Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7220

7220 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّعِيفُ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ فِي وَجَعِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَقَامُوا فَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ، فَجَلَسُوا، فَقَالَ: «الْإِمَامُ يُؤْتَمُّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا عَبْدُ الْوَهَّابِ "

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام کو نماز پڑھا رہے تھے حالت بیماری میں بیٹھ کر اور صحابہ کرام کھڑے تھے ، آپ نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ امام ہوتا ہی اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، جب رکوع کرے تو تم رکوع کرو، جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، جب بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّعِيفُ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7220

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7221

7221 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ، نَا زُنَيْجٌ أَبُو غَسَّانَ، نَا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى النَّاسَ قَلِيلًا، فَقَالَ: «لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَادَى النَّاسَ إِلَى عِرْقٍ ومِرْمَاةٍ، يَعْنِي بِالْمِرْمَاةِ: رَغِيفًا، لَأَجَابُوهُ، وَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانًا فَيَجْمَعُونَ حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ، ثُمَّ أُحَرِّقُ عَلَى نَاسٍ بُيُوتَهُمْ، يَسْمَعُونَ الْمُنَادِي لَا يُجِيبُونَهُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَاصِمٍ أَبِي رَزِينٍ إِلَّا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرٍ " وَرَوَاهُ النَّاسُ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرُوِي عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے ، آپ نے لوگوں کو تھوڑا دیکھا آپ نے فرمایا: اگر کسی آدمی کولوگ شور بہ کی دعوت دیں تو اس کو ضرور قبول کریں گے اور نماز سے پیچھے رہیں گے ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا کہ کسی نو جوان کو کہوں کہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کرے ، پھر ان لوگوں کو گھروں میں جلا دوں جو اذان سنتے ہیں اور نماز کے لیے نہیں آتے ہیں۔

لَوْ ← دَخَلَ النَّبِيُّ الْمَسْجِدَ فَرَأَى النَّاسَ قَلِيلًا، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ رَزَینٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرٍ، ← زُنَيْجٌ أَبُو غَسَّانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7221

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7222

7222 - وَبِهِ: عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ» ، وَالتَّاسِعُ لَوْ شِئْتُ [ص:183] قُلْتُهُ، قَالُوا: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: هُوَ مَنْ كَانَ، فَلَمَّا رَدُّوا عَلَيْهِ قَالَ: أَنَا، وَبَكَى « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ إِلَّا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرٍ»

حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابو بکر ، عمر ، عثمان ، علی، طلحہ ، زبیر ، سعد بن ابی وقاص ، عبدالرحمٰن جنتی ہیں، اگر میں نویں کا نام لوں تو لے سکتا ہوں، لوگوں نے کہا:وہ کون ہے؟ حضرت سعید نے فرمایا: جو یہاں ہے وہ وہی ہے۔ جب انہوں نے بات لوٹائی تو کہا: میں! اور رو پڑے۔

سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَخْنَسِ ← الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7222

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7223

7223 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ، نَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مَالِكٍ الْفَزَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا وَكَانَ قَدِيمًا يُكْنَى بِأَبِي مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَءُوا الْقُرْآنَ بِلُحُونِ الْعَرَبِ وأَصْوَاتِها، وَإِيَّاكُمْ ولُحُونَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ، وَأَهْلِ الْفسقِ، فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ بَعْدِي قَوْمٌ يُرَجِّعُونَ بِالْقُرْآنِ تَرْجِيعَ الْغِنَاءِ وَالرَّهْبَانِيَّةِ وَالنَّوْحِ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، مفتونةٌ قُلُوبُهُمْ، وقلوبُ مَنْ يُعْجِبُهُمْ شَأْنُهُمْ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ حُذَيْفَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: بَقِيَّةُ "

