍ، قَالَتْ: فَطَحَنْتُهُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَى الْأَسْوَاقِ، وَالْأَسْوَاقُ حَوَائِطُ لَهُمْ، فَأَتَيْتُهُمْ بِشَيْءٍ مِنْ حَطَبٍ، فَجَعَلْتُ مِنْهُ قُرْصًا، ثُمَّ قَالَ: أَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِنْ أُدْمٍ؟ فَقَالَتْ: قَدْ كَانَ عِنْدِي نِحْيٌ فِيهِ سَمْنٌ، فَلَا أَدْرِي أَبَقِيَ فِيهِ شَيْءٌ، فَأَتَتْ بِهِ فَعَصَرَتْهُ، فَقَالَ: إِنَّ عَصْرَ اثْنَيْنِ أَبْلَغُ مِنْ عَصْرِ وَاحِدٍ، فَعَصَرَا جَمِيعًا، فَأَخْرَجَا مِثْلَ التَّمْرَةِ قَالَ: فَدَهَنْتُ الْقُرْصَ، ثُمَّ دَعَانِي فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، تَعْرِفُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ: إِنِّي قَدْ تَرَكْتُهُ مَعَ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ يُقْرِئُهُمْ، فَادْعُهُ وَلَا تَدْعُ مَعَهُ غَيْرَهُ، انْظُرْ لَا تَفْضَحْنِي. فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «لَعَلَّ أَبَاكَ أَرْسَلَ إِلَيْنَا؟» قُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ لِلْقَوْمِ: «انْطَلِقُوا» ، فَانْطَلَقُوا يَوْمَئِذٍ وَهُمْ ثَمَانُونَ رَجُلًا، فَأَمْسَكَ بِيَدِي، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الدَّارِ نَزَعْتُ يَدِي مِنْ يَدِهِ، ثُمَّ إِنِّي أَقْبَلْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَجَعَلَ يَطْلُبُنِي فِي الدَّارِ، وَيَرْمِينِي بِالْحِجَارَةِ، وَيَقُولُ: فَضَحْتَنِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّهُ خَرَجَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: «لَا يَضُرُّكَ» ، فَأَمَرَهُمْ فَجَلَسُوا، ثُمَّ دَخَلَ فَأَتَيْنَا بِالْقُرْصِ، فَقَالَ: «هَلْ مِنْ أُدْمٍ؟» فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ كَانَ عِنْدَنَا نِحْيٌ، وَقَدْ عَصَرَتْهُ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمُّوهُ، فَإِنَّ عَصْرَ الثَّلَاثَةِ أَبْلَغُ مِنْ عَصْرِ اثْنَيْنِ» ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَصَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمَا، فَأَخْرَجُوا مِنْهُ مِثْلَ التَّمْرَةِ، فَمَسَحُوا بِهِ الْقُرْصَ، مَسَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: «ادْعُوا لِي عَشْرَةً عَشْرَةً» فَدَعَوْتُ عَشْرَةً فَجَلَسُوا، فَأَكَلُوا حَتَّى تَجَشَّأُوا شِبَعًا، فَمَا زَالُوا يَدْخُلُونَ عَشْرَةً عَشْرَةً حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَا مَعَهُ حَتَّى فَضَلَ «[ص:328] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ، وَلَا عَنْ سَعِيدٍ إِلَّا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، تَفَرَّدَ بِهِ: اللَّيْثُ»
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ابو طلحہ ، حضرت انس کی ماں اُم سلیم کے پاس آئے۔یہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پالنے والے ہیں، کہا: اے اُم سلیم! تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ کیونکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرکر آیا ہوں اس حال میں کہ آپ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر صفہ والوں کو سورۂ نساء پڑھار ہے تھے ، آپ نے کہا: میرے پاس تھوڑے سے جَو ہیں ، آپ فرماتی ہیں: میں نے ان کو پیا پھر مجھے بازار بھیجا، اس زمانے میں بازار چار دیواریوں میں ہوتے تھے۔ میں کچھ لکڑیاں لے آیا۔ اس سے میں نے ٹکیاں بنائیں ، پھر ابو طلحہ نے کہا: کوئی سالن؟ کہا: میرے پاس ایک برتن میں گھی پڑا تھا، دیکھتی ہوں ، معلوم نہیں کچھ باقی ہے کہ ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے لا کر اسے نچوڑا۔ ابو طلحہ نے کہا: دو کے نچوڑنے سے زیادہ نکلے گا۔ پھر دونوں کے مل کر نچوڑا، بس اتنا نکلا جتنی ایک کھجور ہوتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے وہ ٹکیوں کو لگایا ، پھر مجھے بلا کر فرمایا: اے بیٹے! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعارف ہے ، میں نے کہا: جی ہاں! میں دیکھ کر آیا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اصحاب صفہ کو پڑھار ہے ہیں آپ کو دعوت پیش کر ، آپ کے ساتھ کسی اور کو نہ بلانا ، دیکھ مجھے رسوا نہ کرنا۔ پس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ پس جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: شاید تیرے باپ نے تجھے ہماری طرف بھیجا ہے؟ میں نے عرض کی: ہاں! آپ نے تمام ساتھیوں سے فرمایا: چلو! وہ سب چلے ، اس دن تقریبا وہ اسّی آدمی تھے ۔ آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ جب میں اپنے گھر کے قریب ہوا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھٹرا لیا ، پھر آگے چل کر حضرت ابو طلحہ کو جا کر خبر دی، سو وہ گھر میں مجھے تلاش کر رہے تھے اور پھر سے مارنا چاہتے تھے۔ زبان سے کہہ رہے تھے انس تُو نے مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سا منے رسوا کر دیا۔ پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں (خیر ہے)۔ پس وہ سب آپ کے حکم سے بیٹھ گئے ، پھر آپ تشریف لائے، ہم نے ٹکیاں پیش کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا سالن ہے؟ اُم سلیم نے عرض کی: ہمارے پاس ایک چھوٹے مشکیزے میں گھی تھا۔ میں نے اور ابو طلحہ نے مل کر نچوڑا۔ آپ نے فرمایا: وہ لاؤ! اگر تین آدمی مل کر نچوڑیں گے تو دو کے نچوڑنے سے زیادہ نکلے گا ۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ نے ان دونوں کے ساتھ مل کر نچوڑا تو اس میں سے ایک کھجور کے برابر اور نکلا ، اس کو ٹکیوں پر لگا دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا برکت والا ہاتھ لگایا، پھر اس میں برکت کی دعا کی ، پھر فرمایا: دس دس کو میرے پاس بلاؤ! میں نے دس کو بلایا، انہوں نے بیٹھ کر کھایا وہ سیر ہو گئے ، یہاں تک کہ سارے سیر ہو گئے ، دس دس ہی آ کر داخل ہوتے رہے اور سیر ہوتے رہے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوئے ہم نے آپ کے ساتھ مل کر کھایا یہاں تک کہ وہ کھانا باقی بھی بچ گیا۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْقُرَظِيَّ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبٌ،
Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8765
