Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7496

7496 - وَبِهِ: عَنْ بَحْرٍ السَّقَّاءِ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ، ومَجْلَاةٌ لِلْبَصَرِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ بَحْرٍ السَّقَّاءِ إِلَّا الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسواک منہ کی پاکی اور رب کی رضا اور آنکھ کی بینائی تیز کرنے کا ذریعہ ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ ← جُوَيْبِرٍ ← بَحْرٌ السَّقَّاءُ، ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7496

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7497

7497 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ الرَّازِيُّ، ثَنَا الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ، نَا دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ فَفِي الدَّارِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ إِلَّا الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نحوست اگر ہو تو گھر اور عورت اور گھوڑے میں ہوتی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ ← الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ الرَّازِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7497

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7498

7498 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّازِيُّ، نَا أَبُو زُهَيْرٍ قَالَ: قَالَ الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ: تَذَاكَرْنَا الْبِرَّ عِنْدَ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، فَقَالَ أَبُو حَرْبٍ: تَذَاكَرْنَا الْبِرَّ عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، فَقَالَ: تَذَاكَرْنَا الْبِرَّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا قَالَ: «إِنَّهُ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ رَجُلٌ مُتَعَبِّدٌ صَاحِبُ صَوْمَعَةٍ، يُقَالُ لَهُ: جُرَيْجٌ، فَكَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ أَوْ أُمٌّ، فَكَانَتْ تَأْتِيهِ فَتُنَادِيهِ، فَيُشْرِفُ عَلَيْهَا فَيُكَلِّمُهَا، فَأَتَتْهُ يَوْمًا وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ مُقْبِلٌ عَلَيْهَا، فَنَادَتْهُ، فَحَكَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، فَجَعَلَتْ تُنَادِيهِ رَافِعَةً رَأْسَهَا إِلَيْهِ، وَاضِعَةً يَدَهَا عَلَى جَبْهَتِهَا: أَيْ جُرَيْجُ، أَيْ جُرَيْجُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ مَرَّةٍ ثَلَاثَ مِرَارٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ جُرَيْجٌ: أَيْ رَبِّ، أُمِّي أَمْ صَلَاتِي؟ فَغَضِبَتْ، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ لَا يَمُوتَنَّ جُرَيْجٌ حَتَّى يَنْظُرَ فِي وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ» . قَالَ: «وَبَلَغَتْ بِنْتُ مَلِكِ الْقَرْيَةِ، فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالُوا لَهَا: مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ؟ ؟ مَنْ صَاحِبُكِ؟ قَالَتْ: هُوَ صَاحِبُ الصَّوْمَعَةِ جُرَيْجٌ، فَمَا شَعَرَ جُرَيْجٌ حَتَّى سَمِعَ بِالْفُئُوسِ فِي أَصْلِ صَوْمَعَتِهِ، فَجَعَلَ يَسْأَلُهُمْ، وَيْلَكُمْ مَا لَكُمْ؟ فَلَمْ يُجِيبُوهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ أَخَذَ الْحَبْلَ فَتَدَلَّى، فَجَعَلُوا يَجِئُونَ أَنْفَهُ، ويَضْرِبُونَهُ، وَيَقُولُونَ: مُرَاءٍ مُخَادِعٌ النَّاسَ بِعَمَلِكَ قَالَ: وَيْلَكُمْ مَا لَكُمْ؟ [ص:280] قَالُوا: أَبِنْتُ صَاحِبِ الْقَرْيَةِ بِنْتُ الْمَلِكِ الَّتِي أَحْبَلْتَها؟ قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ؟ قَالُوا: وَلَدَتْ غُلَامًا قَالَ: الْغُلَامُ حَيٌّ هُوَ؟ قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَتَوَلَّوْا عَنِّي، فَتَوَلَّى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ مَشَى إِلَى شَجَرَةٍ فَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا، ثُمَّ أَتَى الْغُلَامَ وَهُوَ فِي مَهْدِهِ، فَضَرَبَهُ بِذَلِكَ الْغُصْنِ، وَقَالَ: يَا طَاغِيَةُ، مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: أَبِي فُلَانٌ الرَّاعِي، قَالُوا: إِنْ شِئْتَ بَنَيْنَا لَكَ صَوْمَعَتَكَ بِذَهَبٍ، وَإِنْ شِئْتَ بِفِضَّةٍ قَالَ: أَعِيدُوهَا كَمَا كَانَتْ» فَزَعَمَ أَبُو حَرْبٍ، أَنَّهُ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ وَهُوَ: أَخُو الْمُبَارَكِ إِلَّا أَبُو زُهَيْرٍ، وَلَا يُرْوَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ»

