Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8657

8657 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عِيسَى الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْأَسَدِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَتْ جَارِيَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدِي اتَّهَمَنِي، فَأَقْعَدَنِي عَلَى النَّارِ حَتَّى احْتَرَقَ فَرْجِي، فَقَالَ لَهَا عُمَرُ: هَلْ رَأَى ذَلِكَ [ص:287] عَلَيْكِ؟ قَالَتْ: لَا قَالَ: فَاعْتَرَفْتِ لَهُ بِشَيْءٍ؟ قَالَتْ: لَا، فَقَالَ عُمَرُ: عَلَيَّ بِهِ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ الرَّجُلَ قَالَ: أَتُعَذَّبُ بِعَذَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اتَّهَمْتُهَا فِي نَفْسِهَا قَالَ: أَرَأَيْتَ ذَلِكَ عَلَيْهَا؟ قَالَ الرَّجُلُ: لَا قَالَ: أَفَاعْتَرَفَتْ لَكَ بِهِ؟ قَالَ: لَا قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يُقَادُ مَمْلُوكٌ مِنْ مَالِكِهِ، وَلَا وَلَدٌ مِنْ وَالِدِهِ» لَأَقَدْتُهَا مِنْكَ، فَبَرَزَهُ، فَضَرَبَهُ مِائَةَ سَوْطٍ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبِي، فَأَنْتِ حَرَّةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ، وَأَنْتِ مَوْلَاةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَرَّقَ بِالنَّارِ، أَوْ مَثَّلَ بِهِ فَهُوَ حَرٌّ، وَهُوَ مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ» قَالَ اللَّيْثُ: «هَذَا أَمْرٌ مَعْمُولٌ بِهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا عُمَرُ بْنُ عِيسَى، تَفَرَّدَ بِهِ: اللَّيْثُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں آئی ، عرض کرنے گی: میرے آقا نے مجھ پر تہمت لگائی ، مجھے آگ پر بٹھایا ، یہاں تک کہ میری شرمگاہ جل گئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو کہا: کیا آپ نے اس پر کوئی شی دیکھی تھی؟ اس نے عرض کی: نہیں! آپ نے فرمایا: اس نے کسی شی کا اعتراف کیا تھا؟ اس نے عرض کی: نہیں! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس کو میرے پاس لاؤ! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آدمی کو دیکھا، آپ نے فرمایا: کیا تو اللہ عزوجل والا عذاب دیتا ہے؟ اس نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! کیا آپ ہم پر بہتان لگاتے ہیں؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے اس پر کسی کو دیکھا تھا؟ اس آدمی نے عرض کی: نہیں! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا اس نے کسی چیز کا اعتراف کیا تھا؟ اس نے عرض کی :نہیں! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ غلام کے مالک سے بدلہ نہیں لیا جائے گا، نہ والد سے اولاد کے حق میں تو میں تجھ سے بدلہ لیتا، اس کے لیے واضح ہوا کہ اس کو سو کوڑے مارے جائیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:تُو جا تُو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے تو اللہ اور اس کے رسول کی لونڈی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفر ماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے کسی کو آگ میں جلایا یا اس کی مثل کسی سے جلایا تو وہ اللہ اور اس کے رسول کا غلام ہے۔حضرت لیث فرماتے ہیں:یہ حکم قابل عمل ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عُمَرَ بْنِ عِيسَى الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْأَسَدِيِّ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8657

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8658

8658 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ الْقُرَشِيِّ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ [ص:288] وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِنْ نِسَائِكُمْ فَلَا يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: اللَّيْثُ "

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ مہمان کی عزت کرے ، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کا خیال رکھے ، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ حمام میں داخل نہ ہو مگر چادر کے ساتھ ، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے تمہاری عورتوں میں سے وہ حمام میں داخل نہ ہوں ۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8658

