Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله)

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah)

by Tibrani

231 Hadith93 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 189

189 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن عَمْرِو بن خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ وَجَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ، فَكَرِهَ أَنْ يُصِيبَ مِنْهُمْ شَيْئًا، وَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدْلا بَيْنَهُ وَبَيْنَكُمْ، فَلا أَرِبَ لِي فِي هَدِيَّتِكُمْ، فَخَرَصَ النَّخْلَ، فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرْصَ خَيَّرَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصِيبَنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ، فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، هَذَا الَّذِي تَعْرِضُونَ عَلَيْنَا، وَتَعْمَلُونَ بِهِ الَّذِي تَقُومُ بِهِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ، وَكَانَتْ خَيْبَرُ لِمَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ، لَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا أَحَدٌ، وَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْهَا أَحَدٌ مِنْهُمْ، وَلَمْ يَشْهَدْهَا أَحَدٌ غَيْرَهُمْ، وَلَمْ يَأْذَنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَحَدٍ تَخَلَّفَ عَنْ مَخْرَجِهِ إِلَى الْحُدَيْبِيَةِ فِي شُهُودِ خَيْبَرَ".

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کرلیا تو حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ بھیجا تاکہ وہ یہودیوں کے درمیان تقسیم کا کام کریں ۔جب حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے پاس آئے تو انہیں کھانے پینے کے ہدیے اور تحفے پیش کرنے لگے ۔آپ نے ان سے کوئی بھی چیز لینے کا پسندنہ کیا اور فرمایا :مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس لیے بھیجا ہے کہ ہمیں ان کے اور تمھارے درمیان انصاف کروں اور مجھے تمھارے ہدیوں میں کوئ دلچسبی نہیں ہے ۔پھر آپ کھجوروں کا اندازہ لگانے لگے اور جب تخمینہ مکمل ہو گیا تو حضرت عبداللہ نے یہودیوں کو اختیار دیا اور فرمایا :اگر تم چاہو تو میں تمھارے لیے حصہ بناتا ہوں اور اس پر کھڑا ہوتا ہوں اور اگر تم چاہو تو ہمارے لئے حصہ بناؤ اور اس پر قائم رہو۔انہوں نے پسند کیا کہ وہ حصے بنائیں گے اور اس پر کھڑے ہونگے۔اور انہوں نے کہا :اے ابن رواحہ یہ فیصلہ جو تم نے ہم پر پیش کیا اور جس پر تم مسلمان لوگ عمل کرتے ہو اسی کے سبب آسمان وزمین قائم ہیں اور یہ صرف حق کی وجہ سے قائم ہوتے ہیں ۔اور خیبر (کی زمین وغیرہ )انہیں کیلئے تھی جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے ان کے سوا کوئی اس کے حصے میں شامل نہ تھا ۔اور نہ ہی کوئی ایسا تھا جو پیچھے رہ گیا ہو اور نہ ان کے سوا کوئی اس میں شامل ہو سکا ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اس کی اجازت نہیں دی ۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 189

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 190

190 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بن هَارُونَ بن سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن فُلَيْحٍ، عَنْ @ مُوسَى بن عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي فَتْحِ خَيْبَرَ، قَالَ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ ثَمَرَهَا، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ جَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ وَيُكَلِّمُونَهُ، وَجَمَعُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ نِسَائِهِمْ، فَقَالُوا: هَذَا لَكَ وَتُخَفِّفُ عَنَّا وَتَجَاوَزُ، فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدْلا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ، فَلا أَرِبَ لِي فِي دُنْيَاكُمْ، وَلَنْ أَحِيفَ عَلَيْكَمْ، وَإِنَّمَا عَرَضْتُمْ عَلَيَّ السُّحْتَ، وَإِنَّا لا نَأْكُلُهُ، فَخَرَصَ النَّخْلَ، فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرَصَ خَيَّرَهُمْ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصَيبَنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ، فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، هَذَا الَّذِي تَعْمَلُونَ بِهِ، بِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ".

