Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7628

7628 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْأَدَمِيُّ، نَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّرْمَقِيُّ، نَا سَهْلُ بْنُ عَبْدَوَيْهِ السِّنْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَزْلُ، فَقَالَ: «لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، تَفَرَّدَ بِهِ: سَهْلُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ السِّنْدِيُّ "

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں عزل کا ذکر کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں ، لیکن یہ تقدیر کا فیصلہ ہے۔

«لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← لِرَسُولِ اللَّهِ الْعَزْلُ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ← ابْنِ عَوْنٍ ← عبد الله بن العلاء بن شيبة ← سَهْلُ بْنُ عَبْدَوَيْهِ السِّنْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّرْمَقِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْأَدَمِيُّ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7628

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7629

7629 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الرَّازِيُّ، نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَهَنَ لِحْيَتَهُ بَدَأَ بِعَنْفَقَتِهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، تَفَرَّدَ بِهِ: عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ "

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب داڑھی شریف کو تیل لگاتے تو آپ کی داڑھی چمکتی تھی۔

عَائِشَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَيْلِيِّ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الرَّازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7629

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7630

7630 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الرَّازِيُّ، نَا الْفُرَاتُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: لَقِيَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي وصافَحَنِي، وَضَحِكَ فِي وَجْهِي، ثُمَّ قَالَ: تَدْرِي لِمَ أَخَذْتُ بِيَدِكَ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنِّي ظَنَنْتُكَ لَمْ تَفْعَلْهُ إِلَّا لَخَيْرٍ، [ص:325] فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَنِي فَفَعَلَ بِي ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: «أَتَدْرِي لِمَ فَعَلْتُ بِكَ ذَلِكَ؟» فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَيْنِ إِذَا الْتَقَيَا وتَصَافَحَا وَضَحِكَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي وَجْهِ صَاحِبِهِ، لَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ إِلَّا لِلَّهِ، لَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُمَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ إِلَّا الْفُرَاتُ بْنُ خَالِدٍ "

حضرت ابو داؤد فرماتے ہیں کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے ملاقات کی ، میرا ہاتھ پکڑا ، اور مصافحہ کیا اور مسکرائے ، پھرفرمایا: تم جانتے ہو میں نے تمہارا ہاتھ کیوں پکڑا؟ میں نے کہا ، نہیں! میرا خیال ہے کہ آپ نے ایسا نیکی کے لیے کیا ہے ۔ حضرت براء نے فرمایا : کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے ملے میرے ساتھ ایسے ہی کیا، پھر فرمایا: آپ کو معلوم ہے کہ میں نے ایسے کیوں کیا؟ میں نے عرض کی نہیں! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو مسلمان جب ملتے ہیں تو دونوں مصافحہ کرتے ہیں ، ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ، دونوں اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہوں تو دونوں کے جدا ہونے سے پہلے ان کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں۔

«لَقِيَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَصَافَحَنِي، وَضَحِكَ فِي وَجْهِي، ثُمَّ ← أَبِي دَاوُدَ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← الْفُرَاتُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الرَّازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7630

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7631

7631 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، نَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّرْمَقِيُّ، نَا سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ يَكُنْ شِرْكٌ مُنْذُ أُهْبِطَ آدَمُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ إِلَّا كَانَ بَدْؤُهُ التَّكْذِيبَ بِالْقَدَرِ، وَمَا أَشْرَكَتْ أُمَّةٌ إِلَّا بتكذيبٍ بِالْقَدَرِ، وَإِنَّكُمْ سَتُبْتَلُونَ بِهِ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَكُونُوا أَنْتُمْ سَائِلِينَ، وَلَا تُمَكِّنُوهُمْ مِنَ الْمِلَّةِ، فَيُدْخِلُوا عَلَيْكُمُ الشُّبُهَاتِ»