ابو زہیر کا قول ہے: مفضل بن فضالہ نے کہا کہ ابو حرب بن ابو الاسود دیلی کے پاس ، نیکی کے بارے ہم مذاکرہ کر رہے تھے ، حضرت ابو حرب بولے: نیکی کے بارے مذاکرہ ہم نے عمران بن حصین کے پاس کیا۔ انہوں نے کہا: ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھ کر نیکی کے بارے مذاکرہ کیا ۔ آپ نے ہم سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: تم سے پہلی امتوں میں ایک نیکو کار آدمی تھا۔اس نے اپنا الگ عبادت خانہ بنایا ہوا تھا، جریج اس کا نام تھا، ایک اس کی بیوی تھی، اس کی ماں بھی تھی، وہ ان کے پاس آتیں اسے آواز دیتیں، وہ گرجا کے اوپر سے جھانک کر دیکھتا اور ان سے کلام کرتا ۔ ایک دن و تشریف لائیں جبکہ وہ پوری توجہ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا ، آواز دی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی حکایت بیان کی اس حال میں کہ آپ اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے ، پس وہ اس کی طرف سر اٹھا اٹھا کر پکارتی رہی، پانی پیشانی ہاتھ رکھتے ہوئے ، اے جریج ! اے جریج! تین بار آواز دی۔ ہر مرتبہ تین بار آواز دی، ہر بار جناب جریج کہتے رہے: اے خدا! ایک طرف میری ماں ہے ، دوسری طرف تیری نماز ہے ( کس کو لازم پکڑوں ، کس کو چھوڑوں ) ؟ ماں کو غصہ آ گیا۔عرض کی: اے اللہ ! اس کو موت نہ دینا یہاں تک کہ یہ بدکار عورتوں کے چہروں میں نظر کر لے ۔ فرمایا: قریہ کے بادشاہ کی بیٹی بالغ ہوئی ، حاملہ ہوئی ، بچہ جنا۔لوگوں نے اس کے لیے کہا: تجھ سے یہ کام کس نے کیا ؟ ( تیری شادی تو ابھی ہوئی نہیں ) تیرا ساتھی کون ہے؟ اس نے کہا: وہ گرجے والا جریج۔ جریج کواس وقت تک پتا نہ چلا یہاں تک کہ اس نے آواز سنی کہ بسولوں سے گرجا گرایا جا رہا ہے۔ جریج نے ان سے کہنا شروع کر دیا: برباد ہو جاؤ! تمہیں کیا ہوا؟ لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ پس جب آپ نے یہ دیکھا تو اس کو پکڑ کر (اترنے کے لیے )لڑھکنے لگے ، وہ ناک چڑھانے لگے اور آپ کو مارنے لگے۔ زبان سے کہتے : ریاکار! اپنے عمل سے لوگوں کو دھوکہ دینے والے ۔ آپ نے فرمایا: تم سارے ہلاک ہو جاؤ! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ ( کچھ بتاؤ تو سہی!) انہوں نے کہا: گاؤں کے مالک بادشاہ کی بیٹی تجھ سے حاملہ ہوئی ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے کیا کیا؟ انہوں نے جواب دیا: اس نے بچہ جنا ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا بچہ زندہ ہے؟ انہوں ہاں! آپ نے فرمایا: مجھ سے ہٹ کر اُدھر جاؤ ۔ آپ نے مڑ کر دو رکعت نماز پڑھی ، پھر ایک درخت کی طرف جا کر اس کی شاخ توڑی ، اسے ہاتھ میں لے کر چل پڑے ، بچے کے پاس آئے ، جو پنگھوڑے میں تھا ، اس شاخ کے ساتھ اس کو مارا اور کہا: اے حرام زادے! تیرا باپ کون ہے بتا؟ اس نے جواب دیا:فلاں چرواہا! انہوں نے کہا:اگر آپ چاہیں، تو آپ کا عبادت خانہ سونے یا چاندی کا بنا دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: پہلے کی طرح بنا دو! ابو حرب کا گمان ہے کہ پنگھوڑے میں تین بچوں نے کلام کیا ہے: حضرت عیسیٰ بن مریم ، حضرت یوسف کا گواہ اور جریج کے ساتھی نے۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7498

