المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7052
7052 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ، وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَابِ الْبَيْتِ، وَهُوَ يُرِيدُ الْحُجْرَةَ، فَسَمِعَ نَاسًا يَخْتَصِمُونَ فِي الْقَدَرِ، يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ فِي آيَةِ كَذَا وَكَذَا؟، وَيَقُولُ الْآخِرُ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ فِي آيَةِ كَذَا وَكَذَا؟، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَابِ الْحُجْرَةِ، كَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْهِهِ مِثْلُ حَبِّ الرُّمَّانِ، فَقَالَ: «أَبِهَذَا أُمِرْتُمْ؟ أَوْ بِهَذَا بُعِثْتُمْ؟ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَشْبَاهِ هَذَا ضَرَبُوا كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ، أَمْرَكُمُ اللَّهُ بِأَمْرٍ فَاقْبَلُوهُ، وَنَهَاكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَهُوا عَنْهُ» فَمَا سَمِعَ النَّاسُ أَحَدًا بَعْدَ ذَلِكَ تَكَلَّمَ فِي الْقَدَرِ، حَتَّى كَانَ لَيَالِي الْحَجَّاجِ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ تَكَلَّمَ فِي الْقَدَرِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ، فَقَتَلَهُ الْحَجَّاجُ « لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ وَمَطَرٍ، وَقَتَادَةَ، عَنْ أنَسٍ إلَّا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ»
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کے دروازے سے نکلے ، آپ کا گھر جانے کا ارادہ تھا ، آپ نے کچھ لوگوں کو سنا تقدیر کے متعلق جھگڑا کرتے ہوئے ، ان میں سے ایک کہہ رہا تھا: کیا اللہ نے فلاں فلاں آیت میں فرمایا نہیں؟ دوسرے نے کہا: کیا اللہ نے فلاں فلاں آیت میں فرمایا نہیں ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر کے دروازے سے نکلے ، ایسے محسوس ہورہا تھا کہ آپ کے چہرہ مبارک پر انار کے دانے نچوڑے گئے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم کو اس کا حکم دیا گیا ہے؟ کیا تم کو اس لیے بھیجا گیا ہے؟ تم سے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں کہ انہوں نے کتاب اللہ کی ایک آیت کو دوسری آیت سے ٹکرایا ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اس کو قبول کرو ، جس سے منع کیا ہے اس سے رُک جاؤ ، جب اس کے بعد لوگوں نے تقدیر کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سنا یہاں تک کہ یہاں حجاج نے کہا: سب سے پہلے تقدیر کے متعلق جس نے گفتگو کی وہ معبد الجہنی تھا۔ حجاج نے اس کوقتل کیا۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ، وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ، وَقَتَادَةُ، ← يوسف بن عطيه ← بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ،
Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7052
