المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 189
189 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن عَمْرِو بن خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ وَجَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ، فَكَرِهَ أَنْ يُصِيبَ مِنْهُمْ شَيْئًا، وَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدْلا بَيْنَهُ وَبَيْنَكُمْ، فَلا أَرِبَ لِي فِي هَدِيَّتِكُمْ، فَخَرَصَ النَّخْلَ، فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرْصَ خَيَّرَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصِيبَنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ، فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، هَذَا الَّذِي تَعْرِضُونَ عَلَيْنَا، وَتَعْمَلُونَ بِهِ الَّذِي تَقُومُ بِهِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ، وَكَانَتْ خَيْبَرُ لِمَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ، لَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا أَحَدٌ، وَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْهَا أَحَدٌ مِنْهُمْ، وَلَمْ يَشْهَدْهَا أَحَدٌ غَيْرَهُمْ، وَلَمْ يَأْذَنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَحَدٍ تَخَلَّفَ عَنْ مَخْرَجِهِ إِلَى الْحُدَيْبِيَةِ فِي شُهُودِ خَيْبَرَ".
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کرلیا تو حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ بھیجا تاکہ وہ یہودیوں کے درمیان تقسیم کا کام کریں ۔جب حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے پاس آئے تو انہیں کھانے پینے کے ہدیے اور تحفے پیش کرنے لگے ۔آپ نے ان سے کوئی بھی چیز لینے کا پسندنہ کیا اور فرمایا :مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس لیے بھیجا ہے کہ ہمیں ان کے اور تمھارے درمیان انصاف کروں اور مجھے تمھارے ہدیوں میں کوئ دلچسبی نہیں ہے ۔پھر آپ کھجوروں کا اندازہ لگانے لگے اور جب تخمینہ مکمل ہو گیا تو حضرت عبداللہ نے یہودیوں کو اختیار دیا اور فرمایا :اگر تم چاہو تو میں تمھارے لیے حصہ بناتا ہوں اور اس پر کھڑا ہوتا ہوں اور اگر تم چاہو تو ہمارے لئے حصہ بناؤ اور اس پر قائم رہو۔انہوں نے پسند کیا کہ وہ حصے بنائیں گے اور اس پر کھڑے ہونگے۔اور انہوں نے کہا :اے ابن رواحہ یہ فیصلہ جو تم نے ہم پر پیش کیا اور جس پر تم مسلمان لوگ عمل کرتے ہو اسی کے سبب آسمان وزمین قائم ہیں اور یہ صرف حق کی وجہ سے قائم ہوتے ہیں ۔اور خیبر (کی زمین وغیرہ )انہیں کیلئے تھی جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے ان کے سوا کوئی اس کے حصے میں شامل نہ تھا ۔اور نہ ہی کوئی ایسا تھا جو پیچھے رہ گیا ہو اور نہ ان کے سوا کوئی اس میں شامل ہو سکا ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اس کی اجازت نہیں دی ۔
عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 189