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7499

7499 - وَبِهِ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ حَاصَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ حَيْصَةً، قَالُوا: قُتِلَ مُحَمَّدٌ، حَتَّى كَثُرَتِ الصَّوَارِخُ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ، فَخَرَجَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مُتَحَزِّمَةً، فَاسْتُقْبِلَتْ بِابْنِهَا وَأَبِيهَا وَزَوْجِهَا وأَخِيها، لَا أَدْرِي أَيُّهُمُ اسْتُقْبِلَتْ بِهِ أَوَّلَ، فَلَمَّا مَرَّتْ عَلَى آخِرِهِمْ قَالَتْ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُوكِ، أَخُوكِ، زَوْجُكِ، ابْنُكِ، تَقُولُ: مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ يَقُولُونَ: أَمَامَكِ حَتَّى دُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَتْ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ، ثُمَّ قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أُبَالِي إِذْ سَلِمْتَ مَنْ عَطِبَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو زُهَيْرٍ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے : جب اُحد کا دن تھا تو مد ینہ والوں میں ایک افواہ پھیل گئی کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید کر دیئے گئے ، یہاں تک کہ مدینہ کے نواح میں چیخ و پکار کی آوازیں سنی گئیں ۔ ایک انصاری عورت غم واندوہ کے عالم میں نکلی ۔ اس کا بیٹا ، باپ ، خاوند اور اس کا بھائی آگے آئے ، لیکن وہ پہلے ان کو نہ پہچان سکی ، جب دوسری بار ان کے پاس سے گزری تو پوچھا یہ کون ہے ، یہ کون ہے؟ بتایا گیا: تیرا باپ ، تیرا بھائی ، تیرا خاوند اور تیرا بیٹا ہیں ۔ وہ کہتی جا رہی تھی : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا بنا؟ وہ کہہ رہے تھے : اور آگے ہیں اور آگے نہیں یہاں تک کہ اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچا دیا گیا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے کا پلو پکڑ کر عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! اے اللہ کے رسول! اگر آپ سلامت ہیں تو کسی مرنے والے کی مجھے پرواہ نہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7499

