Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7760

7760 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، نَا أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَخِي يَزِيدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي لَبَطَةُ بْنُ الْفَرَزْدَقِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ: يَا فَرَزْدَقُ، إِنِّي أَرَاكَ صَغِيرَ الْقَدَمَيْنِ، فَإِنْ أَمْكَنَكَ أَنْ يَكُونَ لَهُمَا عِنْدَ الْحَوْضِ مَكَانٌ فَافْعَلْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «حَوْضِي مَا بَيْنَ عُمَانَ وَأَيْلَةَ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، آنِيَتُهُ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ لَبَطَةَ بْنِ الْفَرَزْدَقِ إِلَّا يَزِيدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَلَا رَوَاهُ عَنْ يَزِيدَ إِلَّا أَخُوهُ أَبُو عُبَيْدَةَ "

حضرت لبطہ بن فرزدق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے فرزدق! میں آپ کے دونوں پاؤں چھوٹے دیکھ رہا ہوں ، اگر تو قدرت رکھے حوض کوثر پر جانے کی تو تُو کر ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میرے حوض کی لمبائی عمان اور ایلہ کے درمیان جتنی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ، اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں جو اس سے ایک مرتبہ پئے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا ۔

لِي أَبُو هُرَيْرَةَ: يَا فَرَزْدَقُ، إِنِّي أَرَاكَ صَغِيرَ الْقَدَمَيْنِ، فَإِنْ أَمْكَنَكَ ← أَبِيهِ ← لَبْطَةَ بْنِ الْفَرَزْدَقِ؛ ← أَخِي يَزِيدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7760

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7761

7761 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثَنَا أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قُلْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتَ مِنْهُ، وَلَا تَحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِكَ، وَإِنْ كَانَ ثِقَةً قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا بَيْنَ السُّرَّةِ إِلَى الرُّكْبَةِ عَوْرَةٌ» وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ» وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «شِرَارُ أُمَّتِي قَوْمٌ وُلِدُوا فِي النَّعِيمِ وغُذُّوا بِهِ، يَأْكُلُونَ مِنَ الطَّعَامِ أَلْوَانًا، يَتَشَدَّقُونَ فِي الْكَلَامِ» وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا بَنِي هَاشِمٍ، إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ اللَّهَ لَكُمْ أَنْ يَجْعَلَكُمْ نُجَبَاءَ رُحَمَاءَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يَهْدِيَ ضَالَّكُمْ، وَيُؤَمِّنَ خَائِفَكُمْ، ويُشْبِعَ جَائِعَكُمْ» «وَرَأَيْتُ فِي يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِثَّاءَةً، وَفِي شِمَالِهِ رُطَبَاتٍ، وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ ذَا مَرَّةً، وَمَنْ ذَا مَرَّةً» وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ وأَرْغِفَةٌ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَأْكُلُونَ، [ص:373] وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «عَلَيْكُمْ بِلَحْمِ الظَّهْرِ، فَإِنَّهُ مِنْ أَطْيَبِهِ» «وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» «وَكَانَ مَهْرُ فَاطِمَةَ بُدْنَ حَدِيدٍ» وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَتَاهُ الْعَبَّاسُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي انْتَهَيْتُ إِلَى قَوْمٍ يَتَحَدَّثُونَ، فَلَمَّا رَأَوْنِي سَكَتُوا، وَمَا ذَاكَ إِلَّا أَنَّهُمْ يَبْغَضُونَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ قَدْ فَعَلُوهَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُهُمْ حَتَّى يُحِبَّكُمْ، أَيَرْجُونَ أَنْ يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي وَلَا يَرْجُوهَا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو الْأَشْعَثِ "