حضرت ابن شہاب فتح خیبر کے بارے میں فرماتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ بھیجا تاکہ وہ یہودیوں کے درمیان تقسیم کا کام کریں ۔جب حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے پاس آئے تو انہیں کھانے پینے کے ہدیے اور تحفے پیش کرنے لگے اور انہیں کھانے پینے کے ہدیے اور تحفے پیش کرنے لگے اور انہیں سے باتیں کرتے اور اپنی عورتوں نے زیورات پیش کرنے لگے اور کہا :یہ سب تمھارے لیے ہیں بس تم ہمارے حساب میں تخفیف کردو۔آپ نے فرمایا :اے یہودیو! اس بات میں شک نہیں کہ سب لوگوں سے زیادہ مجھے تم سے دشمنی ہے لیکن مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس لیے بھیجا ہے کہ ہمیں ان کے اور تمھارے درمیان انصاف کروں اور مجھے تمھاری دنیا میں کوئی دلچسبی نہیں ہے اور میں تمھارا کوئی نقصان نہیں کروں گا۔اور تم مجھ پر رشوتیں پیش کررہے ہو اور میں حرام نہیں کھاتا ۔پھر آپ کھجورو ں کا اندازہ لگانے لگے اور جب تخمینہ مکمل ہو گیا تو حضرت عبداللہ نے یہودیوں کو اختیار دیا اور فرمایا :اگر تم چاہو تو میں تمھارے لیے حصہ بناتا ہوں اور اس پر کھڑا ہوتا ہوں اور اگر تم چاہو تو ہمارے لیے حصہ بناؤ اورا س پر قائم رہو انہوں نے پسند کیا کہ وہ حصے بنائیں گے اور اس پر کھڑے ہونگے ۔اور انہوں نے کہا :اے ابن رواحہ یہ فیصلہ جو تم نے ہم پر پیش کیا اور جس پر تم مسلمان لوگ عمل کرتے ہو اسی کے سبب آسمان وزمین قائم ہیں اور یہ صرف حق کی وجہ سے قائم ہوتے ہیں ۔

ابْنِ شِهَابٍ فِي فَتْحِ خَيْبَرَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 190

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 191

191 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: خَرْصُهُمْ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَخْبَرَنِي عَنِ ابْنِ رَوَاحَةَ: أَنَّهُ خَرَصَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ الْيَهُودِ، فَقَالُوا: إِنْ شِئْتُمْ فَلَنَا، وَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ، قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ".

ابن جریح بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عطا سے زمانہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں خیبر کی کھجوروں کے تخمینے کے بارے میں پوچھا توا نہوں نے مجھے حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کےبار ےمیں خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور یہودیوں کے درمیان تخمینہ لگایا تھا اور فرمایا :اگر تم چاہو تو ساری ہم رکھ لیتے ہیں (اور تمھارے حصے کے پیسے ادا کر دیتے ہیں )اور اگر تم چاہو تو ساری تم رکھ لو (اور ہمیں قیمت ادا کردو)اس پر یہودیوں نے کہا :اسی طرح کے فیصلوں سے زمین و آسمان قائم ہیں ۔

بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ". ← «إِنْ شِئْتُمْ فَلَنَا، وَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ» ← ابْنِ رَوَاحَةَ: أَنَّهُ خَرَصَ بَيْنَ النَّبِيِّ وَبَيْنَ الْيَهُودِ، ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: خَرْصُهُمْ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 191

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 192

192 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا أَتَاهُمُ ابْنُ رَوَاحَةَ، جَمَعُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ@ نِسَائِهِمْ فَأَهْدُوهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، إِنَّكُمْ لأَبْغَضُ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيَّ، وَمَا ذَاكَ بِحَامِلِي أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، أَمَا مَا عَرَضْتُمْ عَلَيَّ مِنْ هَذِهِ الرِّشْوَةِ، فَإِنَّهَا سُحْتٌ، وَإِنَّا لا نَأْكُلُهَا، ثُمَّ خَرَصَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ خَيَّرَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهَا، أَوْ يَأْخُذَهَا هُوَ، قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ، فَأَخَذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرَصِ".