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8659

8659 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ مَرَّ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى بَابِهِ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: مَا شَأْنُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، تُحَدِّثُ نَفْسَكَ؟ فَقَالَ: مَا لِي؟ يُرِيدُ عَدُوُّ اللَّهِ أَنْ يَلْفِتَنِي عَمَّا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِي: تُكَابِدُ الْآنَ دَهْرَكَ فِي بَيْتِكَ أَلَا تَخْرُجُ إِلَى الْمَجْلِسِ؟ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ عَادَ مَرِيضًا كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُعَزِّرُهُ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ جَلَسَ فِي بَيْتِهِ لَمْ يَغْتَبْ أَحَدًا بِسُوءٍ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ» ، فَيُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَنِي عَدُوُّ اللَّهِ مِنْ بَيْتِي إِلَى الْمَجْلِسِ « لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ مُعَاذٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: اللَّيْثُ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت معاذ کے پاس سے گزرے ، آپ اپنے دروازے پر کھڑے تھے، اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، گویا وہ اپنے آپ سے گفتگو کر رہے تھے، میں نے کہا:اے ابوعبدالرحمٰن! آپ اپنے آپ سے گفتگو کر رہے ہیں؟ حضرت معاذ نے فرمایا: مجھے کیا ہے؟ اللہ کا دشمن چاہتا ہے مجھ سے اچک لے ، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفر ماتے ہوئے سنا ہے، مجھے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے وہ اللہ کے ضامن میں ہے، جو مریض کی عیادت کرے وہ اللہ کے ضامن میں ہے ، جو مسجد کی طرف جائے وہ اللہ کے ضامن میں ہے، جو امام کے پاس جائے معذرت کے لیے وہ اللہ کے ضامن میں ہے ، جو اپنے گھر بیٹھے، کسی کی غیبت نہ کرے، برائی کے ساتھ تو وہ اللہ کے ضامن میں ہے، اللہ سے دشمنی رکھنے والے کو اپنے گھر سے نکالنا چاہتا ہو۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8659

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8660

8660 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ قَالَ: «فَمَا ذَاكَ؟» قَالَ: وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ لَهُ [ص:289] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقْ» قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، فَجَلَسَ وَأَتَى إِنْسَانٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا؟» ، فَقَالَ: هَا أَنَا ذَا قَالَ: «خُذْ هَذَا، فَتَصَدَّقْ بِهِ» قَالَ: عَلَى أَحْوَجِ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ مَا لِأَهْلِي طَعَامٌ قَالَ: «فَكُلُوهُ»

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا، اس نے عرض کی: میں ہلاک ہو گیا، آپ نے فرمایا: کیا ہوا؟ اس نے عرض کی: میں نے حالت ِروزہ میں اپنی بیوی سے جماع کیا رمضان میں ، آپ نے اسے فرمایا: تو صدقہ کر! اس نے عرض کی: میرے پاس کوئی شی نہیں ہے؟ کچھ لوگ آئے تو انہوں نے اپنے گدھے پر کھانے پینے کی اشیاء رکھی ہوئی تھیں، وہ آپ کے پاس لے کر آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:وہ آدمی کہاں ہے جس نے اپنے آپ کو ہلاک کیا ہے؟ اس نے عرض کی:میں یہاں ہی ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پکڑو اور صدقہ کرو، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں زیادہ ضرورت مند ہوں! میرے گھر والوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے ، آپ نے فرمایا: اسے خود کھاؤ!