حضرت ابو جعفر محمد بن علی فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن جعفر سے عرض کی: ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے حدیث بیان کریں اور آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کرسنی ہو ، اس کے علاوہ ہم کو بیان نہ کرنا، اگرچہ وہ ثقہ ہو۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ناف سے لے کر گھٹنوں تک شرمگاہ ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ صدقہ اللہ کے غضب کو ختم کرتا ہے اور میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کے شرارتی لوگ وہ ہوں گے جو نعمتوں میں پیدا ہوئے ہوں گے، اس مال داری میں ان کی پرورش ہوئی ہو گی مختلف رنگوں کے کھانے کھائیں گے اور مختلف قسم کے مشروبات پیئیں گے ، شوخ کلام کریں گے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اے بنی ہاشم! میں نے تمہارے لیے اللہ عزوجل سے شریف اور رحیم لوگوں کا سوال کیا۔ میں نے تمہارے لیے گمراہی سے ہدایت مانگی ہے ، تم خوف سے ایمان لاؤ اور تمہارے بھو کے سیر ہوں۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں ہاتھ میں ککڑی دیکھی اور بائیں ہاتھ میں تازہ کھجوریں ، ایک مرتبہ اس کو کھاتے اور ایک مرتبہ اس کو کھاتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پشت کا گوشت کھاؤ کیونکہ وہ زیادہ پاک ہوتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو سنتوں میں اور مغرب کے دونفلوں میں قل یا ایها الکافرون اور قل هو الله احد پڑھتے تھے۔حضرت فاطمہ کا مہر لوہا تھا۔ میں نے حضور صلی اللہ علہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:اس حالت میں کہ آپ کے پاس حضرت عباس آئے ، انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں ایسی قوم کے پاس گیا جو گفتگو کر رہے تھے ، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو وہ خاموش ہو گئے ، ایسا انہوں نے ہم سے بغض کی وجہ سے کیا ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا انہوں نے ایسا کیا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! کوئی ایمان والانہیں ہوسکتا ہے ، یہاں تک کہ تم سے محبت نہ کر لے ، کیا خود میری شفاعت کی وجہ سے جنت میں داخل ہونے کی امید رکھتے ہیں اور بنو عبدالمطلب کے لیے امید نہیں رکھتے ۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7761

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7762

7762 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نَا أَبُو الْأَشْعَثِ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصْلُحُ الْمَسْأَلَةُ لَغَنِيٍّ، إِلَّا مِنْ ذِي رَحِمٍ، أَوْ سُلْطَانٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَمُرَةَ إِلَّا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَلَا عَنْ شَهْرٍ إِلَّا الْعَوَّامُ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ "

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مال دار کے لیے مانگنا بہتر نہیں ہے سوائے رشتہ دار اور بادشاہ سے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ خِرَاشٍ ← أَبُو الْأَشْعَثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7762

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7763

7763 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نَا أَبُو الْأَشْعَثِ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ صَبْرٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» [ص:374] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ إِلَّا الْعَوَّامُ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ "

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال لیا ، وہ اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس ہے ناراض ہو گا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ خِرَاشٍ ← أَبُو الْأَشْعَثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7763

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7764

7764 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، نَا بِشْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّفِّ وَقَدْ تَمَّ، فَلْيَجْذِبْ إِلَيْهِ رَجُلًا يُقِيمُهُ إِلَى جَنْبِهِ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: بِشْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی صف تک پہنچے اس حالت میں کہ صف مکمل ہو گئی ہو تو وہ کسی آدمی کو اپنے ساتھ کرے ، اس کے پاس کھڑ ا ہو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ ← بِشْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7764

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7765

7765 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، نَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّازِيُّ، نَا أَبُو حَرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي حَرَّةَ إِلَّا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْإِمَامُ النَّجَّارُ الرَّازِيُّ "

حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا ، اچھا کیا ، جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو حُرَّةَ ← حَفْصِ بْنِ عُمَرَ الرَّازِيٍّ، ← حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7765

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7766

7766 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقُلُوسِيُّ، ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا حُلْوُ بْنُ السَّرِيِّ الْأَوْدِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ يَتَغَنَّى، وَيَدَعُ أَنْ يَقْرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حُلْوِ بْنِ السَّرِيِّ إِلَّا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ "

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے کسی ایک کو اس حال میں نہ پاؤں کہ اس نے اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر دہری ہو ، پھروہ گانے ، گانے میں لگا ہو ہو اور سورہ بقرہ پڑھنے کو چھوڑنے والا ہو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← حُلْوُ بْنُ السَّرِيِّ الْأَوْدِيُّ، ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقُلُوسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7766

