Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الاوسط للطبرانی

Al Muajam Al Awsat Tibrani

by Tibrani

9,492 Hadith203 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7100

7100 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الدَّخِيلِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَمِّهِ هِلَالِ بْنِ سِرَاجٍ، عَنْ مُجَّاعَةَ قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَّاعَةَ بْنَ مُرَارَةَ مِنْ بَنِي سَلْمَى أَرْضًا بِالْيَمَامَةِ، يُقَالُ لَهَا: الْعَوْزَةُ. قَالَ: وَكَتَبَ لَهُ بِذَلِكَ كِتَابًا: «مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُجَّاعَةَ بْنِ مُرَارَةَ مِنْ بَنِي سَلْمَى، إِنِّي أَعْطَيْتُكَ الْعَوْزَةَ، فَمَنْ خَالَفَنِي فِيهَا فَالنَّارُ» وَكَتَبَ يَزِيدُ «[ص:140] لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مُجَّاعَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَنْبَسَةُ»

حضرت مجاعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی سلمہ سے حضرت مجاعہ بن مرارہ بنی سلمہ کو یمامہ میں زمین دی ، اس کو عوزہ کہا جاتا تھا ، ان کے لیے خط بھی لکھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے مجاعہ بن مرارہ کے لیے بنی سلمیٰ سے میں نے اس کو عوزہ دی جو میری مخالفت کرے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ، اور اس خط کو یزید نے لکھا تھا ۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7100

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7101

7101 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، أَنَّ عَلِيًّا، بَلَغَهُ أَنَّ قَوْمًا بِالْبَصْرَةِ ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فأمالَ عَلَيْهِمُ الطَّعَامَ جُمْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَبَوْا، فَحَفَرَ عَلَيْهِمْ حُفْرَةً، ثُمَّ قَامَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: «لَأَمْلَأَنَّكِ شَحْمًا وَلَحْمًا» ، ثُمَّ أَتَى بِهِمْ فَضَرَبَ أَعْنَاقَهُمْ، وَأَلْقَاهُمْ فِي الْحُفْرَةِ، ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمُ الْحَطَبَ فَأَحْرَقَهُمْ، ثُمَّ قَالَ: «صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» . قَالَ سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ اتَّبَعْتُهُ، فَقُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ. فَقَالَ: «وَيْحَكَ، إِنَّ حَوَالَيَّ قَوْمًا جُهَّالًا، وَلَكِنْ إِذَا سَمِعْتَنِي أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَأَنْ أَخِّرَ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سِمَاكٍ إِلَّا إسْرَائِيلُ، وَلَا عَنْ إِسْرَائِيلَ إِلَّا الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ اللُّؤْلُؤِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ: الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ "

حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخبر پہنچی کہ بصرہ میں ایک قوم اسلام سے مرتد ہو گئی ہے ، آپ نے ان کی طرف آدمی بھیجا ، تو ان کو لایا گیا ان کو دو جمعہ تک کھانا دیا جاتا رہا ، پھر ان کو اسلام کی دعوت دی ، انہوں نے انکار کر دیا ، آپ نے ان کے لیے گڑھا کھودا پھر اس پر کھڑے ہوئے ، فرمایا: اے گڑھے! میں تجھے چربی اور گوشت سے بھر دوں گا۔ پھر ان کو لایا گیا، ان کی گردنیں اڑآدمی گئیں اور ان کو گڑھے میں ڈال دیا ، پھر ان کے اوپر لکڑیاں ڈالی گئیں اور ان کو جلا دیا۔ پھر فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں: جب آپ واپس چلے تو میں آپ کے پیچھے گیا ، میں نے عرض کی : میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تیرے لیے ہلاکت! میرے اردگرد جاہلوں کی قوم ہے ، آپ نے مجھے کہتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آسمان سے گرنا مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق کہو جو آپ نے نہیں فرمایا۔

سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7101

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7102

7102 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، نَا بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ، نَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْخَصْلَةَ الصَّالِحَةَ لِتَكُونُ فِي الرَّجُلِ، فَيُصْلِحُ اللَّهُ بِهَا عَمَلَهُ كُلَّهُ، فَطُهُورُ الرَّجُلِ لَصَلَاتِهِ يُكَفِّرُ ذُنُوبَهُ، وَتَكُونُ صَلَاتُهُ نَافِلَةً»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے اندر ایک نیک خصلت ہونے کی وجہ سے اللہ عزوجل اس کے ذریعے اس کے سارے اعمال درست کر دیتا ہے ، نماز کے لیے پاکی کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ، نماز اس کے لیے نفل ہو جاتی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ الْعَسْكَرِيُّ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7102