حضرت امام زہری بیان کرتے ہیں :جب حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے پاس آئے تو انہوں نے اپنے عورتوں کے زیورات اکھٹے کر انہیں تحفہ دیا ،آپ نے فرمایا :اے یہودیو! میرے نزدیک اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ قابل نفرت تم ہو اور اس کےباوجود میں تمھارا کوئی نقصان نہیں کروں گا۔بہرحال جو تم نے جو رشوت پیش کی ہے یہ حرام ہے اور ہم حرام نہیں کھاتے ۔پھر آپ نے ان کے لیئے تخمینہ لگایا اور انہیں اختیار دیا کہ وہ حصہ لے لیں یا آپ لے لیں ۔یہودیوں نے کہا :اس طرح کے لوگوں کی وجہ سے زمین و آسمان قائم ہیں اور پھر اپنا حصہ لے لیا ۔

لَمَّا أَتَاهُمُ ابْنُ رَوَاحَةَ جَمَعُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ نِسَائِهِمْ، فَأَهْدُوهَا إِلَيْهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 192

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 193

193 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَّالا يَعْمَلُونَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَزَرْعَهَا، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ خَيْبَرَ، فَدَفَعَ إِلَيْهِمْ خَيْبَرَ، عَلَى أَنْ يَعْمَلُوهَا عَلَى النِّصْفِ، فَيُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابِهِ، وَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أُقِرُّكُمْ فِيهَا مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ". وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ، فَيَخْرِصُ النَّخْلَ، حَتَّى تَطِيبَ أَوَّلَ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخْبِرُ الْيَهُودَ أَنْ يَأْخُذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرَصِ، أَوْ يَدْفَعُوهَا إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْخَرَصِ".@

حضرت ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاملین نہ تھے جنہیں آپ خیبر کی کھجوروں اور زراعت پر مقرر کرتے ۔چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو بلایا اور اس شرط پر خیبر ان کے حوالے کردیا کہ وہ آدھے پر اس میں کام کریں اور آدھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو ادا کردیں ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا :میں اس میں تمھارے لیئے وہی مقرر کرتا ہوں جو اللہ نے مقرر کیا ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کرتے تھے اور وہ کھجوروں کے پکنے پر کھانے کے قابل ہونے سے پہلے ان کا تخمینہ لگاتے اور پھر یہودیوں کو اختیار دیتے کہ وہ اس اندازے کے مطابق حصہ لے لیں یا اسے مسلمانوں کو واپس کردیں۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 193