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7500

7500 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ، نَا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، عَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، [ص:281] نَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ كَانَ فِيمَنْ سَلَفَ مِنَ الْأُمَمِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مُوَرِّقٌ، وَكَانَ مُتَعَبِّدًا، فَبَيْنَا هُوَ قَائِمٌ فِي صَلَاتِهِ ذَكَرَ النِّسَاءَ، فاشْتَهَاهُنَّ، وَانْتَشَرَ حَتَّى قَطَعَ صَلَاتَهُ، فَغَضِبَ، فَأَخَذَ قَوْسَهُ، فَقَطَعَ وَتَرَهُ، فَعَقَدَهُ بِخُصْيَيْهِ، وَشَدَّهُ إِلَى عَقِبَيْهِ، ثُمَّ مَدَّ رِجْلَيْهِ، فانْتَزَعَهُمَا، ثُمَّ أَخَذَ طِمْرَيْهِ، وَنَعْلَيْهِ حَتَّى أَتَى أَرْضًا لَا أَنِيسَ بِهَا وَلَا وَحْشَ، فَاتَّخَذَ عَرِيشًا، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَجَعَلَ كُلَّمَا أَصْبَحَ انْصَدَعَتْ لَهُ الْأَرْضُ، فَخَرَجَ لَهُ خَارِجٌ مِنْهَا مَعَهُ إِنَاءٌ فِيهِ طَعَامٌ فَيَأْكُلُ حَتَّى يَشْبَعَ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيَخْرُجُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى ثُمَّ يَدْخُلُ وتَلْتَئِمُ الْأَرْضُ، فَإِذَا أَمْسَى فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ» قَالَ: «وَمَرَّ أُنَاسٌ قَرِيبًا مِنْهُ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ مِنَ الْقَوْمِ فَمَرَّا عَلَيْهِ تَحْتَ اللَّيْلِ، فَسَأَلَاهُ عَنْ قَصْدِهِمَا فَسَمَتَ لَهُمَا بِيَدِهِ قَالَ: هَذَا قَصْدُكُمَا، وَقَالَ: هَذَا قَصْدُكُمَا حَيْثُ تُرِيدَانِ، فَسَارَا غَيْرَ بَعِيدٍ، قَالَ أَحَدُهُمَا: مَا يُسْكِنُ هَذَا الرَّجُلَ هَاهُنَا، أَرْضٌ لَا أَنِيسَ بِهَا وَلَا وَحْشَ، لَوْ رَجَعْنَا إِلَيْهِ حَتَّى نَعْلَمَ عِلْمَهُ قَالَ: فَرَجَعَا، فَقَالَا لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، مَا يُقِيمُكَ بِهَذَا الْمَكَانِ بِأَرْضٍ لَا أَنِيسَ بِهَا وَلَا وَحْشَ قَالَ: امْضِيَا لشَأْنِكُمَا وَدَعَانِي، فَأَبَيَا وأَلَحَّا عَلَيْهِ قَالَ: فَإِنِّي مُخْبِرُكُمَا عَلَى أَنَّ مَنْ كَتَمَهُ عَلَيَّ مِنْكُمَا أَكْرَمَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ أَظْهَرَ عَلَيَّ مِنْكُمَا أَهَانَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، قَالَا: نَعَمْ» . قَالَ: «فَنَزَلَا، فَلَمَّا أَصْبَحَا خَرَجَ الْخَارِجُ مِنَ الْأَرْضِ بِالَّذِي كَانَ يُخْرِجُ مِنَ الطَّعَامِ ومِثْلَيْهِ مَعَهُ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ دَخَلَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِثْلِ الَّذِي كَانَ يَخْرُجُ بِهِ كُلَّ يَوْمٍ ومِثْلَيْهِ مَعَهُ، فَشَرِبُوا حَتَّى رَوُوا، ثُمَّ دَخَلَ وَالْتَأَمَتِ الْأَرْضُ قَالَ: فَنَظَرَ أَحَدُهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ، فَقَالَ: مَا يُعَجِّلُنا هَذَا طَعَامٌ وَشَرَابٌ، وَقَدْ عَلِمْنَا سَمْتَنَا مِنَ الْأَرْضِ، امْكُثْ إِلَى الْعَشَاءِ، فَمَكَثَا فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ [ص:282] مِنَ الْعَشَاءَ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مِثْلُ الَّذِي خَرَجَ أَوَّلَ النَّهَارِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: امْكُثْ بِنَا حَتَّى نُصْبِحَ، فَمَكَثَا فَلَمَّا أَصْبَحُوا خَرَجَ إِلَيْهِمَا مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ رَكِبَا فَانْطَلَقَا، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَلَزِمَ بَابَ الْمَلِكِ حَتَّى كَانَ مِنْ خَاصَّتِهِ وَسَمَرِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَقْبَلَ عَلَى تِجَارَتِهِ وَعَمَلِهِ. وَكَانَ ذَلِكَ الْمَلِكُ لَا يَكْذِبُ أَحَدٌ فِي زَمَانِهِ مِنْ أَهْلِ مَمْلَكَتِهِ كَذِبَةً يُعْرَفُ بِهَا إِلَّا صَلَبَهُ، فَبَيْنَا هُمْ لَيْلَةً فِي السَّمَرِ يُحَدِّثُونَهُ مِمَّا رَأَوْا مِنَ الْعَجَائِبِ، أَنْشَأَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يُحَدِّثُ قَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكَ أَيُّهَا الْمَلِكُ بِحَدِيثٍ مَا سَمِعْتَ أَعْجَبَ مِنْهُ قَطُّ، فَحَدَّثَ حَدِيثَ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي رَأَى مِنْ أَمْرِهِ. قَالَ الْمَلِكُ: مَا سَمِعْتُ بِكَذِبٍ قَطُّ أَعْظَمَ مِنْ هَذَا، وَاللَّهِ لَتَأْتِيَنِّي عَلَى مَا قُلْتَ بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَصْلُبَنَّكَ قَالَ: بَيِّنَتِي فُلَانٌ قَالَ: رِضًى، ائْتُونِي بِهِ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ لَهُ الْمَلِكُ: إِنَّ هَذَا قَالَ: إِنَّكُمَا مَرَرْتُمَا بِرَجُلٍ، ثُمَّ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ الرَّجُلُ: أَيُّهَا الْمَلِكُ أَوَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا كَذِبٌ، وَهَذَا مَا لَا يَكُونُ، وَلَوْ أَنِّي حَدَّثْتُكَ بِهَذَا كَانَ عَلَيْكَ فِي الْحَقِّ أَنْ تَصْلُبَنِي عَلَيْهِ؟ قَالَ: صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ» . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَدْخَلَ الرَّجُلَ الَّذِي كَتَمَ عَلَيْهِ فِي خَاصَّتِهِ وَسَمَرِهِ، وَأَمَرَ بِالْآخَرِ فَصُلِبَ» ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَمَّا الَّذِي كَتَمَ عَلَيْهِ مِنْهُمَا فَقَدْ أَكْرَمَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَأَمَّا الَّذِي أَظْهَرَ عَلَيْهِ مِنْهُمَا فَقَدْ أَهَانَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا، وَهُوَ مُهِينُهُ فِي الْآخِرَةِ» ثُمَّ نَظَرَ بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْمُثَنَّى، أَسَمِعْتَ جَدَّكَ يُحَدِّثُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن بتانے لگے: گزشتہ اُمتوں میں ایک عبادت گزار تھا، جس کا نام’’مورّق‘‘ تھا ، ایک دن نماز کے دوران اس نے عورتوں کو یاد کیا ، اسے شہوت نے آلیا ، اسے انتشار ہو گیا ، یہاں تک کہ اس نے نماز توڑ دی ، اسے بہت غصہ آیا ، اس نے کمان کو پکڑ کر اس کے وتر کو توڑا ، اسے اپنے خصیوں سے باندھ کر ، پیچھے باندھ دیا۔ پھر اپنی دونوں ٹانگیں پھیلا دیا اور انہیں کھینچ کر باہر نکال دیا (یعنی خود کوخصی کر لیا ) پھر اس نے اپنا بستر ، بوریا اور جوتے اٹھائے اور چل پڑا، یہاں تک کہ ایسی زمین میں آ پہنچا جہاں کوئی انیس ، کوئی وحشی جانور نہ تھا ، اس نے ایک چھپر بنالیا ، پھر نماز پڑھنا شروع کر دی ، جب بھی صبح ہوتی تھی اس کے لیے زمین پھٹ جاتی ، اس میں سے ایک نکلنے والا نکلتا، جس کے پاس ایک برتن ہوتا ، جس میں کھانا موجود ہوتا تھا۔ وہ کھاتا ، یہاں تک کہ سیر ہو جا تا۔ پھر وہ نکلنے والا زمین میں داخل ہو جاتا اور پانی لے کر آتا ، جسے وہ پی لیتا ، یہاں تک کہ سیراب ہو جا تا۔ پھر وہ داخل ہو جاتا اور زمین ہموار ہو جاتی۔ پھر جب شام ہوتی تو اس طرح ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک بار ایسا ہوا کہ کچھ لوگ اس کے قریب سے گزرے ، ان میں سے دو آدمی اس کے پاس آئے ، رات کی تاریکی میں وہ اس کے پاس سے گزرے تھے ، انہوں نے اپنے مقصود کے بارے میں اس سے پوچھا۔