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7103

7103 - وَبِهِ: عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظَّهْرِ، وأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ غَيْرِهُمَا؟» قَالَ: بَلَى، [ص:141] يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْخُلُقِ، وَطُولِ الصَّمْتِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ عَمَلًا أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْهُمَا» لَمْ يَرْوِ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ "

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملے ، فرمایا: اے ابو ذر ! دو باتیں کرنے کے لحاظ سے آسان ہیں لیکن دونوں میزان میں بھاری ہوں گی ، وہ نہ بتاؤں؟ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ پر لازم ہے کہ اچھے اخلاق اور لمبی خاموشی ۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اللہ عزوجل کو ان دو اعمال سے زیادہ کوئی پسند نہیں ہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7103

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7104

7104 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ، نَا داهِرُ بْنُ نُوحٍ الْأَهْوَازِيُّ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، أَنَّ أَمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُنْ طَلَاقًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ إِلَّا شُعَيْبٌ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ شُعَيْبٍ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: داهِرُ بْنُ نُوحٍ "

اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو اختیار دیا تھا ، وہ طلاق نہیں تھی ۔

شُعَيْبٍ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: داهِرُ بْنُ نُوحٍ ← أَبِي الْعَالِيَةِ إِلَّا شُعَيْبٌ، وَلَا رَوَاهُ ← «خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ فَلَمْ يَكُنْ طَلَاقًا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← أَبِي الْعَالِيَةِ، أَنَّ أَمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، ← شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← دَاهِرُ بْنُ نُوحٍ الْأَهْوَازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7104

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7105

7105 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ، نَا الْخَلِيلُ بْنُ سَعِيدٍ الْأُبُلِّيُّ، نَا عُمَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ، وَوَاصِلِ بْنِ عَطَاءٍ الْغَزَّالِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ سَأَلْتَهَا وُكِّلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ لَمْ تَسْأَلْهَا أُعِنْتَ عَلَيْهَا» «وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ وَاصِلِ بْنِ عَطَاءٍ إِلَّا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، تَفَرَّدَ بِهِ: الْخَلِيلُ بْنُ سَعِيدٍ "

حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبدالرحمٰن ! حکومت نہ مانگنا! اگر تو نے مانگی تو تجھے اس کے سپرد کر دیا جائے گا، اگر تو نے مانگی نہیں اور مل گئی تو اس پر تیری مدد کی جائے گی ، جب تو کسی کام پر قسم اٹھائے پھر اس کے کرنے میں بہتری دیکھے تو قسم کا کفارہ دے اور اس کام کو کر لے جو بہتر ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ، وَوَاصِلِ بْنِ عَطَاءٍ الْغَزَّالِ، ← عُمَرَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← الْخَلِيلُ بْنُ سَعِيدٍ الْأُبُلِّيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7105

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7106

7106 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ، ثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، [ص:142] عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى يَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى يُسْمِعَ أَصْحَابَهُ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً، ثَلَاثَ مِرَارٍ، اللَّهُمَّ أَصْلِحْ دُنْيَايَ الَّذِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي، ثَلَاثَ مِرَارٍ، اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي جَعَلْتَ إِلَيْهَا مَرْجِعِي، ثَلَاثَ مِرَارٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، ثَلَاثَ مِرَارٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ، ثَلَاثَ مِرَارٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، ثَلَاثَ مِرَارٍ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِي لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ إِلَّا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى، تَفَرَّدَ بِهِ: يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ "

حضرت ابو بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی آواز بلند کرتے ، یہاں تک کہ آپ کے صحابہ قریب آپ کی آواز سنتے ۔آپ یہ دعا کرتے :’’اللهم اصلح لی دیعنی الیٰ آخرہ‘‘۔

أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ عِيَاضٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7106