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام کے زمین پر اترنے سے پہلے شرک نہیں تھا ، ہاں تقدیر کو جھٹلانے والوں نے ایسے شروع کیا ، جو کوئی امت شرک کرے گی وہ تقدیر کو جھٹلائے گی، اے امت! تم عنقریب آزمائے جاؤ گے! جب تم ان سے ملو تو سائل بن جاؤ! ان کوقدرت نہ دو، وہ تمہیں ملت سے جدا کر دیں، تمہارے اوپر شبہات داخل کریں گے ۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّرْمَقِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7631

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7632

7632 - وَبِهِ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، وَقَضَى الْقَضِيَّةَ، وَأَخَذَ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، فَأَخَذَ أَهْلُ الْإِيمَانِ بِيَمِينِهِ، وَأَخَذَ أَهْلُ الشَّقَاءِ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، وَكِلْتَا يَدَيِ الرَّحْمَنِ يَمِينٌ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْيَمِينِ، قَالُوا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ قَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى، ثُمَّ خُلِّطَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: رَبَّنَا، لِمَ خَلَطْتَ بَيْنَنَا؟ فَقَالَ: {لَهُمْ أَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذَلِكَ هُمْ لَهَا عَامِلُونَ} [المؤمنون: 63] {أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ} [الأعراف: 173] فَخَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، وَقَضَى الْقَضِيَّةَ، وَأَخَذَ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، فَأَهَلُ الْجَنَّةِ أَهْلُهَا، وَأَهْلُ النَّارِ أَهْلُهَا» فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «يَعْمَلُ كُلُّ قَوْمٍ [ص:326] لِمَا خُلِقُوا لَهُ، أَهْلُ الْجَنَّةِ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ» فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أَعْمَالَنَا هَذِهِ أَشَيْءٌ نَبْتَدِعُهُ أَوْ شَيْءٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟ قَالَ: «عَلَى شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ» قَالَ: فَالْآنَ نَجْتَهِدُ فِي الْعِبَادَةِ « لَمْ يَرْوِ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ إِلَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَظُنُّهُ: ابْنَ عُمَرَ الْمَكِّيَّ، تَفَرَّدَ بِهِمَا: سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ»

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے مخلوق کو پیدا کیا اور فیصلہ کیا اور انبیاء سے پختہ وعدہ لیا، اس وقت عرش پانی پر تھا، ایمان والوں کو دائیں دست قدرت سے پکڑا اور بد بخت لوگوں کو بائیں دست قدرت سے پکڑا ، رحمنٰ کے دونوں دست قدرت دائیں تھے ، فرمایا: اے دائیں طرف والو ! انہوں نے عرض کی : لبیک وسعدیک! فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں ، پھر ان کو آ پس میں ملایا، ان میں سے ایک کہنے والے نے عرض کی :اے رب! ہم کو آپس میں کیوں ملایا ؟ فرمایا: ’’لهم اعمال الى آخرہ ‘‘۔ اللہ عزوجل نے مخلوق کو پیدا کیا اور فیصلہ کیا، انبیاء سے پختہ وعدہ لیا، اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا، جنت والے اور دوزخ والے تھے۔ قوم میں سے ایک آدمی نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! عمل کرنے کی کیا ضرورت؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہرقوم وہی عمل کرتی ہے جس کے لیے پیدا کی گئی ہے ، جنت والے جنتی اور دوزخ والے دوزخی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! بتائیں کہ ہم ایسے عمل کریں جو نئے ہیں یا جس کو لکھا جا چکا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی عمل کرو گے جو لکھے جا چکے ہیں! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی؟ ہم عبادت کے لیے کوشش کریں گے۔

وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7632

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7633

7633 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الرَّازِيُّ، نَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: ارْتَدَّ نَبْهَانُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ أَمْكِنِّي مِنْ نَبْهَانَ فِي عُنُقِهِ حَبْلٌ أَسْوَدُ» ، فَالْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِنَبْهَانَ قَدْ أُخِذَ، وَجَعَلُوا فِي عُنُقِهِ حَبْلًا أَسْوَدَ، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيْفَ بِيَمِينِهِ، وَالْحَبْلَ بِشِمَالِهِ لِيَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمَطْتَ عَنْكَ قَالَ: فَدَفَعَ السَّيْفَ إِلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهَ» قَالَ: فَانْطَلَقَ بِهِ، فَضَحِكَ نَبْهَانُ، وَقَالَ: أَيَقْتُلُونَ رَجُلًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟ فَخَلَّى عَنْهُ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيِّ إِلَّا حَكَّامٌ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبہان تین مرتبہ مرتد ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی، اے اللہ! مجھے نبہان پر قدرت دے کہ اس کی گردن میں کالی رسّی ہو، میں نے دیکھا تو مہان تھا پکڑے ہوئے ، اس کی گردن میں کالی رسّی رکھی گئی ، اس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا ، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلوار پکڑی اپنے دائیں ہاتھ سے اور بائیں ہاتھ سے رسّی ، تاکہ اس کوقتل کریں ۔ انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اگر اس تکلیف کو اپنے سے دور کریں! تو آپ نے تلوار ایک آدمی کی طرف کی ، فرمایا: اس کو لے جاؤ اور اس کی گردن اڑا دو ۔ اس کو لے جایا گیا ، نبہان مسکرایا اور کہنے لگا: کیا تم اپنے آدمی کوقتل کرتے ہو ، جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیتا ہے ، اس کا راستہ چھوڑ دیا گیا۔

رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← ارْتَدَّ نَبْهَانُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبَانُ، ← طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو ← حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الرَّازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7633

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7634

7634 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْأَدَمِيُّ، نَا سَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ، ثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ ثَلَاثًا» [ص:327] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَالِكٍ إِلَّا مَعْنُ بْنُ عِيسَى "

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو دو رکعتیں ، پھر دو رکعتیں ، پھر دورکعتیں تین دفعہ پڑھتے تھے۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مالک بن أنس ← مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ ← سهل بن زنجلة ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْأَدَمِيُّ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7634

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7635

7635 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْأَدَمِيُّ، ثَنَا حَمْزَةُ بْنُ فَرُّوخٍ الرَّازِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، نَا أَبُو كيرانِ الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ الْمُرَادِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخِّصَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ إِلَّا أَبُو كِيرَانَ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ "

حضرت صفوان بن عسال المرادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزوں پر مسح کرنے کی رخصت دی ، مسافر کے لیے تین دن اور رات اور مقیم کے لیے ایک دن اور رات ۔

صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أَبُو كيرانِ الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ الْمُرَادِيُّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ← حَمْزَةُ بْنُ فَرُّوخٍ الرَّازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْأَدَمِيُّ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7635

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7636

7636 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، نَا الْحَسَنُ بْنُ جَبَلَةَ الشِّيرَازِيُّ، نَا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِي، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَضْرِبُ أَكُفَّ الرِّجَالِ فِي صَوْمِ رَجَبَ، حَتَّى يَضَعُونَهَا فِي الطَّعَامِ، وَيَقُولُ: «رَجَبُ وَمَا رَجَبُ؟ إِنَّمَا رَجَبُ شَهْرٌ كَانَ يُعَظِّمُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ تُرِكَ»

حضرت خرشہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کو رجب کے روزے رکھنے سے روک رہے ہیں ، یہاں تک کہ ان کو کھانا کھلاتے اور فرماتے تھے کہ رجب کیا ہے؟ رجب کیا ہے؟ یا رجب ایک مہینہ ہے جس کی تعظیم جاہلیت والے کرتے تھے ، جب اسلام آیا ، تو اس نے چھوڑ دیا۔

خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيُّ، ← الْاَعْمَشِ ← سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، ← الْحَسَنُ بْنُ جَبَلَةَ الشِّيرَازِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7636