اس نے اپنا ہاتھ بلند کر کے کہا: تمہارا مقصد یہ ہے ، پھر بولا: یہ تم دونوں کا مقصد ہے جوتم چاہتے ہو۔ پس وہ دونوں کافی دور چلے گئے ، تو ایک نے دوسرے سے کہا: اس آدمی کو کس چیز نے یہاں ٹھہرنے پر مجبور کیا ہے ، جہاں نہ کوئی دوست ہے نہ دشمن۔اگر ہم دونوں ایک بار پھر اس کے پاس جائیں ، یہاں تک کہ ہمیں اس کا پتہ چلے ۔ آپ نے فرمایا: وہ واپس آئے ۔ اس نے کہا:اے اللہ کے بندے! اس جگہ کس چیز نے آپ کو مقیم کیا ہے ، ایسی زمین جہاں نہ کوئی دوست ہے ، نہ مسافر ۔ اس نے کہا: تم اپنے کام کو جاؤ اور مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو۔انہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور اپنی منوانے پر اصرار کیا۔اس نے کہا: ایک شرط یہ بتاتا ہوں کہ تم دونوں میں سے جو اس کو چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں عزت عطا فرمائے گا اور جو ظاہر کرے گا اللہ سے دنیا و آخرت میں ذلیل کرے گا۔ان دونوں نے کہا: جی ہاں! زمین سے نکلنے والا نکلا جو کھانا لاتا تھا اور اس کے ساتھ اس کی مثل دو اور نکلے۔سب نے کھایا ، یہاں تک کہ سیر ہو گئے ، پھر داخل ہو کر نکلے پانی لے کر ایک برتن میں اس کی مثل جو ہر روز نکلتا تھا۔ اس ایک کی مثل دو اور اس کے ساتھ تھے۔ انہوں نے سیراب ہو کر پیا۔ پھر وہ داخل ہوئے ، زمین برابر ہو گئی، آپ نے فرمایا: ان میں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہا:ہمیں کاہے کی جلدی ہے، کھانا پینا موجود ہے، ہمیں زمینی جہتیں معلوم ہیں شام تک ٹھہرتے ہیں۔وہ دونوں ٹھہر گئے ۔شام کو بھی ان کے لیے کھانا پینا آیا ، جیسے صبح آیا تھا۔ اب دوسرے نے کہا: چل صبح تک ٹھہرتے ہیں ۔ وہ ٹھہرگئے ، جب انہوں نے صبح کی تو پھر اس طرح۔ پھر وہ سوار ہوئے اور چل دیئے۔سوان میں سے ایک بادشاہ کے دروازے کا ملازم بنا ، آہستہ آہستہ اس کے خواص لوگوں میں شامل ہو گیا۔ دوسرا اپنی تجارت اور کام کی طرف متوجہ ہوا۔ اس بادشاہ نے اپنی مملکت میں یہ قانون رائج کر رکھا تھا کہ اس کی رعایا میں جو بھی جھوٹ بولے گا اسے سولی چڑھا دیا جائے گا۔ایک دن وہ بادشاہ اپنے خواص میں بیٹھا ہوا تھا۔سب ایسے قصے بیان کر رہے تھے جو ان کو عجیب وغریب لگے ، اچانک اس آدمی نے بیان کرنا شروع کیا۔ کہا: اے بادشاہ سلامت! میں آپ کو ایک ایسی بات بتاتا ہوں جس سے زیادہ حیرانی والی بات آپ نے کبھی نہ سنی ہو گی ، اس نے اسی آدمی کی بات بیان کی اور وہ سارا ماجرا جو اس نے دیکھا تھا۔ بادشاہ نے کہا: اس سے بڑا جھوٹ میں نے زندگی بھر نہیں سنا۔ اس نے کہا:قسم ہے! میں اپنی بات پر گواہ لاتا ہوں ، ورنہ آپ مجھے سولی چڑھا دیں۔اس نے کہا: میرا گواہ فلان ہے۔ اس نے بڑے خوشی کے انداز میں کہا: اس کو میرے پاس لاؤ ۔ جب وہ آیا تو بادشاہ نے اس سے کہا: یہ آدمی کہتا ہے کہ تم دونوں ایک آدمی کے پاس سے گزرے ، پھر اس کے معاملہ اس طرح ، اس طرح تھا ؟ اس آدمی نے برملا کہا: اے بادشاہ آپ نہیں جانتے کہ یہ جھوٹ ہے۔ یہ بات ممکن ہی نہیں اور اگر میں آپ کو ایسی بات کہوں تو آپ پر لازم ہے کہ آپ مجھے سولی دے دیں؟ بادشاہ نے کہا: تو نے سچ بولا اور نیکی کی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے اس آدمی کو اپنے خاص بندوں میں چھپایا اور دوسرے کو پھانسی کا حکم دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس وہ جس نے اس پر پردہ ڈالا ، اللہ اسے دنیا و آخرت میں عزت دے گا۔ان دو میں سے جس نے ظاہر کیا اللہ اسے دنیا میں ذلیل بنا دے گا اور آخرت میں بھی وہی مہین ہے۔ پھر بکد بن عبداللہ نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس کی طرف دیکھ کر کہا: اے ابو المثنٰی ! کیا تو نے اپنے دادا کوسن لیا جو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بتارہے ہیں۔انہوں نے کہا: ہاں!