عَائِشَةَ ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8660

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8661

8661 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي لَيْلَةٍ، فَإِذَا تَبَيَّنَ الْفَجْرُ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ، حَتَّى خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ»

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بارہ رکعت نفل ادا کرتے ، جب فجر ہوتی تو آپ دو رکعت پڑھتے ، پھر دائیں کروٹ کے بل لیٹ جاتے ، یہاں تک کہ نماز کا وقت ہو جاتا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8661

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8662

8662 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بِتُّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى بَلَغَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ نَوْمُهُ نَفْخًا، ثُمَّ نَادَاهُ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَخَرَجَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات گزاری‘ آپ اٹھے اور دو رکعتیں پڑھیں ، دس رکعتیں ادا فرمائیں، پھر تین رکعت وتر ادا کیے ، پھر لیٹ گئے آپ محو آرام ہو گئے ، یہاں تک کہ آپ کے آرام کرنے کی آواز آنے لگی ، پھر آپ کو نماز کے لیے اطلاع دینے کے لیے مؤذن آیا ، آپ نکلے اور آپ نے وضونہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8662

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8663

8663 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي النَّجِيبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: تَذَاكَرْنَا الْبَصَلَ وَالْكُرَّاثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: ثُمَّ مَا هُوَ شَرٌّ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا هُوَ؟» قَالَ: الثُّومُ، أَفَتُحَرِّمُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «لَا، وَمَنْ أَكَلَهُ فَلَا يَقْرَبِ الْمَسْجِدَ، حَتَّى تَذْهَبَ رَائِحَتُهُ»

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لہسن اور پیاز کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کر رہے تھے ، ایک آدمی نے کہا: پھر اس میں سے بُری کیا چیز ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ اس نے عرض کی: لہسن! کیا وہ حرام ہے؟ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں! جس نے کھایا ہے وہ مسجد میں نہ آئے ، یہاں تک کہ اس کی بو ختم ہو جائے ۔

الثُّومُ، أَفَتُحَرِّمُهُ ← رَسُولُ اللَّهِ «وَمَا هُوَ؟» ← رَجُلٌ: ثُمَّ مَا هُوَ شَرٌّ مِنْهُ، ← تَذَاكَرْنَا الْبَصَلَ وَالْكُرَّاثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي النَّجِيبِ ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8663

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8664

8664 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي النَّجِيبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، وَكَانَ فِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ [ص:290] حَرِيرٌ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ مَحْزُونًا، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَتْ لَهُ: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ جُبَّتَكَ وَخَاتَمَكَ، فَأَلْقِهِمَا، فَأَلْقَاهُمَا، ثُمَّ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْتُكَ آنِفًا فَأَعْرَضْتَ عَنِّي؟ فَقَالَ: «إِنَّهُ كَانَ فِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ» قَالَ: لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَبِيرٍ، فَقَالَ: «إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ لَيْسَ بِأَجْدَى عَنْكَ مِنْ حِجَارَةِ الْحَرَّةِ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا» قَالَ: فَبِمَاذَا أَتَخَتَّمُ؟ قَالَ: «حَلْقَةً مِنْ وَرِقٍ، أَوْ حَدِيدٍ، أَوْ صُفْرٍ»

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بحرین سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا کیونکہ اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی اور اس نے ریشم کا جبّہ زیب تن کیا ہوا تھا ، وہ آدمی پریشان ہو کر واپس گیا، اس نے اپنی بیوی سے شکایت کی تو اس کی بیوی نے کہا: ہوسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیری انگوٹھی اور جبّہ کو ناپسند کیا ہو، دونوں کو اتار دے، اس نے ا تارا ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے سلام کیا ، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ اس نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ابھی ابھی میں آپ کے پاس آیا تھا تو آپ نے مجھ سے اعراض فرمایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے ہاتھ میں جہنم کا انگارہ تھا ، تو نے بہت زیادہ انگارے پہنے تھے۔ اس نے عرض کی: میں انگوٹھی کس کی بناؤں؟ آپ نے فرمایا: چاندی کا حلقہ ہو، یا لوہے کا یا زرد رنگ کا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي النَّجِيبِ ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8664

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8665

8665 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ تَوْبَةَ بْنِ نَمِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: «أَعْتَقَ رَجُلٌ فِي وَصِيَّتِهِ سِتَّةَ أَرْؤُسٍ لَهُ، لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَسْهَمَ عَلَيْهِمْ، فَأَخْرَجَ ثُلُثَهُمْ»

