المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7364
7364 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، نَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، نَا أَبِي، ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، نَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، وَمُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهَا، فَقَالَ: «هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ؟» فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: «إِنِّي صَائِمٌ» قَالَ: ثُمَّ جَاءَ يَوْمٌ آخَرُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَدْ أُهْدِي إِلَيْنَا حَيْسٌ، فَدَعَا بِهِ، وَقَالَ: «أَمَا إِنِّي أَصْبَحْتُ الْيَوْمَ صَائِمًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ إِلَّا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ "
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے ، فرمایا: تمہارے پاس کھانا ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں ہے! آپ فرماتے : میں روزہ کی حالت میں ہوں! پھر دوسرے دن آئے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم کو حیس ہدیہ دیا گیا ہے ، آپ نے مانگا ، فرمایا: میں نے آج کے دن روزہ رکھا تھا۔
عَائِشَةَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ وَمُجَاهِدٍ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ ← أَبِي ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ،
Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7364