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، [ص:281] ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7500

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7501

7501 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَخِيهِ الْوَلِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مِنْ بِرِّ الرَّجُلِ أَبَاهُ بَعْدَ مَوْتِهِ حَفْظُهُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ زِيَادٍ إِلَّا أَخُوهُ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو دَاوُدَ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: آدمی کی اپنے والد سے مرنے کے بعد نیکی یہ ہے کہ اپنے والد کی وفات کے بعداس کے دوستوں سے محبت کرے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَخِيهِ الْوَلِيدِ بْنِ زِيَادٍ، ← هشام بن زياد ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← محمد بن عبد الله بن رسته الأصبهاني

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7501

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7502

7502 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الصَّيْرَفِيُّ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَامَ يَوْمًا لَمْ يَخْرِقْهُ كُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ إِلَّا أَبُو جَنَابٍ، وَلَا عَنْ أَبِي جَنَابٍ إِلَّا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ "

حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن روزہ رکھا ، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی ، بشرطیکہ لغویات نہ کرے۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ، ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الصَّيْرَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7502

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7503

7503 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الرَّاسِبِيُّ، نَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نَا يَزِيدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْيَسَرِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ مُعَاذٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ: «آمِنْ بِاللَّهِ، وَقُلْ خَيْرًا يُكْتَبْ لَكَ، وَلَا تَقُلْ شَرًّا فَيَكْتُبْ عَلَيْكَ» قَالَ: وَإِنَّا لَنُؤَاخَذُ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟» [ص:284] لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي الْيَسَرِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ "

حضرت ابن ابو الیسر فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے ایسے عمل کے متعلق بتائیں جس کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جاؤں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان لاو، اور اچھی بات کرو، تمہارے لیے جنت واجب ہو جائے گی ، اور بری بات نہ کرو تمہارے لیے جنت لکھی جائے گی۔عرض کی: کیا ہم گفتگو کرنے کی وجہ سے پکڑے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ جہنم میں زبان کی وجہ سے پھینکیں جائیں گے۔

مُعَاذٌ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← يَزِيدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْيَسَرِ، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الرَّاسِبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7503

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7504

7504 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ، نَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الرَّاسِبِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي أَشْمَطَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي حِسْلٍ، أَحَدِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ وَنَحْنُ مَعَهُ عَلَى رَجُلٍ وَقَدْ فَرَغَ مِنْ حَجِّهِ، فَقَالَ لَهُ: «أَسَلِمَ لَكَ حَجُّكَ؟» قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «ائْتَنِفِ الْعَمَلَ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ حَسْلٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ "

حضرت عامر بن لؤی فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے موقع پر ایک آدمی کے پاس سے گزرے ، وہ حج کر کے فارغ ہو چکا تھا ، آپ نے اس کوفرمایا السلام علیکم ! تم نے حج کرلیا ہے؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب عمل کرو۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7504

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7505

7505 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ، نَا زِيَادُ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دُعِي إِلَى وَلِيمَةٍ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامٍ إِلَّا زِيَادُ بْنُ مَيْمُونٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعٍ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو ولیمہ کی دعوت دی گئی ، اس نے قبول نہ کی ، تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← زِيَادُ بْنُ مَيْمُونٍ، ← سعيد بن أبي الربيع السمان ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7505

