Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7604

7604 - وَبِهِ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَكَانَا جَمِيعًا، أَوْ يُخَيِّرْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ»

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو بیع کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک دونوں جدا نہ ہوں اور دونوں اکٹھے ہیں یا ان میں ایک دوسرے کو اختیار دے تو ان میں ایک کو اختیار ہو گا ، دونوں نے جو بیع کی ہے تو بیع پکی ہو جائے گی۔

وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7604

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7605

7605 - وَبِهِ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ الْجَنَّةَ بِخَمْسِمِائَةِ عَامٍ» لَمْ يَرْوِ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ قَيْسٍ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ هَاشِمٍ، تَفَرَّدَ بِهِمَا: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّارِيُّ مِنْ وَلَدِ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:فقراء جنت میں مال داروں سے پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے۔

وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7605

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7606

7606 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى الْأَيْلِيُّ، نَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنَ امْرَأَةٍ صَلَاةً حَتَّى تُوَارِيَ زِينَتَهَا، وَلَا مِنْ جَارِيَةٍ بَلَغَتِ الْمَحِيضَ حَتَّى تَخْتَمِرَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ "

حضرت عبداللہ بن ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کسی عورت کی نماز اس وقت تک قبول نہیں کرتا ہے جب تک زینت نہ چھپائے اور کسی بچی کی یہاں تک کہ اس کو حیض آئے یہاں تک کہ سر ڈھانپ لے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى الْأَيْلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7606

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7607

7607 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ، ثَنَا أَبِي، نَا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَامَ سِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ مُتَتَابِعَةً، فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ» [ص:316] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، تَفَرَّدَ بِهِ: شَاذَانُ، وَقَالَ: عَنْ يَزِيدَ، عَنْ ثَوْبَانَ وَإِنَّمَا هُوَ: يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے لگاتار رکھے ، گویا اس نے سارے سال کے روزے رکھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ثَوْبَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← الحسن بن عمرو الفقيمي ← سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7607

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7608

7608 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا أَبِي، نَا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ يَنْوِي أَدَاءَهُ كَانَ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ، وسَبَّبَ اللَّهُ لَهُ رِزْقًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ سَعْدٍ إِلَّا شَاذَانُ "

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس پر قرض ہو اور وہ قرض ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو تو اس کے ساتھ اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے ، اس کے لیے اللہ عزوجل رزق کے اسباب مہیا کر دے گا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7608

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7609

7609 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ يَوْمَ الْعِيدِ بُرْدَةً حَمْرَاءَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلَّا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، تَفَرَّدَ بِهِ: شَاذَانُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید کے دن سرخ رنگ کی چادر پہنتے تھے۔

جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلَّا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، تَفَرَّدَ بِهِ: شَاذَانُ ← «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَلْبَسُ يَوْمَ الْعِيدِ بُرْدَةً حَمْرَاءَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، ← أَبِي ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7609

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7610

7610 - وَبِهِ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: أُتِيَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَامَ حَجَّ بِثَرِيدَةٍ عَلَيْهَا مِنْ هَذَا الْحَجَلِ، أَصَابَهُ أَهْلُ الْحِلِّ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِنَّ عَلِيًّا يَكْرَهُ هَذَا. فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ، فَدَعَاهُ، فَكَانَ يُصْلِحُ خَبَطًا لَهُ، فَنَفَضَ يَدَهُ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: لَا تَزَالُ تُخَالِفُ فِي شَيْءٍ، يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَقُولُ لَا يَصْلُحُ هَذَا، فَغَضِبَ عَلِيٌّ، وَقَالَ: لِهَذَا تَقُولُ لِي تُخَالِفُ، أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ حَجَّ، وَأُتِيَ بِرِجْلِ حِمَارٍ وَحْشِيٍّ، فَقَالَ: «أَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ، فَإِنَّا مُحْرِمُونَ» ؟ فَقَامَ غَيْرُ وَاحِدٍ، فَشَهِدُوا لَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ حَجَّ، وَأُتِيَ بِبَيْضِ نَعَامٍ: «أَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ، فَإِنَّا مُحْرِمُونَ» ؟ فَقَامَ غَيْرُ وَاحِدٍ، فَشَهِدُوا لَهُ، فَتَفَرَّقُوا عَنْ تِلْكَ الْقَصْعَةِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رِجْلِ ذَاكَ الْحَجَلِ قَائِمًا، مَا يَأْكُلُهُ أَحَدٌ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ إِلَّا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، تَفَرَّدَ بِهِ: شَاذَانُ "