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7637

7637 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْأَدَمِيُّ، نَا الْحَسَنُ بْنُ جَبَلَةَ، نَا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: أَتَانِي سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ يُسَلِّمُ عَلَيَّ، وَعَلَيْهِ عَبَاءَةٌ قَطْوَانِيَّةٌ مُرْتَدِيًا بِهَا، فَطَرَحْتُ لَهُ وِسَادَةً، فَلَمْ يَرُدَّهَا وَلَفَّ عَبَاءَةً، فَجَلَسَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: بِحَسْبِكَ مَا بَلَغَكَ مِنَ الْمَحَلِّ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ سَاعَةً، وَكَبَّرَ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ صَاحِبُكَ؟، يَعْنِي: أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَقُلْتُ: هُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَا جَمِيعًا، وَقَدِ اشْتَرَى أَبُو الدَّرْدَاءِ لَحْمًا بِدِرْهَمٍ فَهُوَ [ص:328] فِي يَدِهِ مُعَلِّقُهُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ، اخْبِزِي واطْبُخِي، فَفَعَلْنَا. ثُمَّ أَتَيْنَا سَلْمَانَ بِالطَّعَامِ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كُلْ مَعَ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، فَإِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ سَلْمَانُ: لَا آكُلُ حَتَّى تَأْكُلَ، فَأَفْطَرَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَأَكَلَ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَتِ السَّاعَةُ الَّتِي يَقُومُ فِيهَا أَبُو الدَّرْدَاءِ ذَهَبَ لَيَقُومَ أَجْلَسَهُ سَلْمَانُ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: أَتَنْهَانِي عَنْ عِبَادَةِ رَبِّي؟ فَقَالَ سَلْمَانُ: إِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لَأَهْلِكَ عَلَيْكَ نَصِيبًا، فَمَنَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ قَامَا فَرَكَعَا رَكَعَاتٍ وأَوْتَرَا، ثُمَّ خَرَجَا إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَذَكَرَا أَمْرَهُمَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا لِسَلْمَانَ ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ؟ لَقَدْ أُشْبِعَ مِنَ الْعِلْمِ» لَمْ يَرْوِ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، تَفَرَّدَ بِهِمَا: الْحَسَنُ بْنُ جَبَلَةَ "

حضرت اُم الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس آئے ، مجھے سلام کیا، آپ نے قطوانی اپنی چادر پہنی ہوئی تھی، میں نے آپ کو تکیہ دیا، آپ نے واپس نہیں کیا اس کو چادر لپیٹ کر دی اس پر تشریف فرما ہوئے فرمایا:آپ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جو آپ نے تکیہ دے دیا ، پھر کچھ دیر اللہ کی حمد کی اورتکبیر بیان کی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھا، پھر فرمایا: آپ کے صاحب کہاں ہیں ، یعنی ابو الدرداء۔ میں نے کہا: مسجد میں ۔ حضرت سلمان ان کے پاس گئے ، پھر دونوں اکٹھے آئے ، حضرت ابو الدرداء نے گوشت خریدا ایک درہم جوان کے پاس تھا ، کہا: اے اُم الدرداء! اس کو پکاؤ اور روٹی پکاؤ! ہم نے ایسے ہی کیا ، پھر ہم کھانا لے کر حضرت سلمان کے پاس آئے ۔حضرت ابو الدرداء نے فرمایا: آپ اُم الدرداء کے ساتھ کھائیں، میں حالت روزہ میں ہوں۔ حضرت سلمان نے فرمایا:میں نہیں کھاؤں گا جب تک آپ نہیں کھائیں گے۔ حضرت ابو الدرداء نے روزہ افطار کیا اور آپ کے ساتھ کھانا کھایا، جب کچھ دیر ہوئی تو حضرت ابو الدرداء کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔حضرت سلمان نے ان کو بٹھالیا۔حضرت ابو الدرداء نے فرمایا:کیا مجھے اپنے رب کی عبات سے منع کرتے ہیں؟ حضرت سلمان نے فرمایا :آپ کی آنکھوں کا آپ پر حق ہے ، آپ کے گھر والوں کا آپ پر حق ہے ، آپ منع کرتے رہے ، جب صبح ہوئی تو دونوں اٹھے اور دو رکعت نفل اور وتر پڑھے ، پھر دونوں فجر کی نماز کے لیے مسجد کی طرف آئے، دونوں کا معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلمان کو کیا ہوا؟ اس کی ماں اس پر روئے! وہ تو علم سے سیر آدمی ہے۔

أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، ← الْحَسَنُ بْنُ جَبَلَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْأَدَمِيُّ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7637

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7638

7638 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدَانَ الْعَتَايِديُّ الشِّيرَازِيُّ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ جَعَلْتُمْ بَرَاءَةً مِنَ الْمِئِينَ وَالْأَنْفَالَ مِنَ الْمَثَانِي، فَقَرَنْتُمُوهُمَا وجَعَلْتُمُوهُمَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ، وَلَمْ تَكْتُبُوا بَيْنَهُمَا: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يَنْزِلُ عَلَيْهِ مِنَ السُّوَرِ ذَوَاتُ الْعَدَدِ، فَكَانَ إِذَا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْآيَةُ قَالَ لِبَعْضِ مَنْ يَكْتُبُ: «اجْعَلُوا هَذِهِ الْآيَةَ فِي سُورَةِ كَذَا وَكَذَا» ، وَإِنَّ الْأَنْفَالَ مِنْ أَوَّلِ مَا أُنْزِلَ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَتْ بَرَاءَةٌ آخِرَ الْقُرْآنِ، فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا، وَرَأَيْتُ قِصَّتَهَا تُشْبِهُ قِصَّتَهَا، فَلِذَلِكَ ضَمَمْتُهَمَا مَعًا، وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنْ عَوْفٍ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی: اے امیر المؤمنین ! آپ کو کس نے ابھارا کہ آپ سورۂ برأت کومئین میں اور انفال کو مثانی میں شمار کرو ، آپ نے دونوں کو ملا دیا ہے ، دونوں کوسبع الطوال میں شمار کیا ہے اور دونوں کے درمیان بسم اللہ نہیں لکھی ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب کوئی سورت نازل ہوتی تھی تو آپ اس کی تعداد لکھواتے تھے ، جب کوئی آیت نازل ہوتی تھی تو آپ بعض سے فرماتے ، کون لکھے گا! اس کو فلاں سورۃ میں شمار کرو سورۂ انفال پہلی سورت ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی اور سورۂ برأت آ خر میں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ نے بیان نہیں کیا ، میں نے اس کے مضامین کو ایک دوسرے کے مشابہ دیکھا تو میں نے دونوں کو ملا دیا ہے ، اس لیے دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں لکھی ۔ یہ حدیث اشعث ، عوف سے اور اشعث سے سعید بن عامر روایت کرتے ہیں ۔ اس کو روایت کرنے میں زید بن اخزم اکیلے ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ← عَوْفٌ، ← أَشْعَثَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدَانَ الْعَتَايِديُّ الشِّيرَازِيُّ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7638

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7639

7639 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدَانَ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكْبُرَةَ قَالَ: «التَّخَلُّلُ سُنَّةٌ» [ص:330] لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكْبُرَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ "

حضرت عبداللہ بن عکبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ خلال کرنا سنت ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكْبُرَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← «التَّخَلُّلُ سُنَّةٌ» [ص:330] لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكْبُرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← حَنْظَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدَانَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7639

chevron_left Previous
1…787980…92
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi36. One of his name is Ishmael37. One of his name is Issac38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani43. One of his name is Idris44. One of his name is Job45. His name is Anas46. Who is named Aban?47. Of his name: Aslam48. His name is Al-Ahwas49. Of whose name is Azhar50. One of his name is black51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male