Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7460

7460 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَشَّاءُ، نَا طَالُوتُ بْنُ عَبَّادٍ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَقِيلَ وَقَالَ، وَمَنْعًا وَهَاتِ، وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ "

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیل و قال سے بچو! والدین کی نافرمانی سے بچو ! بچیوں کوزندہ دفن کرنے سے بچو! اور مال ضائع کرنے سے بچو۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← طَالُوتُ بْنُ عَبَّادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَشَّاءُ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7460

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7461

7461 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَشَّاءُ، ثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، نَا أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ، نَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ [ص:266] فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوها، وَحَّدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا، وَسَكَتَ عَنْ كَثِيرٍ عَنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَكَلَّفُوهَا، رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ فَاقْبَلُوهَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ إِلَّا أصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو الْأَشْعَثِ "

حضرت طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے فرائض مقرر کیے ہیں ، اس کو ضائع نہ کرو ، اور حدیں مقرر کی ہیں ، ان کے آگے نہ بڑھو ، بہت زیادہ چیزیں ہیں جن سے وہ بغیر کھولنے سے خاموش ہوا ، اس کے کرنے کے مکلف نہ بنو، اللہ کی طرف سے رحمت ہے اس کو قبول کرو ۔

قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ إِلَّا أصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو الْأَشْعَثِ ← غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَكَلَّفُوهَا، رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ فَاقْبَلُوهَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← کَثِيرٍ ← «إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ [ص:266] فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوها، وَحَّدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا، وَسَكَتَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا الدَّرْدَاءِ، ← طَاوْسٍ ← الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ ← أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَشَّاءُ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7461

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7462

7462 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَشَّاءُ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، إِنْ حَمَلْتُهُ لَمْ يَسْتَمْسِكْ؟ قَالَ: «حُجَّ عَنْ أَبِيكَ»

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے والد بہت بزرگ ہیں وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے والد کی طرف سے حج کر۔

أَبِيكَ، ← «حُجَّ ← إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، إِنْ حَمَلْتُهُ لَمْ يَسْتَمْسِكْ؟ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَشَّاءُ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7462

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7463

7463 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَشَّاءُ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُمَارَةَ إِلَّا أَبُو عَاصِمٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس کی مثل روایت ہے۔

عُمَارَةَ إِلَّا أَبُو عَاصِمٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ» ← شُعْبَةُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← عِكْرِمَةَ، ← عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَشَّاءُ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7463

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7464

7464 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ الضَّبِّيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا زُنَيْجٌ أَبُو غَسَّانَ، نَا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، نَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَخَذَ عَلِيٌّ بِيَدِي، فَدَخَلَ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَهُوَ شَاكٌّ، فَإِذَا أَبُو مُوسَى، عِنْدَهُ، فَقَالَ: أَزائِرًا أَمْ عَائِدًا؟ قَالَ: بَلْ عَائِدًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا إِلَّا وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مَسَاءً حَتَّى يُصْبِحَ، وَإِنْ كَانَ صَبَاحًا حَتَّى يُمْسِيَ، وَجَعَلَ لَهُ غُرَفًا فِي الْجَنَّةِ» [ص:267] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ إِلَّا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرٍ "

حضرت ثور بن ابو فاختہ اپنے والد سے روایت رتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا ، حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ، آپ بیمار تھے۔ حضرت ابو موسیٰ وہاں موجود تھے ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: آپ زیارت کے لیے آئے ہیں یا عیادت کرنے کے لیے؟ حضرت ابو موسیٰ نے عرض کی عیادت کے لیے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :کہ جو مسلم کسی مسلمان کی عیادت کے لیے آتا ہے تو اللہ عزوجل ستر ہزار فرشتوں کو مؤکل بناتا ہے کہ اس کے لیے دعا کر ، اگر شام کو آیا تو صبح تک ، اگر صبح کو آیا تو شام تک دعا کرتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں کمرہ بنایا جاتا ہے ۔

أَبِيهِ ← ثوير بن أبي فاختة ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ ← زُنَيْجٌ أَبُو غَسَّانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ الضَّبِّيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7464

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7465

7465 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، نَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِهْرَقَانيُّ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ قِيرَاطٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «مَا أَعْدَدْتَ لَهَا» قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ عَمَلٍ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ إِلَّا أَبُو عُمَارَةَ وَأَبُو جَعْفَرٍ وَهُوَ: جَسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ أَبِي عُمَارَةَ: عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ، وَتَفَرَّدَ بِهِ عَنْ جَسْرٍ: حَمَّادُ بْنُ قِيرَاطٍ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ عرض کی: اللہ کی قسم! میں نے اس کے لیے کوئی بڑا عمل نہیں کیا ہے، سوائے اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرتا ہوگا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ قِيرَاطٍ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِهْرِقَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7465