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حج کے سال حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ثرید لایا گیا جس پر پردہ ڈالا گیا تھا ، مقام حِل میں رہنے والے اس تک پہنچے۔قوم میں سے کچھ لوگوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف قاصد بھیج کر بلوایا، آپ درخت سے جاڑے ہوئے پتوں کو درست کر رہے تھے۔آپ نے ہاتھ جھاڑے پھر آئے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے کہا:آپ ہمیشہ کسی نہ کسی شی میں مخالفت کرتے ہی رہتے ہیں۔ ان لوگوں کا گمان ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ درست نہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غصہ آ گیا ، فرمایا: اس وجہ سے آپ مجھے مخالفت کا کہہ رہے ہیں ۔ میں اس آدمی کو قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے بھی حج کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ آپ کے پاس جنگلی گدھے کی ٹانگ لائی گئی ، تو آپ نے فرمایا: یہ مقام حِل والوں کو کھلا دو ( حرم والے نہیں کھا سکتے ) کیونکہ ہم احرام والے ہیں؟ کئی آدمیوں نے اٹھ کر آپ کی گواہی دی ، پھر آپ نے فرمایا: میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے حج کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ کے پاس شتر مرغ کے انڈے لائے گئے۔ مقام حِل والوں کو کھلا دو کیونکہ ہم نے احرام باندھ رکھا ہے؟ کئی آدمی نے اٹھ کر آپ کی بات پر گواہی دی، پس وہ اس برتن (پیالہ) سے الگ ہو گئے۔حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: گویا کہ میں اس آدمی کو کھڑے دیکھ رہا ہوں کسی نے اس کو نہیں کھایا۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7610

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7611

7611 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نَا أَبِي، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتَجِيءُ الصَّلَاةُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَا الصَّلَاةُ، فَيَقُولُ اللَّهُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، وَتَجِيءُ الصَّدَقَةُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَا الصَّدَقَةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، وَيَجِيءُ الصَّوْمُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَا الصَّوْمُ، فَيَقُولُ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، حَتَّى يَجِيءَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنْتَ السَّلَامُ، وَأَنَا الْإِسْلَامُ، فَيَقُولُ اللَّهُ: إِنَّكَ عَلَى [ص:318] خَيْرٍ، بِكَ آخُذُ الْيَوْمَ، وَبِكَ أُعْطِي، فَيَقُولُ اللَّهُ: {إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ} [آل عمران: 19] ، {وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [آل عمران: 85] »

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جائیں گے ، نماز آئے گی اور عرض کرے گی: اے رب! میں نماز ہوں! اللہ عزوجل فرمائے گا:تو بھلائی پر ہے۔زکوٰۃ آئے گی اور عرض کرے گا: اے رب! میں زکوٰۃ ہوں! اللہ عزوجل فرمائے گا:تُو بھلائی پر ہے۔ روزہ آئے گا اور عرض کرے گا: اے رب! میں روزہ ہوں! اللہ عزوجل فرمائے گا:تُو بھلائی پر ہے! تیرے ذریعے پکڑوں گا تیرے ذریعے عطا کروں گا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: اللہ کے ہاں دین ، دین اسلام ہے جو اسلام کے علاوہ کوئی دین تلاش کرے گا، اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا وہ آخرت میں بھی نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← عَبَّادِ بْنِ رَاشِدٍ ← حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7611

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7612

7612 - وَبِهِ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ مَا يُسْأَلُ عَنْهُ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى صَلَاةِ عَبْدِي، فَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا قِيلَ: يَا رَبِّ أَتَمَّهَا، وَإِنْ كَانَ نَقَصَهَا قِيلَ: يَا رَبِّ، نَقَصَهَا، فَيَقُولُ اللَّهُ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، كَثِيرٌ، فَيَقُولُ: فَأَتِمُّوا لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى قَدْرِ ذَلِكَ» لَمْ يَرْوِ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ رَاشِدٍ إِلَّا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ سے قیامت کے دن سب سے پہلے ( حقوق اللہ میں سے ) نماز کے متعلق سوال ہو گا ، اللہ عزوجل فرمائے گا: میرے اس بندے کی نماز کی طرف دیکھو! اگر نماز میں مکمل ہوئیں تو عرض کی جائے گی:اے رب!مکمل ہیں اگر مکمل نہ ہوئی تو عرض کی جائے گی:اے رب! کم ہیں اللہ عزوجل فرمائے گا: میرے بندے کے نفل دیکھو! نفل ہیں ، تو عرض کی جائے گی : جی ہاں! بہت زیادہ ہیں ، تو کہا جائے گا:نفلوں سے میرے بندے کی عبادت مکمل کرو پھر اعمال کی پکڑ ہو گی، اس کی مقدار کے مطابق۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7612