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 194

194 - حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بن الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بن إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بن جَعْفَرِ بن الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بن الزُّبَيْرِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَى مُؤْتَةَ فِي جُمَادَى الأُولَى مِنْ سَنَةِ ثَمَانٍ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بن حَارِثَةَ، فَقَالَ لَهُمْ:"إِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ، فَجَعْفَرُ بن أبِي طَالبٍ عَلَى النَّاسِ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفرٌ، فَعَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ عَلَى النَّاسِ". فَتَجَهَّزَ النَّاسُ، ثُمَّ تَهَيَّأُوا لِلْخُرُوجِ وَهُمْ ثَلاثَةُ آلافٍ، فَلَمَّا حَضَرَ خُرُوجُهُمْ، وَدَّعَ النَّاسُ أُمَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَلَّمُوا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا وُدِّعَ عَبْدُ اللَّهِ مَعَ مَنْ وُدِّعَ بَكَى، فَقِيلَ لَهُ: مَا يَبْكِيكَ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ؟ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا هِيَ حُبُّ الدُّنْيَا وَضَنًّا بِهَا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ يَذْكُرُ فِيهَا النَّارَ: ?وَإِنْ مِنكُمْ إِلا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا?[مريم آية 71]. فَلَسْتُ أَدْرِي كَيْفَ بِالصَّدْرِ بَعْدِ الوُرُودِ. فَقَالَ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ: صَحِبَكُمُ اللَّهُ وَدَفَعَ عَنْكُمْ، وَرَدَّكُمْ إِلَيْنَا صَالِحِينَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ: لَكِنَّنِي أَسْأَلُ الرَّحْمَنَ مَغْفِرَةً …… وَضَرْبَةً ذَاتَ فَرْعٍ تَقْذِفُ الزَّبَدَا أَوْ طَعْنَةً بِيَدَيْ حَرَّانَ مُجْهِزَةً …… بِحَرْبَةٍ تَنْفُذُ الأَحْشَاءَ وَالْكَبِدَا حَتَّى يَقُولُوا إِذَا مَرُّوا عَلَى جَدَثِي … أَرْشَدَهُ اللَّهُ مِنْ غَازٍ وَقَدْ رَشَدَا ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ تَهَيَّأُوا لِلْخُرُوجِ، فَأَتَى عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُهُ، فَقَالَ:@ ثَبَّتَ اللَّهُ مَا آتَاكَ مِنْ حُسْنٍ …… تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا إِنِّي تَفَرَّسْتُ فِيكَ الْخَيْرَ نَافِلَهُ …… فِرَاسَةً خَالَفْتُهُمْ فِي الَّذِي نَظَرُوا أَنْتَ الرَّسُولُ فَمَنْ يُحْرَمْ نَوَافِلُهُ …وَالْوَجْهُ فِيهِ فَقَدْ أَوْدَى بِهِ الْقَدَرُ ثُمَّ خَرَجَ الْقَوْمُ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشَيِّعُهُمْ، حَتَّى إِذَا وَدَّعَهُمْ وَانْصَرَفَ عَنْهُمْ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ: خَلِّفِ السَّلامَ عَلَى امْرِئٍ وَدَّعْتُهُ …فِي النَّخْلِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ وَكِليلٍ ثُمَّ مَضُوا، حَتَّى نَزَلُوا بِمَعَانَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ، فَبَلَغَ النَّاسَ أَنَّ هِرَقْلَ قَدْ نَزَلَ مَآبَ مِنْ أَرْضِ الْبَلْقَاءِ فِي مَائَةِ أَلْفٍ مِنَ الرُّومِ، وَقَدِ اجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ الْمُسْتَعْرِبَةُ مِنْ لَخْمٍ، وَجُذَامٍ، وَبَلْقَينَ، وَبَهْرَامٍ، وَبَلِيٍّ فِي مَائَةِ أَلْفٍ مِنْهُمْ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ يَلِي أَخْذَ رَايَتِهِ، يُقَالَ لَهُ: مَالِكُ بنزِنَانَةَ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ، أَقَامُوا بِمَعَانَ لَيْلَتَيْنِ يَنْظُرُونَ فِي أَمْرِهِمْ، وَقَالُوا: نَكْتُبُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُخْبِرُهُ بِعَدِدِ عَدُوِّنَا، فَإِمَّا أَنْ يُمِدَّنَا بِرِجَالٍ، وَإِمَّا أَنْ يَأْمُرَنَا بِأَمْرِهِ فَنَمْضِي لَهُ، فَشَجَّعَ عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ النَّاسَ، وَقَالَ: يَا قَوْمُ، وَاللَّهِ إِنَّ الَّذِي تَكْرَهُونَ لِلَّذِي خَرَجْتُمْ لَهُ تَطْلُبُونَ الشَّهَادَةَ، وَمَا نُقَاتِلُ النَّاسَ بِعَدَدٍ، وَلا قُوَّةٍ، وَلا كَثْرَةٍ، إِنَّمَا نُقَاتِلُهُمْ بِهَذَا الدِّينِ الَّذِي أَكْرَمَنَا اللَّهُ بِهِ، فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا هِيَ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ، إِمَّا ظُهُورٌ، وَإِمَّا شَهَادَةٌ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ فِي مَقَامِهِمْ ذَلِكَ ).@