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7466

7466 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِهْرَقَانيُّ، ثَنَا النَّجْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَخِي إِسْحَاقَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ وَقَدْ أُتِيَ بطائرٍ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيَّ يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الطَّائِرِ» ، فَجَاءَ عَلِيٌّ، فَدَقَّ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: أَنَا عَلِيٌّ، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَةٍ، فَذَهَبَ، ثُمَّ جَاءَ فَدَقَّ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ ذَا؟ فَقَالَ: أَنَا عَلِيٌّ، قُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَةٍ، ثُمَّ جَاءَ فَدَقَّ الْبَابَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ فَافْتَحْ» ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَبَسَكَ، رَحِمَكَ اللَّهُ؟» فَقَالَ: هَذِهِ ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ، كُلُّ ذَاكَ يَقُولُ لِي أَنَسٌ: إِنَّكَ عَلَى حَاجَةٍ، فَقَالَ: «يَا أَنَسُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قُلْتُ: سَمِعْتُ بِدَعْوَتِكَ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَكُونَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَنَسٍ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ إِلَّا النَّجْمُ بْنُ بَشِيرٍ، تَفَرَّدَ [ص:268] بِهِ: حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِهْرَقَانيُّ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا ، ایک باغ میں ایک پرندہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی: اے اللہ ! میرے پاس وہ لے آ جو تیری مخلوق میں سے سب سے زیادہ مجھے پسند ہے ، وہ اس پرندہ سے میرے ساتھ بیٹھ کر کھائے ۔ پس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے کہا:یہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں علی ہوں ، میں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضروری کام میں مصروف ہیں وہ تشریف لے گئے ۔ کچھ دیر بعد آپ پھر تشریف لائے ، دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں علی ہوں، میں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضروری کام میں مشغول ہیں، پھر آپ نے تیسری بار آ کر دروازہ پر دستک دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جا کر دروازہ کھولو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: آپ کو کس چیز نے روکا ؟ اللہ آپ پر رحم فرمائے! انہوں نے کہا: یہ تین بلاوے ہیں، ہر بار انس نے مجھ سے کہا: آپ ضروری کام میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے انس! آپ کو کس نے یہ بات کہنے پر مجبور کیا؟ میں نے عرض کی : میں نے آپ کی دعا کو سنا تو میں نے چاہا کہ وہ آدمی میری قوم کا ہو ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَخِي إِسْحَاقَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← النَّجْمُ بْنُ بَشِيرٍ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِهْرِقَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7466

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7467

7467 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِهْرَقَانيُّ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجَمَلِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ أَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ هُنَيْهَةٌ أَوْ سَاعَةٌ، وَالنَّاسُ يَنْتَظِرُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «مَا تَنْتَظِرُونَ؟» قَالُوا: نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ قَالَ: «أَمَا إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا» . ثُمَّ قَالَ: «أَمَا إِنَّهَا صَلَاةٌ لَمْ يَصِلْهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ» ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: «النُّجُومُ أَمَانُ السَّمَاءِ، فَإِذَا طُمِسَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَانُ أَصْحَابِي، فَإِذَا قُبِضْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَانُ أُمَّتِي، فَإِذَا قُبِضَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، تَفَرَّدَ بِهِ: الْقَاسِمُ "

حضرت محمد بن منکد ر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات نکلے ، آپ نے نماز عشاء دیر سے پڑھائی‘ صحابہ کرام مسجد میں آپ کے انتظار میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کس کے انتظار میں ہو؟ عرض کی: ہم نماز کے انتظار میں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مسلسل نماز ہی میں ہو ، جب سے تم نماز کا انتظار کر رہے ہو۔ پھر فرمایا: یہ ایسی نماز ہے جو تم سے پہلے کسی امت نے نہیں پڑھی ۔ پھر آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا ، فرمایا: ستارے آسمان کے لیے امان ہیں ، جب تارے ختم ہو جائیں گے تو قیامت آئے گی، میں صحابہ کے لیے امان ہوں ، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ آئے گا، جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے ، میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں ، جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو وہ آئے گا جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← عبد الله بن عمرو بن مرة الجملي ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِهْرِقَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7467

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7468

7468 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّازِيُّ، ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ الْأَغَرِّ، أَغَرِّ مُزَيْنَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ لِي بِجُزْءٍ مَنْ تَمْرٍ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَطَلَنِي بِهِ، فَكَلَّمْتُ فِيهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اغْدُ مَعَهُ يَا أَبَا بَكْرٍ فَخُذْ لَهُ تَمْرَهُ» قَالَ: «فَوَعَدَنِي أَبُو بَكْرٍ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ، فَوَجَدْتُهُ حَيْثُ وَعَدَنِي، فَانْطَلَقْنَا، فَكُلَّمَا رَأَى أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ مِنْ بَعِيدٍ سَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:» أَمَا تَرَى مَا يُصِيبُ الْقَوْمُ عَلَيْكَ مِنَ الْفَضْلِ، لَا يَسْبِقْكَ إِلَى السَّلَامِ أَحَدٌ «قَالَ:» فَكُنَّا إِذَا طَلَعَ الرَّجُلُ بادَرْنَاهُ بِالسَّلَامِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْنَا « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ نَافِعٍ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، تَفَرَّدَ بِهِ: سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ»

