المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8657
8657 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عِيسَى الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْأَسَدِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَتْ جَارِيَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدِي اتَّهَمَنِي، فَأَقْعَدَنِي عَلَى النَّارِ حَتَّى احْتَرَقَ فَرْجِي، فَقَالَ لَهَا عُمَرُ: هَلْ رَأَى ذَلِكَ [ص:287] عَلَيْكِ؟ قَالَتْ: لَا قَالَ: فَاعْتَرَفْتِ لَهُ بِشَيْءٍ؟ قَالَتْ: لَا، فَقَالَ عُمَرُ: عَلَيَّ بِهِ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ الرَّجُلَ قَالَ: أَتُعَذَّبُ بِعَذَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اتَّهَمْتُهَا فِي نَفْسِهَا قَالَ: أَرَأَيْتَ ذَلِكَ عَلَيْهَا؟ قَالَ الرَّجُلُ: لَا قَالَ: أَفَاعْتَرَفَتْ لَكَ بِهِ؟ قَالَ: لَا قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يُقَادُ مَمْلُوكٌ مِنْ مَالِكِهِ، وَلَا وَلَدٌ مِنْ وَالِدِهِ» لَأَقَدْتُهَا مِنْكَ، فَبَرَزَهُ، فَضَرَبَهُ مِائَةَ سَوْطٍ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبِي، فَأَنْتِ حَرَّةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ، وَأَنْتِ مَوْلَاةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَرَّقَ بِالنَّارِ، أَوْ مَثَّلَ بِهِ فَهُوَ حَرٌّ، وَهُوَ مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ» قَالَ اللَّيْثُ: «هَذَا أَمْرٌ مَعْمُولٌ بِهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا عُمَرُ بْنُ عِيسَى، تَفَرَّدَ بِهِ: اللَّيْثُ "
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں آئی ، عرض کرنے گی: میرے آقا نے مجھ پر تہمت لگائی ، مجھے آگ پر بٹھایا ، یہاں تک کہ میری شرمگاہ جل گئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو کہا: کیا آپ نے اس پر کوئی شی دیکھی تھی؟ اس نے عرض کی: نہیں! آپ نے فرمایا: اس نے کسی شی کا اعتراف کیا تھا؟ اس نے عرض کی: نہیں! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس کو میرے پاس لاؤ! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آدمی کو دیکھا، آپ نے فرمایا: کیا تو اللہ عزوجل والا عذاب دیتا ہے؟ اس نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! کیا آپ ہم پر بہتان لگاتے ہیں؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے اس پر کسی کو دیکھا تھا؟ اس آدمی نے عرض کی: نہیں! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا اس نے کسی چیز کا اعتراف کیا تھا؟ اس نے عرض کی :نہیں! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ غلام کے مالک سے بدلہ نہیں لیا جائے گا، نہ والد سے اولاد کے حق میں تو میں تجھ سے بدلہ لیتا، اس کے لیے واضح ہوا کہ اس کو سو کوڑے مارے جائیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:تُو جا تُو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے تو اللہ اور اس کے رسول کی لونڈی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفر ماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے کسی کو آگ میں جلایا یا اس کی مثل کسی سے جلایا تو وہ اللہ اور اس کے رسول کا غلام ہے۔حضرت لیث فرماتے ہیں:یہ حکم قابل عمل ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عُمَرَ بْنِ عِيسَى الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْأَسَدِيِّ، ← اللَّيْثُ ← وبه
Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8657