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7107

7107 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ، نَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثَنَا سُلَيْمَانُ الْقَافِلَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، تَفْتَخِرُونَ بِهِمْ؟ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ؟ مَثَلُ آبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَمَثَلِ مَلِكٍ بَنَى قَصْرًا عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَاتَّخَذَ فِيهِ طَعَامًا، وَوَكَّلَ بِهِ رِجَالًا، فَقَالَ: لَا يَمُرَّنَّ أَحَدٌ إِلَّا أَصَابَ مِنْ طَعَامِي هَذَا، فَكَانَ إِذَا مَرَّ الرَّجُلُ فِي شَارَةٍ حَسَنَةٍ، وَثِيَابٍ حَسَنَةٍ ذَهَبُوا إِلَيْهِ، فَتَعَلَّقُوا بِهِ، وَجَاءُوا بِهِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْ ذَلِكَ الطَّعَامِ، وَإِذَا جَاءَ رَجُلٌ فِي شَارَةٍ سَيِّئَةٍ، وَثِيَابٍ رَثَّةٍ، مَنَعُوهُ، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ، بَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ فِي شَارَةٍ سَيِّئَةٍ، وَثِيَابٍ رَثَّةٍ، فَمَرَّ بِجَنَبَاتِهِمْ، فَقَامُوا إِلَيْهِ، فَدَفَعُوهُ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنِّي جَائِعٌ، وَإِنَّمَا يُصْنَعُ الطَّعَامُ لجائعٍ، فَقَالُوا: لَا، إِنَّ طَعَامَ الْمَلِكِ لَا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْأَبْرَارُ، فَدَفَعُوهُ، فَانْطَلَقَ، فَجَاءَ فِي صُورَةٍ حَسَنَةٍ، وَثِيَابٍ حَسَنَةٍ، فَمَرَّ كَأَنَّهُ لَا يُرِيدُهُمْ بَعِيدًا مِنْهُمْ، فَذَهَبُوا إِلَيْهِ، فَتَعَلَّقُوا بِهِ، فَقَالُوا: تَعَالَ، فَأَصِبْ مِنْ طَعَامِ الْمَلِكِ قَالَ: لَا أُرِيدُهُ. فَقَالُوا: لَا يَدَعُكَ الْمَلِكُ، إِنْ بَلَغَهُ أَنَّ مِثْلَكَ مَرَّ وَلَمْ يُصِبْ مِنْ طَعَامِهِ شَقَّ عَلَيْهِ، وَخَشِينَا أَنْ يُصِيبَنَا مِنْهُ عُقُوبَةٌ، فَأَكْرَهُوهُ، فَأَدْخَلُوهُ، حَتَّى جَاءُوا بِهِ إِلَى الطَّعَامِ فَقَرَّبُوا إِلَيْهِ الطَّعَامَ، فَقَالَ بِثِيَابِهِ هَكَذَا فِي الطَّعَامِ، فَقَالُوا: مَا تَصْنَعُ؟ قَالَ: إِنِّي جِئْتُكُمْ فِي شَارَةٍ سَيِّئَةٍ، وَثِيَابٍ رَثَّةٍ، فَأَخْبَرْتُكُمْ أَنِّي جَائِعٌ، فَمَنَعْتُمُونِي، وَإِنِّي جِئْتُكُمْ فِي شَارَةٍ حَسَنَةٍ، وَثِيَابٍ حَسَنَةٍ، فَأَكْرَهْتُمُونِي، وغَلَبْتُمُونِي، وأَبَيْتُمْ أَنْ تَدَعُونِي، فَقَبَّحَكُمُ اللَّهُ، وقَبَّحَ مَلِكَكُمْ، وَإِنَّمَا يَصْنَعُ مَلِكُكُمْ هَذَا الطَّعَامَ لِلدُّنْيَا، وَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَلَاقٌ قَالَ: فَارْتَفَعَ الْمَلَكُ، وَنَزَلَ عَلَيْهِمُ الْعَذَابُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الْكَلَامِ عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا سُلَيْمَانُ الْقَافِلَّانِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ: شَيْبَانُ، وَرَوَى الْكَلَامَ الْأَوَّلَ: «لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمْ» : هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْحَفْرِيُّ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے ان بالوں پر فخر مت کر جو زمانۂ جاہلیت میں کفر کی موت مر گئے ۔ کیا تم ان کی وجہ سے فخر کر سکتے ہو؟ کیا میں تمہیں خبر دار نہ کروں! تمہارے ان باپوں کی مثال جو زمانہ جاہلیت میں مرے ، اس بادشاہ کی ہے جس نے محل تعمیر کیا ، راستے خالی پر، اس میں کھانا رکھا ، کچھ لوگوں کو اس کا وکیل بنایا جو کوئی بھی گزرنے والا ہو میرے اس کھانا سے کھائے ۔ ہوا یوں کہ جب کوئی ایسا آدمی گزرا جو اچھی حالت اچھے کپڑے میں ہوا وہ لوگ اس کی طرف گئے، اس کو لانے کے لیے اس سے چمٹ گئے ، اسے لے آئے یہاں تک کہ اس نے اس کھانے سے کھایا اور جب کوئی آدمی خستہ حالت میں پرانے کپڑوں میں تھا تو اسے کھانا کھانے کے لیے آنے سے روک دیا۔پس جب اسی حالت پر لمبا زمانہ گزر گیا تو اللہ تعالیٰ نے خستہ حالت اور پرانے کپڑوں میں ایک فرشتہ بھیجا وہ ان کے پاس سے گزرا وہ اس کی طرف اٹھے اور اسے روک دیا۔فرشتہ نے ان سے کہا: میں بھوکا ہوں! کھانا تو بھوکے کے لیے پکایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا نہیں! بادشاہ کا کھانا صرف اچھے لوگ ہی کھا سکتے ہیں ، انہوں نے اسے دھکے دے کر نکال دیا تو وہ چلا گیا۔ پھر وہ اچھی صورت اور اچھے کپڑوں میں آیا سو وہ ان سے دور ہو کر اس طرح گزرا کہ گویا اسے ان سے غرض نہیں ہے ۔سو وہ اس کی طرف گئے اور اس سے چمٹ گئے ۔اس سے عرض کی: آ ؤ! بادشاہ کے کھانے سے کچھ لے لو۔ اس نے کہا: مجھے خواہش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: بادشاہ آپ کے چھوڑنے پر راضی نہیں ہے ، اگر آپ اس تک پہنچیں ۔بے شک آپ جیسا آدمی گزر جائے اور کھانا نہ کھائے تو اس پر گراں ہو اور ہمیں سزا ملنے کا خوف ہے۔سو انہوں نے اسے مجبور کر کے داخل کیا کھانے پر لائے ، کھانا اس کے قریب کیا ، تو اس نے کہا: کھانے میں اس طرح کے کپڑوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا: آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ اس نے کہا: میں خستہ حالت اور پرانے کپڑوں میں آیا اور تمہیں بتایا کہ مجھے بھوک نے ستایا تو تم نے مجھے قریب نہ فرمایا، پھر جب میں اچھی حالت اور اچھے کپڑوں میں آیا تو تم نے مجھے مجبور کیا اور مجھ پر غلبہ ڈال لیا اور مجھے چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ سو اللہ نے اسے قبیع قرار دیا ہے اور تمہارا بادشاہ بھی اسے برا جانتا ہے، تمہارے بادشاہ نے یہ کھانا سب لوگوں کے لیے بنایا ہے اللہ کے نزدیک اس کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔سو فرشتہ چلا گیا اور ان پر عذاب نازل ہوا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُلَيْمَانُ الْقَافِلَّانِيُّ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7107