حضرت اغر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کھجور کا ایک حصہ دینے کا حکم دیا ، انصار کے ایک آدمی سے اس انصار کے آدمی نے مجھے نہ دیا۔ میں نے اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا: اے ابو بکر! اس کے ساتھ جائیں اور اس سے کھجوریں لیں ۔ حضرت ابو بکر نے مجھ سے وعدہ کیا مسجد میں کہ جب ہم صبح کی نماز پڑھ لیں، میں نے پایا جو مجھ سے وعدہ کیا تھا، ہم چلے ، جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس آدمی نے دور سے دیکھا تو اس نے آپ کو سلام کیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا تمہیں قوم سے زیادہ فضیلت حاصل ہے ، تم سے پہلے کسی نے سلام نہیں کیا۔ اس نے عرض کی : جب کوئی آدمی آتا ہے تو ہم اس کے سلام کرنے سے پہلے سلام کرتے ہیں ۔

الأغر أغر مزينة ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7468

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7469

7469 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ، نَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ يُقَالُ لَهَا: تَمِيمَةُ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا رِفَاعَةُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، ثُمَّ فَارَقَهَا، فَأَرَادَتْ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا ذَاكَ مِنْهُ إِلَّا كَهُدْبَةِ ثَوْبِي، فَقَالَ: «وَاللَّهِ يَا تَمِيمَةُ، لَا تَرْجِعِينَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ رَجُلٌ غَيْرُهُ» ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ كَانَ جَاءَنِي هَنَّةً « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ إِلَّا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ»

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ بنی قریظہ کی ایک عورت تھی اس کو تمیمہ کہا جاتا تھا ، وہ عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں تھی ۔ حضرت عبدالرحمٰن نے اس کو طلاق دے دی ، اس نے رفاعہ سے شادی کر لی ، بنی قریظہ کے ایک آدمی سے ، پھر اس نے طلاق دے دی ، اس نے دوباره حضرت عبدالرحمٰن بن زبیر سے نکاح کرنے کی خواہش کی ۔اس عورت نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اللہ کی قسم! میں نے اس کو اس کپڑے کی مثل پایا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اے تمیمہ ! تو عبدالرحمٰن کے پاس دو بار نہیں جاسکتی ہے ، یہاں تک کہ تو دوسرے مرد سے نکاح کر کے وطی نہ کروا لے۔ اس نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ میرے پاس تھوڑی دیر کے لیے آیا تھا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7469

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7470

7470 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهَا اللَّهُ: تَعْجِيلُ الْفِطْرِ، وَتَأْخِيرُ السُّحُورِ، وَضَرَبُ الْيَدَيْنِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فِي الصَّلَاةِ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو زُهَيْرٍ "

حضرت عمر بن عبداللہ بن یعلیٰ بن مرہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین کاموں کو اللہ پسند کرتا ہے: (ا)جلدی افطار کرنے کو (۲) سحری دیر سے کرنے کو ( ۳ ) نماز میں ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھنے کو ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ← أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7470

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7471

7471 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ قِيرَاطٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي أُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تَحِلَّ لِنَبِيٍّ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَكَانَ مَنْ قَبْلَنَا يُصَلُّونَ فِي الْمَحَارِيبِ، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَسْوَدَ وَأَحْمَرَ، وَكَانَ الرَّجُلُ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ بَيْنَ يَدَيَّ، يَسْمَعُ بِي الْقَوْمُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيرَةُ شَهْرٍ فَيُرْعَبُونَ مِنِّي، وَجُعِلَ لِيَ الرُّعْبُ نَصْرًا، وَقِيلَ لِي: سَلْ تُعْطَهْ، فَجَعَلْتُهَا شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَهِيَ نَائِلَةٌ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا» [ص:270] لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ قِيرَاطٍ "

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کونہیں دی گئیں ، مجھے سرخ اور کالے کی طرف بھیجا گیا ہے ، انبیا علیہم السلام کو ایک قوم کی طرف بھیجا گیا تھا۔ میری ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ساتھ مدد کی گئی ہے ، مال غنیمت میرے لیے حلال کیا گیا ، مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا ، میرے لیے ساری زمین کو مسجد بنایا گیا ہے ، ہر نبی نے جو دعا کی ہے اس کی قبول ہوئی ہے میں نے اپنی امت کے لیے شفاعت کی دعا مانگی ہے جوقبول ہوکر رہے گی ، اگر اللہ نے چاہا اس کو جو اس حالت میں دنیا سے جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہراتا ہو ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← حَمَّادُ بْنُ قِيرَاطٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7471

chevron_left Previous
1…646566…92
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi36. One of his name is Ishmael37. One of his name is Issac38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani43. One of his name is Idris44. One of his name is Job45. His name is Anas46. Who is named Aban?47. Of his name: Aslam48. His name is Al-Ahwas49. Of whose name is Azhar50. One of his name is black51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male