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7506

7506 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ، نَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نا مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مَرَّةً فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ [ص:285] آخَرُ، فَقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فِي بَلْوَى» أَوْ كَمَا قَالَ فَقَالَ عُثْمَانُ: «أَسْأَلُ اللَّهَ صَبْرًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ إِلَّا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ " وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی آیا ، اس نے اجازت مانگی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اجازت دو اور جنت کی خوشخبری دو! وہ آدمی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، پھر دوسرا آدمی آیا ، اس نے اجازت مانگی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو ا جازت بھی دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو! وہ آدمی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، پھر تیسرا آدمی آیا ، اس نے اجازت مانگی ، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اجازت دو اور جنت کی خوشخبری دو آزمائش کے ساتھ ، یا جس طرح فرمایا۔ وہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی: میں اللہ سے صبر مانگت ہوں۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي الْحَجَّاجِ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7506

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7507

7507 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ، نَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ، نَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْمِيَاهَ كَانَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلِيلَةً، وَكَانَ إِذَا كَانَ الصَّيْفُ صَلَّى النَّاسُ الظُّهْرَ ثُمَّ خَرَجُوا يَتَرَوَّحُونَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجُوا مَعَهُ إِلَى فِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَمَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ مَعَ النِّدَاءِ أَرْسَلَنِي إِلَى بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ آتِيهِ بِوَضُوءٍ، فَدَخَلْتُ فَجِئْتُهُ بِقَدَحٍ فِيهِ ثُلُثَاهُ أَوْ نِصْفُهُ، فَتَوَضَّأَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ فَضَلَ فِي الْقَدَحِ مِنْ وَضُوئِهِ فَضْلٌ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَرَأَى النَّاسَ قِيَامًا، فَقَالَ: «مَا هَؤُلَاءِ؟» قَالَ أَنَسٌ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ لَا يَجِدُونَ مَا يَتَوَضَّئُونَ قَالَ: «ادْعُهُمْ» ، فَفَعَلْتُ، فَجَاءَ النَّاسُ، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ فِي فَضْلِهِ الَّذِي فَضَلَ مِنْ وَضُوئِهِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَقِيَ مِنْهُمْ إِنْسَانٌ إِلَّا تَوَضَّأَ مِمَّا فِي كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَضَلَ فِي الْقَدَحِ فَضْلَةٌ، فَرَجَعْتُ بِهِ إِلَى الْبَيْتِ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں پانی کم تھا ، آپ کی عادت تھی کہ جب گرمی ہوتی تو لوگوں کو نماز پڑھا کر پھر آرام کرنے کے لیے نکلتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر نکلے تو آپ کے ساتھ صحا بہ کرام بھی مسجد کے صحن کی طرف نکلے ، آپ ٹھہرے ، جب اذان کا وقت ہوا تو مجھے آپ نے اُم سلمہ کی طرف بھیجا ، وضو کا پانی لینے کے لیے ۔ میں داخل ہوا اور میں آپ کے پاس ایک پیالہ لایا ، اس میں تین تہائی یا آدھا پانی تھا۔ آپ نے وضو کیا، جب آپ وضو سے فارغ ہوئے تو پیالہ میں پانی اس طرح بچا ہوا تھا، آپ نے اپنا سر اٹھایا، لوگوں کو کھڑے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیوں کھڑے ہیں؟ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ان کے پاس پانی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو بلاؤ! میں نے ایسا ہی کیا، لوگ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیالہ میں ڈالا جو آپ کے وضو کا پانی بچا ہوا تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! کوئی انسان ایسا نہیں بچا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی سے وضو نہ کیا ہو اور پیالہ میں پانی اس طرح بچا ہوا تھا ۔ میں اس کو لے کر گھر آیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ← سعيد بن أبي الربيع السمان ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7507

chevron_left Previous
1…676869…92
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi36. One of his name is Ishmael37. One of his name is Issac38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani43. One of his name is Idris44. One of his name is Job45. His name is Anas46. Who is named Aban?47. Of his name: Aslam48. His name is Al-Ahwas49. Of whose name is Azhar50. One of his name is black51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male