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7108

7108 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ، نَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، نَا يَزِيدُ بْنُ تَمِيمِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي تَمِيمُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنِي الْمُنْتَصِرُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاعَ دَارًا لَمْ يَسْتَخْلِفْ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِي ثَمَنِهَا» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ "

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے گھر فروخت کیا اس کے بعد مکان لیا نہیں ، اس کے پیسوں میں برکت نہیں دی جائے گی۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← الْمُنْتَصِرُ بْنُ عُمَارَةَ، ← أَبُو مَرْحُومٍ السَّعْدِيُّ، ← أَبِي تَمِيمُ بْنُ زَيْدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ تَمِيمِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7108

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7109

7109 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، نَا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَجَلِيُّ، ثَنَا عَامِرُ بْنُ شُرَحْبِيلَ الشَّعْبِيُّ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أُخْتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ، وَزَوْجُهَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ أَرْسَلَ إِلَيَّ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى جَيْشٍ إِلَى الْيَمَنِ بِطَلَاقِي، فَسَأَلْتُ أَوْلِيَاءَهُ النَّفَقَةَ عَلَيَّ وَالسُّكْنَى. فَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُ: مَا أَرْسَلَ إِلَيْنَا فِي ذَلِكَ بِشَيْءٍ، وَلَا أَوْصَانَا بِهِ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ أَرْسَلَ إِلَيَّ بِطَلَاقِي، وَطَلَبْتُ السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ، فَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُ: لَمْ يُرْسِلْ إِلَيْنَا بِشَيْءٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ إِذَا كَانَتْ لِزَوْجِهَا عَلَيْهِ رَجْعَةٌ، فَإِذَا كَانَتْ لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَلَا نَفَقَةَ لَهَا وَلَا سُكْنَى» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ إِلَّا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ "