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7613

7613 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا لِبَوْلٍ، وَلَا لِغَائِطٍ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، تَفَرَّدَ بِهِ: شَاذَانُ "

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیشاب اور پاخانہ کرتے وقت قبلہ رخ نہ پشت کرو نہ منہ ، بلکہ مشرق اور مغرب کی طرف کرو۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيِّ، ← سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، ← أَبِي ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7613

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7614

7614 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا أَبِي، نَا الْكِرْمَانِيُّ بْنُ عَمْرٍو، نَا سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ الْخُزَاعِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْمَةٍ لَهَا قَدْ صَنَعَتْ لَهُ حَسَاةً فَحَمَلَتْهَا عَلَى طَبَقٍ، فَوَضَعَتْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهَا: «أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ وابْنَاكِ؟» قَالَتْ: فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: «اذْهَبِي فادْعِيهِمْ» فَجَاءَتْ إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَتْ: أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وابْنَاكَ. [ص:319] قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَجَاءَ عَلِيٌّ يَمْشِي آخِذًا بَيْدِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ، وَفَاطِمَةُ تَمْشِي مَعَهُمْ، فَلَمَّا رَآهُمْ مُقْبِلِينَ مَدَّ يَدَهُ إِلَى كِسَاءٍ كَانَ عَلَى الْمَنَامَةِ، فَبَسَطَهُ فَأَجْلَسَهُمْ عَلَيْهِ، وَأَخَذَ بِأَطْرَافِ الْكِسَاءِ الْأَرْبَعَةِ بِشِمَالِهِ، فَضَمَّهُ فَوْقَ رُءُوسِهِمْ، وَأَهْوَى بِيَدِهِ الْيُمْنَى إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، وَلَا عَنِ ابْنِ سِيرِينَ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ، تَفَرَّدَ بِهِ: الْكِرْمَانِيُّ بْنُ عَمْرٍو»

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئیں ، پھر کی ہانڈی لے کر جو آپ کے لیے شوربہ تیار کیا تھا، اس کو تھال میں رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے رکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کا چچا زاد اور آپ کے بیٹے کہاں ہیں؟ عرض کی ، گھر میں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ! ان کو لے کر آؤ ۔ حضرت فاطمہ ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئیں ، کہا: آپ کو اور آپ کے بیٹوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلوا رہے ہیں۔ حضرت اُم سلمہ فرماتی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے اس حالت میں کہ آپ نے حضرت امام حسن وحسین کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔حضرت فاطمہ ان کے ساتھ چل رہی تھیں، جب آپ نے ان کو آتے دیکھا تو آپ نے اپنا ہاتھ مبارک لمبا کر کے چادر کو کھینچا ، جو آپ کے کند ھے پرتھی ، اس کو بچھایا، ان کو اس پر بٹھایا اور چار کونوں کو پکڑ کر ان کے سروں پر ڈالی اور دایاں ہاتھ اپنے رب کی طرف کر کے عرض کی: اے اللہ !یہ بھی میری اہل بیت ہیں ان سے پلیدی لے جا اور ان کو پاک کر دے۔ تین مرتبہ دعا کی ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ الْخُزَاعِيُّ، ← الْكِرْمَانِيُّ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبِي ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7614

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7615

7615 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نَا أَبِي، نَا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، نَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، نَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ أَتَيْتَ مِنَ النِّسَاءِ حَرَامًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: «لَا، وَكُنْتُ عَلَى مِيعادَيْنِ: أَمَّا أَحَدُهُمَا فَغَلَبَتْنِي عَنْهُ عَيْنِي، وَأَمَّا الْآخَرُ فَحَالَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سامِرُ الْقَوْمِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ الصَّلْتِ، تَفَرَّدَ بِهِ: شَاذَانُ، وَلَا يُرْوَى عَنْ عَمَّارٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ "

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: کیا عورتیں جاہلیت والا کام کر سکتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! میں ان کے معیاد پران میں ایک یہ ہے کہ جس سے میری آنکھ پر غلبہ ہوا ہے ، دوسرا جو میرے اور ساری قوم کے درمیان حائل ہے ۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7615

chevron_left Previous
1…767778…92
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi36. One of his name is Ishmael37. One of his name is Issac38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani43. One of his name is Idris44. One of his name is Job45. His name is Anas46. Who is named Aban?47. Of his name: Aslam48. His name is Al-Ahwas49. Of whose name is Azhar50. One of his name is black51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male