حضرت ابو امامہ البابلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی وصیت میں چھ غلام آزاد کرنے کا کہا ، اس کے علاوہ اس کے پاس مال بھی نہیں تھا۔ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے غصہ فرمایا ، پھر ان حصوں کو منگوایا اور ان میں سے تہائی نکالا ۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← تَوْبَةَ بْنِ نَمِرٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8665

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8666

8666 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ شُعْبَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، مَرَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَهُوَ يُصَلِّي مَضْفُورَ الرَّأْسِ، مَعْقُودَ مِنْ وَرَائِهِ، فَتَوَقَّفَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْرَحْ، فَحَلَّ عُقْدَةَ رَأْسِهِ، وَأَقَرَّ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَلِّهِ، ثُمَّ جَلَسَ، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الْحَارِثِ مِنَ الصَّلَاةِ أَتَاهُ، فَقَالَ: عَلَامَ صَنَعْتَ بِرَأْسِي آنِفًا؟ فَقَالَ: إِنِّي [ص:291] سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُودٌ مِنْ وَرَائِهِ كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي مُلْفُوفًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ إِلَّا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام حضرت کریب سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت عبداللہ بن حارث بن ربیعہ کے پاس سے گزرے اس حالت میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ، اپنے سر کو جوڑا بنا کر اور باندھا پیچھے سے تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے پاس ٹھہرے اس جگہ سے ہٹے نہیں ، ان کے سر سے کھولنے لگے ، حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے رہے یہاں تک کہ حضرت ابن عباس کھول کر فارغ ہوئے ، پھر بیٹھے جب حضرت ابن حارث نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ کے پاس آئے ، آ کر بتانے لگے تو آپ نے میرے سر کے ساتھ ایسے ایسے کیا ہے؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفر ماتے ہوئے سنا ہے کہ جو نماز پڑھے اس حالت میں کہ اپنا سر باندھے ہوئے ہو پیچھے سے اس کی مثال اس طرح ہے جو نماز پڑھتا ہے لپٹے ہوئے ۔

شُعْبَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8666

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8667

8667 - وَبِهِ قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «رَوْحَةٌ أَوْ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شُرَحْبِيلَ إِلَّا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ "

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ایک صبح شام اللہ کی راہ میں کرنا بہتر ہے، اس سے جس پر سورج طلوع اور غروب ہوا ہو۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيکٍ الْمَعَافِرِيُّ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8667

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8668

8668 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: «تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ؟» فَقَالَ عَمْرٌو: أَبْصِرْ مَا تَقُولُ قَالَ: «أَقُولُ لَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: «لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ، إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعًا، إِنَّهُمْ لَأَسْرَعُ النَّاسِ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ، وَإِنَّهُمْ لَخَيْرُ النَّاسِ لِمِسْكِينٍ وَفَقِيرٍ وَضَعِيفٍ، وَإِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ، وَالرَّابِعَةُ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ: أَنَّهُمْ أَمْنَعُ النَّاسِ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوكِ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ "

حضرت مستورد سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمرو بن عاص سے عرض کی : قیامت آئے گی اس حالت میں کہ روم کے لوگ زیادہ ہوں گے؟ حضرت عمرو نے فرمایا:دیکھیں آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے کہا میں وہی کہتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اگر تو نے کہا ہے ان میں چار باتیں ہیں ، یہ لوگ زیادہ تیز ہیں جانے کے بعد لوٹنے والے ، یہ لوگ مسکین فقیر کمزور لوگوں کے لیے بہتر ہیں ، یہ لوگ فتنوں کے وقت بردباری کرنے والے ہیں ، اچھی نیکی کرنے والے ہیں ، یہ لوگوں کو غلاموں پر ظلم کرنے سے روکتے ہوں گے ۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8668

chevron_left Previous
1234…98
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male