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7767

7767 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَنْبَسَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْخَفَّافِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ، [ص:375] عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُئِلَ شَيْئًا فَأَرَادَ أَنْ يَفْعَلَهُ قَالَ: «نَعَمْ» ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ لَا يَفْعَلَ سَكَتَ، وَكَانَ لَا يَقُولُ لِشَيْءٍ: لَا، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ، فَسَأَلَهُ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَهَيْئَةِ الْمُنْتَهِرِ: «سَلْ مَا شِئْتَ يَا أَعْرَابِيُّ» ، فَغَبِطْنَاهُ، فَقُلْنَا: الْآنَ يَسْأَلُ الْجَنَّةَ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَسْأَلُكَ رَاحِلَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكَ ذَاكَ» ، ثُمَّ قَالَ: «سَلْ» قَالَ: أَسْأَلُكَ زَادًا قَالَ: «وَلَكَ ذَاكَ» قَالَ: فَتَعَجَّبْنَا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ بَيْنَ مَسْأَلَةِ الْأَعْرَابِيِّ وعجوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ مُوسَى لَمَّا أُمِرَ أَنْ يَقْطَعَ الْبَحْرَ فَانْتَهَى إِلَيْهِ، فَضُرِبَتْ وُجُوهُ الدَّوَابِّ، فَرَجَعَتْ، فَقَالَ مُوسَى: مَا لِيَ يَا رَبِّ، قَالَ لَهُ: إِنَّكَ عِنْدَ قَبْرِ يُوسُفَ، فَاحْتَمِلْ عِظَامَهُ مَعَكَ، وَقَدِ اسْتَوَى الْقَبْرُ بِالْأَرْضِ، فَجَعَلَ مُوسَى لَا يَدْرِي أَيْنَ هُوَ، قَالُوا: إِنْ كَانَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَعْلَمُ أَيْنَ هُوَ، فعجوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَعَلَّهَا تَعْلَمُ أَيْنَ هُوَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: هَلْ تَعْلَمِينَ أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: فَدُلِّيني عَلَيْهِ، قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تُعْطِيَنِي مَا أَسْأَلُكَ، قَالَ: ذَاكَ لَكِ، قَالَتْ: فَإِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِي الدَّرَجَةِ الَّتِي تَكُونُ فِيهَا فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: سَلِي الْجَنَّةَ، قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ، فَجَعَلَ مُوسَى يُرَادُّهَا، فَأَوْحَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَيْهِ: أَنْ أَعْطِهَا ذَلِكَ، فَإِنَّهُ لَا يَنْقُصُكَ شَيْئًا، فَأَعْطَاهَا وَدَلَّتْهُ عَلَى الْقَبْرِ، فَأَخْرَجَ الْعِظَامَ وجَاوَزَ الْبَحْرَ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهِ عَنْهُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقُلُوسِيُّ "

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی گئی تو آپ نے اسے پورا کرنے کا ارادہ فرما کر کہا: ہاں! اور جب وہ کام کرنے کا ارادہ نہ ہوا تو خاموش رہے، آپ کسی شے کے بارے میں نہیں نہ کہتے ۔ ایک دیہاتی آیا ، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔ آپ خاموش رہے ، اس نے پھر مانگا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش رہے ، اس نے پھر سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : جیسے جھڑکنے والے کا انداز ہوتا ہے: اے بدو! مانگ جو چاہتا ہے! ہمیں یہ دیکھ کر اس پر رشک آیا اور ہم نے اپنے دل میں کہا: ابھی جنت مانگے گا ، لیکن اعرابی نے کہا: سواری عنایت فرماؤ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: وہ تجھے مل گئی ، پھر فرمایا: مانگ! اس نے زاد راہ مانگا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرا ہو گیا۔ اس سے ہم نے بڑا تعجب کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بدو اور بنی اسرائیل کی بڑھیا کے سوال میں کتنا فرق ہے! پھر فرمایا: حضرت موسیٰ کو جب سمندر پار کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ اس تک آئے ، پھر سوار یوں کے منہ پر مارا، وہ واپس لوٹے۔موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے اللہ! مجھے کیا ہوا؟ فرمایا: آپ یوسف علیہ السلام کی قبر کے پاس ہیں ، ان کی میت کو اٹھا کر ساتھ لے چلو ، جبکہ ان کی قبر زمین کے برابر ہو چکی تھی ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہنا شروع کر دیا: وہ نہیں جانتے وہ کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: تم میں سے کوئی ہے جس کو معلوم ہو کہ وہ کہاں ہے۔ سو بنی اسرائیل کی بڑھیا ممکن ہے اس کو جانتی ہو کہ وہ کہاں ہے ۔موسیٰ علیہ السلام نے اس کی طرف قاصد بھیج کر کہا: کیا تو جانتی ہے کہ یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے؟ اس نے کہا: ہاں! فرمایا :اس پر میری راہنمائی کرو! اس نے عرض کی: نہیں ! تم ہے جب تک آپ میرا سوال پورا نہ کریں ۔ آپ نے فرمایا: تیرا سوال پورا کروں گا۔اس نے کہا: میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ اسی درجہ میں ہوں جس درجہ میں آپ ہوں ۔ آپ نے فرمایا: بس جنت کا سوال کر ( باقی بات کو چھوڑ ٰ۔ اس نے عرض کی :نہیں قسم بخدا! میں آپ کا ساتھ مانگتی ہوں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام مسلسل اس کا سوال ردّ کرتے رہے تو اللہ نے آپ کی طرف وحی کی کہ اس کو دے دے ، یہ چیز تیری کوئی شی کم نہ کرے گا ۔ آپ نے اس کو جنت دے دی ، اس نے قبر پر راہنمائی کی ، آپ نے میت نکالی اورسمندر پار کر گئے ۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7767