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن عرب کے لہجے اور آوازوں میں پڑھو ، اہل کتاب والوں کے لہجوں سے بچو اورفسق والوں سے بھی کیونکہ میرے بعد عنقرب ایسی قوم آئے گی جوقر آن گانے اور رہبانیت اور نوحہ کی طرز پر پڑھیں گے، قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ان کے دل بلند ہوں گے، کئی دل ان کو پسند کریں گے۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← شَيْخًا وَكَانَ قَدِيمًا يُكْنَى بِأَبِي مُحَمَّدٍ، ← حُصَيْنِ بْنِ مَالِكٍ الْفَزَارِيِّ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7223

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7224

7224 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الْمَخْزُومِيُّ الْمَدِينِيُّ، ثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَتْبَعُ الْمَرْأَةَ حَرَامًا، أَيَنْكِحُ أُمَّهَا؟ أَوْ يَتْبَعُ الْأُمَّ حَرَامًا، أَيَنْكِحُ ابْنَتَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ، إِنَّمَا يُحَرِّمُ مَا كَانَ بِنِكَاحٍ حَلَالٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا عُثْمَانُ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ "

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک آدمی نے پوچھا: ایک آدمی کسی عورت سے زنا کرتا ہے پھر اس کی ماں سے نکاح کر سکتا ہے یا اس کی ماں سے زنا کرتا ہے تو کیا اس کی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حرام کام حرام کو حلال نہیں کرتا ہے ، زنا سے وہی حرام ہوتا ہے جو نکاح سے ہوتا ہے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عثمان بن عبد الرحمن الزهري ← الْمُغِيرَةِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ سَلَمَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الْمَخْزُومِيُّ الْمَدِينِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7224

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7225

7225 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، نَا يَعْقُوبُ الزُّهْرِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ، مَوْلَى الْخُزَاعِيِّينَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نُمَيْرِ بْنِ خَرَشَةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ نُمَيْرِ بْنِ خَرَشَةَ قَالَ: وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكْنَاهُ بِالْجُحْفَةِ، فاسْتَبْشَرَ النَّاسُ بِقُدُومِنَا، فَأَسْلَمْنَا، وَأَمَرَهُمْ بِالْقَدُّومِ مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَكَانَ يَحْضُرُ إِخْوَانُهُمْ مِنَ النَّاسِ كُلَّ عَشِيَّةٍ عَلَيْهِمْ، وَعَلَى غُرَبَاءِ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَحُضُّ عَلَى تَضْيِفِهِمْ، فَيَقُولُ: «إِخْوَانَكُمْ ضِيفَانَكُمْ، كُلُّ امْرِئٍ بِقَدْرِ مَا وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ» فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَأْخُذُ الرَّجُلَ وَالرِّجْلَيْنِ، وَكَانَ الَّذِي يَأْخُذُ ثَلَاثَةً عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ « لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ نُمَيْرِ بْنِ خَرَشَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: يَعْقُوبُ الزُّهْرِيُّ»

حضرت نمیره بن خرشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وفد کی صورت میں گئے ، ہم نے آپ کو جحفہ کے مقام پر پایا ، لوگوں نے ہمارے آنے پر خوش آمدید کہا ، ہم مسلمان ہوئے ، آپ نے مدینہ آنے کا حکم دیا لوگوں میں سے ہر شام ان کے پاس آئے ۔ان غرباء مسلمانوں کے پاس جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تھے آپ ان کے حصے دینے پر ابھارتے، فرماتے:تمہارے کمزور بھائی ہیں ہر آدمی پر اتنی مقدار میں ہے جتنی وہ طاقت رکھتا ہے۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے ایک اور دو آدمیوں کو پکڑا ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے تین آدمیوں کو پکڑا اور اپنے گھر لے گئے۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7225