حضرت عروہ بیان کرتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمادی الاولی آٹھ ہجری میں موتہ کی طرف لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر کیا اور فرمایا :اگر زید شہید ہو جائیں تو حضرت جعفر بن ابی طالب عامل ہو ں گے اور اگر حضرت جعفر شہید ہو جائیں تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ عامل ہوں گے۔لوگوں نے سامان باندھا اور نکلنے کے لیے تیار ہو گئے ۔ان کی تعداد تین ہزار تھی اور جب نکلنے کا وقت آیا تو لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امیروں کو الوداع کیا اور سلامتی کی دعائیں دیں ۔جب حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو الوداع کرنے لگے تو آپ رونے لگے ۔پوچھا گیا کہ آپ کو کس بات نے رولا دیا ہے ؟فرمایا :اللہ کی قسم ! مجھے دنیا سے محبت نہیں اور نہ ہی تم سے عشق ہے لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا :"اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر سے نہ گزرے اور یہ تیرے رب کا پکا فیصلہ ہے "(سورۃ مریم ،آیت :71)تو میں نہیں جانتا کہ جہنم میں جانے کے بعد واپس کیسے لوٹوں گا۔مسلمانوں نے کہا :اللہ تمھارے ساتھ رہے ،وہ تمھاری حفاظت فرمائے اور تمہیں تندرستی و سلامتی سے واپس ہمارے پاس لوٹائے ۔اس موقع پر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے:لیکن میں رحمنٰ سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں اور ایسی ضرب کا سوال کرتا ہوں جو وسعت والی ہو اور جھاگ پھینکتی ہو ۔یا ایسے نیزے کے وار کا سوال کرتا ہوں جو خون کے پیاسے کافروں کے دونوں ہاتھوں سے لگایا گیا جو نیزے پر پورا زور لگائے اور انتڑیوں اور جگر سے پار ہو جائے ۔حتیٰ کہ اس وقت یہ بات کہی جائے جب لوگ میری قبر پر سے گزریں ،اللہ نے تجھے صحیح راستہ دکھایا اور تو ہدایت یافتہ ہو گیا ۔پھر قوم جانے کیلئے تیار ہو گئی تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو الوداع کہنے کیلئے حاضر ہوئے تو یہ اشعار عرض کئے :اللہ نے ان خوبیوں کو مضبوط کر دیا جو آپ کو عطاکیں جس طرح موسیٰ علیہ السلام کی خوبیوں کو ثبت فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدد سے نوازا جیسے پہلے انبیاء کرام کی مدد کی گئی تھی ۔میں نے فراست سے یہ بات جان لی ہےکہ آپ میں جو بھلائیاں ہیں وہ اللہ کی عطا کی ہوئی ہیں ،یہ فراست اس کے خلاف ہےجو کافر آپ کے بارے میں سوچتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو شخص اللہ کی عطا کردہ عنایتوں سے محروم رہا تو اس کی قسمت نے اسے کوتاہ دست رکھا ہے ۔پھر قوم نکل کھڑی ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ حوصلہ بڑھانے کیلئے نکلے حتیٰ کہ جب انہیں وداع کیا اور واپس پلٹے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے یہ شعر کہا :اللہ تعالیٰ کا سلام ہو اس شخص (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم )پر جس غیر آباد نخلستان سے الوداع ہوا ۔پھر وہ لوگ چلے گئے حتیٰ کہ شام کی سرزمین میں معان کے مقام پر اترے ۔یہاں لوگوں کو خبر ملی کہ ہرقل اپنی ایک لاکھ فوج لے کر بلقاء کے علاقے مآب میں ٹھہرا ہوا ہے ۔اور لخم ،جذام ،بلقین ،بہرام اور بلی کے ایک لاکھ عرب اس کی فوج میں شامل ہیں ۔اور ا ن پر بلی کا شخص امیر مقرر ہے جس نے اس کا جھنڈا تھاما ہوا تھا اس کانام مالک بن زانہ ہے۔جب مسلمانوں کو یہ خبر پہنچی تو وہ دو راتیں معان کے علاقے میں رکے رہے تاکہ اپنے معاملے میں غور کرسکیں انہوں نے سوچا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھ کر اپنے دشمنوں کی دعداد کے بارے میں بتا دیتے ہیں تاکہ یا تو وہ ہمیں سپاہیوں کی مدد بھیجیں یا ہمیں کوئی حکم دیں جس پر ہم عمل کریں گے۔تو حضرت عبداللہ بن رواحہ نے لوگوں کو جوش دلایا اور کہا :اے میری قوم کے جوانو! اللہ کی قسم جسے تم ناپسند کررہے ہو یہ وہی ہے جسکو پانے کیلئے تم نکلے تھے یعنی شہادت ،اور ہم لوگوں سے تعداد کے ساتھ نہیں لڑتے ،نہ ہی قوت اور کثرت کی بنا پر لڑتے ہیں بلکہ ہم دشمن سے صرف اس دین کی خاطر لڑتے ہیں جس سے اللہ نے ہمیں عزت بخشی ہے ۔پس تم چلو دو میں سے ایک بھلائی تو ملے گی ہی یا تو غلبہ نصیب ہو گا یا شہادت عطا ہو گی ۔اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے ان کے مقام میں یہ بات کی تھی ۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 194