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7768

7768 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ [ص:376] عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، نَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهِ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ بِيَمِينٍ يَحْلِفُهَا عَلَى مِنْبَرِي بِغَيْرِ حَقٍّ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُرْوَةَ إِلَّا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ عُمَرَ إِلَّا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ "

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے منبر کے پاس ناحق قسم کھا کر کسی آدمی کاحق لیا تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ الْعَدَوِيِّ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ [ص:376] عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، ← حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7768

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7769

7769 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّبَالِيُّ، نَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، نَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، نَا الْحَسَنُ قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ: «مَا قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: الرَّبَالِيُّ "

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علہ وآلہ وسلم جب بھی ہمارے درمیان کھڑے ہوتے تو آپ ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیتے اور مثلہ سے منع کرتے۔

يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: الرَّبَالِيُّ ← الْمُثْلَةِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ: «مَا قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، وَنَهَانَا ← الْحَسَنِ، ← یزید بن اِبراھیم التستری ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّبَالِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7769

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7770

7770 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، نَا الْحَسَنُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ نَدَبَةَ، نَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالَ: «ادْنُهْ، وَكُلْ وَسَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ إِلَّا الْحَسَنُ بْنُ حَبِيبٍ "

حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔، آپ کے آ گے کھانا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جاؤ ! اللہ کے نام لے کر کھاؤ اور دائیں جانب سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔

عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْحَسَنُ بْنُ حَبِیبِ بْنِ نُدْبَۃَ ← حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7770

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7771

7771 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، نَا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ نَمِرٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْكُوفَةِ عَشِيَّةَ جُمُعَةٍ، وَعَلِيٌّ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَامُوا مِنْ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ يُحَكِّمُونَ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ: «كَلِمَةٌ حَقٌّ يُبْتَغَى بِهَا بَاطِلٌ، حُكْمُ اللَّهِ أَنْتَظِرُ فِيكُمْ، أَنْ أَحْتَكِمَ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقْسِمَ بَيْنَكُمْ بِالسَّوِيَّةِ، وَلَا يَمْنَعْكُمْ مِنْ هَذَا الْمَسْجِدِ أَنْ تُصَلُّوا فِيهِ مَا كَانَتْ أَيْدِيكُمْ مَعَ أَيْدِينَا، وَلَا نُقَاتِلُكُمْ حَتَّى تُقَاتِلُونَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَارِثِ بْنَ حَصِيرَةَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفَيُّ

حضرت کثیر بن نمر فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کی رات کوفہ کی مسجد میں داخل ہوا ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ، مسجد کے اردگرد لوگ کھڑے ہوئے فیصلہ کرنے لگے، آپ نے اپنے ہاتھ سے ایسے کیا، پھر فرمایا: کلمہ حق کے ذریعے باطل چاہا ہے ، اللہ فیصلہ کرے گا ، میں انتظار کرتا ہوں اگر تمہارے درمیان کتاب اللہ اور سنت رسول کے ذریعے فیصلہ کروں اور تمہارے درمیان برابری کروں تقسیم کرتے وقت تم میں سے کوئی اس مسجد سے نماز پڑھنے سے نہ رُکے ، جب تک تمہارے ہاتھ ہمارے ہاتھوں میں ہیں ، ہم نہیں لڑیں گے ، یہاں تک کہ تم ہم سے لڑو۔

كَثِيرِ بْنِ نَمِرٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7771

chevron_left Previous
1…89909192
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi36. One of his name is Ishmael37. One of his name is Issac38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani43. One of his name is Idris44. One of his name is Job45. His name is Anas46. Who is named Aban?47. Of his name: Aslam48. His name is Al-Ahwas49. Of whose name is Azhar50. One of his name is black51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male