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7226

7226 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثَنَا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَرْطَاةَ بْنَ الْمُنْذِرِ يَذْكُرُ قَالَ: سَمِعْتُ حَكِيمَ بْنَ عُمَيْرٍ يَذْكُرُ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، وَكَانَ صَاحِبُ خَيْبَرَ مَارِدًا مُنْكَرًا، فَأَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَلْكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا حُمُرَنَا، وَتَأْكُلُوا تَمْرَنَا، وتَدْخُلُوا بُيُوتَنَا، وَتَضْرِبُوا نِسَاءَنَا؟ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، ارْكَبْ فَرَسَكَ فَنَادِ فِي النَّاسِ: إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِمُؤْمِنٍ، وَأَنِ اجْتَمِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ» ، فَاجْتَمَعُوا، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَحِلَّ [ص:185] لَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتَ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا بِإِذْنٍ، وَلَا أَكَلَ أَمْوَالِهِمْ، وَلَا ضَرَبَ نِسَائِهِمْ، إِذَا أَعْطَوْكُمُ الَّذِي عَلَيْهِمْ، إِلَّا مَا طَابُوا بِهِ نَفْسًا، أَيَحْسَبُ امْرُؤٌ قَدْ شَبِعَ حَتَّى بَطِنَ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ، لَا يَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ شَيْئًا إِلَّا مَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ؟ أَلَا وَإِنِّي قَدْ وَاللَّهِ حَرَّمْتُ وَأَمَرْتُ، وَوَعَظْتُ بِأَشْيَاءَ، إِنَّهَا لَمِثْلُ الْقُرْآنِ، أَوْ أَكْثَرُ، أَلَا وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَكُمْ مِنَ السِّبَاعِ كُلُّ ذِي نَابٍ، وَلَا الْحُمُرُ الْأَهْلِيَّةُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ إِلَّا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ "

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر آئے خیبر کا مالک غیرمسلم اور منکر تھا وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئے اس نے کہا: اے محمد! کیا آپ ہمارے اونٹ ذبح کرنے اور ہمارے پھل کھانے اور ہمارے گھروں میں داخل ہونے اور ہماری عورتوں کو مارنے کے لیے آئے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ ہوئے ، فرمایا: اے عبدالرحمٰن ! اپنے گھوڑے پر سوار ہو اور لوگوں میں اعلان کرو کہ جنت میں صرف مؤمن ہی داخل ہو گا نماز کے لیے جمع ہونے کا اعلان کرو۔ وہ جمع ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اہل کتاب کے گھر داخل ہو مگر اجازت کے ساتھ نہ ان کے اموال کھاؤ ، نہ ان کی عورتوں کو مارو، جب تم دو تو خوش ہو کر دو ۔ کیا وہ آدمی گمان کرتا ہے کہ اس نے پیٹ بھر کر کھایا ہے اور تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے وہ گمان کرتا ہے کہ حرام شی وہی ہیں جن کو اللہ نے قرآن میں حرام کیا ہے؟ خبر دار! اللہ کی قسم! میں حرام بھی کرتا ہوں اور حکم بھی دیتا ہوں اور کئی اشیاء کی وضاحت بھی کرتا ہوں قرآن کی طرح یا اس سے زیادہ خبر دار! تمہارے لیے ہر پھاڑنے والا درندہ اور پالتو گدھا جائز نہیں ہے۔

يَا مُحَمَّدُ، أَلْكُمْ ← كَانَ صَاحِبُ خَيْبَرَ مَارِدًا مُنْكَرًا، فَأَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ ← نَزَلَ النَّبِيُّ خَيْبَرَ، ← الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← حَكِيمَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَذْكُرُ ← أَرْطَاةَ بْنَ الْمُنْذِرِ يَذْكُرُ ← أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْمُسْتَمْلِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7226

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7227

7227 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثَنَا أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثَنَا زُفَرُ بْنُ الْهُذَيْلِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، «أَنَّ رَجُلًا أَقْبَلَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَاسْتَقْبَلَتْهُ امْرَأَتُهُ، فَأَكَبَّ عَلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَلَمْ يَنْهَهُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زُفَرٍ إِلَّا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نماز کی طرف متوجہ تھا آگے سے اس کی بیوی آئی وہ اس کی طرف متوجہ ہوا ، اس کو پکڑا اور اسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا۔ اس کا ذکر کیا تو آپ نے اس کو منع نہیں کیا۔

أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← ليث بن أبي سليم ← زُفَرُ بْنُ الْهُذَيْلِ، ← أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْمُسْتَمْلِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7227

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7228

7228 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْجُنْدَيْسَابُورِيُّ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَارُونَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي نَهِيكٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْلَعَ نَعْلَيْهِ فَيَضَعَهُمَا بِجَنْبِهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ الزَّبِيبِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ: صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ آدمی جب بیٹھے تو اپنے جوتے اتارے ، ان پر بیٹھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي نَهِيکٍ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ هَارُونَ، ← صفوان بن عيسى الزهري ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْجُنْدَيْسَابُورِيُّ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7228

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7229

7229 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، ثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، نَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَدَ الْعَبَّاسَ ذَوْدًا مِنْ إِبِلٍ، فَبَعَثَنِي إِلَيْهِ، فَبِتُّ عِنْدَهُ، وَكَانَتْ لَيْلَةَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ كَثِيرٍ فَتَوَسَّدْتُ الْوِسَادَةَ الَّتِي تَوَسَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، وأَقَلَّ هِرَاقَةَ الْمَاءِ، ثُمَّ قَامَ فَافْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخْلَفَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَتْ مَيْمُونَةُ حَائِضًا، فَقَامَتْ فَتَوَضَّأَتْ، ثُمَّ قَعَدَتْ خَلْفَهُ تَذْكُرُ اللَّهَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ إِلَّا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ "

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس کو اونٹ دینے کا وعدہ کیا تھا ، مجھے آپ کی طرف بھیجا ، میں نے آپ کے پاس رات گزاری اس رات آپ حضرت میمونہ کے پاس تھے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے ، میں بھی اس تکیہ پر ٹیک لگا کر سو گیا جس پر آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے، پھر آپ کھڑے ہوئے ، وضو کیا، مکمل وضو کیا، تھوڑا پانی بہایا ، پھر آپ کھڑے ہوئے اور نماز شروع کی، میں بھی کھڑا ہوا اور وضو کیا میں آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوا، آپ نے پیچھے سے اپنا ہاتھ کیا اور میرا کان پکڑا اور مجھے دائیں جانب کھڑا کیا۔ حضرت میمونہ کو حیض آیا تھا، آپ بھی کھڑی ہوئیں اور وضو کیا پھر آپ کے پیچھے بیٹھ گئیں اللہ کا ذکر کرنے کے لیے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي سُفْيَانَ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ← عتبة بن أبي حكيم ← أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7229

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7230

7230 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدَيْسَابُورِيُّ، ثَنَا شَبَابٌ الْعُصْفُرِيُّ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَدِّهِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَيَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ النَّحْرِ، وَيَوْمَ عَرَفَةَ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي جعفرٍ الْخَطْمِيِّ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ إِلَّا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ وَعَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ "

حضرت فاکہہ بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ ، عید الفطر اور عرفہ کے دنوں میں غسل کے تھے۔

جَدِّهِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، ← شَبَابٌ الْعُصْفُرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدَيْسَابُورِيُّ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7230

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7231

7231 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الْجُنْدَيْسَابُورِيُّ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْجُنْدَيْسَابُورِيُّ، ثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَطَّافٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَتَى الْحَجَرَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى جَنَبَتَيْهِ، ثُمَّ قَبَّلَ مَا بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَأَنَّكَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْمِسْورِ بْنِ مَخْرَمَةَ إِلَّا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَلَا عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ [ص:187] إِلَّا الْعَرْزَمِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَشْعَثُ بْنُ عَطَّافٍ "

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ، آپ حجراسود کے پاس آئے ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس کی دونوں اطراف پر رکھے، پھر دونوں ہاتھوں کے درمیان بوسہ لیا، پھر فرمایا:اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں تو پھر ہے تو نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیرابوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تیرا بوسہ نہ لیتا۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ← أَشْعَثُ بْنُ عَطَّافٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الْجُنْدَيْسَابُورِيُّ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7231

chevron_left Previous
1…444546…92
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male