حضرت عامر بن سراحیل الشعبی فرماتے ہیں کہ وہ حضرت فاطمہ بنت قیس ، حضرت ضحاک بن قیس کی بہن ابو عمرو بن حفص بن عمر بن المغیرہ المخزومی کی بیوی فرماتی ہیں کہ ابو عمرو بن حفص نے میری طرف پیغام بھیجا کہ میں نے طلاق دے دی ہے ۔ میں نے اس کے اولیاء سے نفقہ اور گھر مانگا۔ان کے اولیاء نے کہا: ہم کو اس حوالہ سے کوئی شی نہیں پہنچی ، نہ ہم کو وصیت کی گئی ہے ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ابو عمرو بن حفص نے میری طرف طلاق کا پیغام بھیجا ہے ، میں نے گھر اور خرچ مانگا ہے ، ان کے اولیاء نے کہا ہے: ہم کو کوئی شی نہیں پہنچی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نفقہ اور گھر عورت کے لیے ہے جب اس کا شوہر واپس آئے اور یہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو گی یہاں تک کہ دوسرے شوہر سے وطی نہ کر والے، اس کے بعد اس کے لیے نفقہ اور گھر نہیں ہے۔

عَامِرُ بْنُ شُرَحْبِيلَ الشَّعْبِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَجَلِيُّ، ← بكر بن بكار ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ← مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7109

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7110

7110 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ، ثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ثَنَا عِصْمَةُ أَبُو حُكَيْمَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُعَلِّمُكَ مَا عَلَّمَنِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» ، قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي، وَعَمْدِي، وَهَزْلِي، وَجَدِّي، وَلَا تَحْرِمْني بَرَكَةَ مَا أَعْطَيْتَنِي، وَلَا تَفْتِنِّي فِيمَا حَرَمْتَنِي» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ "

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم کو نہ بتاؤں کہ جو مجھے حضرت جبریل علیہ السلام نے بتایا ہے؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تُو پڑھ’’اللھم اغفرلی الیٰ آخرہ‘‘۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عِصْمَةُ أَبُو حُكَيْمَةَ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7110

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7111

7111 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْرَائِيلَ، نَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قُلْنَا: مَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ كَانَتْ قُلُوبُنَا [ص:145] فِي الْآخِرَةِ، فَإِذَا رَجَعْنَا ذَهَبَ ذَلِكَ عَنَّا؟ فَقَالَ: «لَوْ كُنْتُمْ تَكُونُونَ إِذَا رَجَعْتُمْ كَهَيْئَتِكُمْ عِنْدِي، لَزَارَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ فِي بُيُوتِكُمْ، ولَصَافَحَتْكُمْ بأَكُفِّهَا، وَلَوْ كُنْتُمْ لَا تُذْنِبُونَ لَجَاءَ اللَّهُ بِخَلْقٍ يُذْنِبُونَ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الْجَنَّةِ، مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: «لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، مِلَاطُهَا الْمِسْكُ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ، وَتُرْبَتُهَا الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ، مَنْ يَدْخُلُهَا يُخَلَّدُ لَا يَمُوتُ، وَيَنْعَمُ لَا يَبْؤُسُ، لَا تَخْرَقُ ثِيَابُهُمْ، وَلَا يَبْلَى شَبَابُهُمْ» «ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ السَّحَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ إِلَّا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، وَلَا عَنِ الْحَسَنِ إِلَّا وَكِيعٌ، تَفَرَّدَ بِهِ: الْحَسَنُ بْنُ إِسْرَائِيلَ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم کو کیا ہے کہ ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو ہمارے دلوں میں آخرت کا ڈر ہوتا ہے ، جب ہم واپس آ جاتے ہیں تو یہ ہم سے چلا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس حالت پر رہو جس حالت میں تم میرے پاس سے واپس جاتے ہو ، تو فرشتے تمہارے گھروں کے اندر تمہاری زیارت کریں تمہارے ساتھ کھاتے ہوئے مصافحہ کریں اگر تم گناہ نہ کرو گے تو اللہ عزوجل تم کو لے جائے گا۔ ایسی مخلوق کو لائے گا جو گناہ کریں گے ان کو معاف کرے گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جنت کے متعلق ہم کو بتائیں کہ کس سے بنائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:سونے اور چاندی کی اینٹ سے، اس کی خوشبو مشک ہے، اس کے کنکر موتی اور یاقوت ہیں ، اس کی مٹی ورس اور زعفران ہے جو داخل ہو گا وہ ہمیشہ رہے گا اس کی نعمتیں پرانی نہیں ہوں گی ، اس کے کپڑے پھٹیں گے نہیں ، جوان بوڑھے نہیں ہوں گے ۔ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی ہے: (۱)عادل بادشاہ کی (۲) روزے دار کی یہاں تک کہ افطار کرے (۳) مظلوم کی بدعاء اللہ عزوجل اٹھائے گا بادلوں کے اوپر قیامت کے دن۔

