المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 4361
4361 - م حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَأُعْتِقَهَا، الْبَيْعُ جَائِزٌ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ» ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَا أَدْرِي مَا قَالَا:
حضرت عبدالوارث بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکہ آیا تو وہاں میری حضرت ابو حنیفہ ‘بن ابی لیلیٰ اور ابن شبرمہ سے بات ہوئی‘میں نے ابو حنیفہ سے پوچھا: آپ اس آدمی کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو آدمی کاروبار کرتا ہے اور کوئی شرط لگاتا ہے؟آپ نے فرمایا وہ کاروبار بھی باطل ہے اور شرط بھی۔پھر میں ابن ابی لیلی ٰ کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا :بیع جائز ہے ‘شرط باطل ہے۔پھر میں ابن شبرمہ کے پاس آیا اور اُن سے پوچھا آپ نے فرمایا :بیع جائز ہے ‘اور شرط بھی جائز ہے۔میں نے دل میں کہا اللہ پاک ہے‘عراق میں تین فقیہ ہیں ‘ایک مسٔلہ میں اختلاف کررہے ہیں۔میں حضرت امام ابو حنیفہ کے پاس آیا‘تو میں نے آپ کو بتایا ‘آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا ہوں کہ دونوں نے کیا کہا ہے۔مجھے عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے‘انہوں نے اپنے دادا سے بیان کیاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع اور شرط سے منع کیا‘بیع باطل اور شرط باطل ہے۔پھر میں حضرت ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا‘تو میں نے آپ کو بتایا آپ نےفرمایا:میں نہیں جانتا ہوں کہ دونوں نے کیا کہا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ بریرہ کو خریدنے اور اس کو آزاد کرنے کابیع جائز اور شرط باطل کرنے کا‘پھر میں ابن شبرمہ کے پاس آیا‘اور میں نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا:میں نہیں جانتا ہوں کہ دونوں نے کیا کہا ہے۔جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی خریدی اور میرے لیے مدینہ تک سوار ہو کرجانے کی شرط لگائی‘بیع بھی جائز اور شرط بھی جائز ہے۔
أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← 4332م-
Al Muajam Al Awsat Tibrani · The door of the eye › His name is Abd Allah · Hadith 4361