قُلْنَا: مَا لَنَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي مُجَاهِدٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← الْحَسَنُ بْنُ إِسْرَائِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7111

chevron_left Previous
1…343536…92
Next chevron_right
All Chapters
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad3. Ahmed bin Dakin al-Masry4. Ahmed bin Amr Al-Bazzar5. Ahmed bin Bashir bin Habib Al Beiruti6. Ahmed bin Mohammed Al-Khuzai7. Ahmed bin Mohammed Al-Bazzar8. Ahmed bin Muhammad, the porter9. Ahmed bin Surij Al-Asbhani10. Ahmed bin Musa al-Shami11. Ahmad Bin Al-Khadro Al-Maroozi12. Ahmed bin Zuhair Al-Tustari13. Ahmed bin Zakaria is an odd one14. Ahmad Ibn Al-Khalil Al-Jariri15. Ahmad ibn Muhammad al-Naha’i16. Ahmed bin Abdul Karim al-Askari17. Ahmed Bin Fadak Al-Tustary18. Ahmed bin Mukhalad Al-Barathi19. Ahmad bin Muhammad Al-Burani20. Ahmad ibn Muhammad al-Murri21. Ahmed bin Ibrahim bin Kisan22. Ahmad ibn Yazid al-Sijistani23. Ahmad ibn Mujahid al-Qattan24. Ahmed bin Abd Al-Qaher25. Ahmed Ibn Al-Hussein Al-Dimashqi26. Ahmed bin Shaheen Al-Baghdadi27. Ahmad ibn Isma'il Al-Wasawy28. Ahmed bin Muhammad Al-Sha’eri
1. Chapter of the thousand
    29. A door of his name is Abraham30. Ibrahim Bin Salih Al-Sherazi31. Ibrahim ibn Yusuf al-Bazzaz
32. Ibrahim Bin Bandar Al-Asbhani
33. Ibrahim bin Dahim Al-Dimashqi
34. Ibrahim ibn Muhammad al-Ghazal
35. Ibrahim Ibn Musa Al-Touzi
36. One of his name is Ishmael
37. One of his name is Issac
38. Ishaq Ibn Al-Wasti Al-Wasti
39. Isaac Bin Hageb Al-Marouzi
40. Ishaq Bin Marwan Al-Dahan
41. Ishaq ibn Dawood al-Sawwaf
42. Ishaq ibn Jamil Al-Asbhani
43. One of his name is Idris
44. One of his name is Job
45. His name is Anas
46. Who is named Aban?
47. Of his name: Aslam
48. His name is Al-Ahwas
49. Of whose name is Azhar
50. One of his name is black
51. His name is Usama
1. Chapter of the thousand
    1. From his name, Ahmad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    52. Who is called mankind?53. His name is firstborn54. From his name is Boshran55. Who is called Bajir56. His name is his parents57. His name is stunned58. From his name Al-Bakhtari59. His name is full60. From his name is Bulbul
3. Bab Taa
    61. From his name Tamim
4. Bab Al-Thaw
    62. His name is fixed
5. Chem door
    63. One of his names is Jaafar64. His name is Jabir65. Of his name is Jabron
6. Hatch section
    66. One of his name is Al-Hassan
6. Hatch section
    67. One of his name is Al-Hussain68. Of his name is Hassan69. Of which his name is a grain70. Of which his name is grain71. From whose name is Hajeb?72. From his name is Campaign73. His name is Hamid74. His name is Hamad75. From his name is my grace76. From his name Hamzah77. Who is called Hajjaj?78. Of whose name is Hafs79. From his name Hatim80. Of whose name is Hawait81. One of his names is Haboush82. His name is Hamid83. One of his name is Hakim84. His name is Al-Hakam85. One of his name is Hamdan
7. The door of the sister
    86. His name is a successor87. From his name is green88. His name is Khaled89. One whose name is better90. From his name is a speech
8. Indication section
    91. Of his name is David92. His name is a guide
9. The door of humiliation
    93. Of whose name is male