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 195

195 - حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بن الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بن إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بن أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ زَيْدِ بن أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ يَتِيمًا لِعَبْدِ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ فِي حِجْرِهِ، فَخَرَجَ فِي سَفْرَتِهِ تِلْكَ مُرْدِفِي عَلَى حَقِيبَةِ رَاحِلَتِهِ، وَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَسِيرُ لَيْلَةً، إِذْ سَمِعْتُهُ يَتَمَثَّلُ بِبَيْتِهِ هَذَا: إِذَا أَدَّيْتَنِي وَحَمَلْتَ رَحْلِي ………مَسِيرَةَ أَرْبَعٍ بَعْدَ الْحِسَاءِ فَلَمَّا سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَكَيْتُ، فَخَفَقَنِي بِالدُّرَّةِ، وَقَالَ:"مَا عَلَيْكَ يَا لُكَعُ أَنْ يَرْزُقَنِيَ اللَّهُ الشَّهَادَةَ، وَتَرْجِعَ بَيْنَ شُعْبَتَيِ الرَّحْلِ"، ثُمَّ مَضَى النَّاسُ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِتُخُومِ الْبَلْقَاءِ، لَقِيَتْهُمْ جُمُوعُ هِرْقَلَ مِنَ الرُّومِ، وَالْعَرَبِ بِقَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْبَلْقَاءِ، يُقَالَ لَهَا: مَشَارِفٌ، ثُمَّ دَنَا الْمُشْرِكُونَ، وَانْحَازَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى قَرْيَةٍ، يُقَالَ لَهَا: مُؤْتَةُ، فَالْتَقَى النَّاسُ عِنْدَهَا، وَتَعَبَّأَ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ، فَجَعَلُوا عَلَى مَيْمَنَتِهِمْ رَجُلا مِنْ بني عُذْرَةَ، يُقَالَ لَهُ: قُطْبَةُ بن قَتَادَةَ، وَعَلى مَيْسَرَتِهِمْ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، يقَالَ لَهُ: عَبَايَةُ بن مَالِكٍ، ثُمَّ الْتَقَى النَّاسُ، فَاقْتَتَلُوا، فَقَاتَلَ زَيْدُ بن حَارِثَةَ بِرَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى شَاطَ فِي رِمَاحِ الْقَوْمِ، ثُمَّ @ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ، فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا أَلْحَمَهُ الْقِتَالُ، اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ، فَعَقَرَهَا، فَقَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ، وَكَانَ جَعْفَرٌ أَوَّلَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَقَرَ فِي الإِسْلامِ".

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :میں یتیم تھا اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھا ۔وہ مجھے اپنے ساتھ اس سفر میں لے گئے اور انہوں نے مجھے اپنے زادہ راہ والے تھیلے کے پیچھے بٹھایا ہوا تھا ۔اللہ کی قسم ! ہم رات کو سفر کررہےتھے جب میں نے انہیں یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا :اے نفس جب تو نے اپنا حق ادا کردیا اور میرے لئے کجاوہ کس دیا کنکریوں والی زمین کےبعد چار دن کی مسافت کیلئے ۔جب میں نے ان سے یہ اشعار سنے تو میں رونے لگا،آپ نے درے سے ہلکی سی ضرب لگائی اور فرمایا :اے بچے تیر اکیا نقصان ہے اگر اللہ مجھے شہادت کی موت عطا فرما دے اور تو کجاوے میں بیٹھ کر واپس لوٹ جائے ؟صحابہ کرام چلے حتیٰ کہ جب وہ تخوم بلقاء تک پہنچے تو انہیں ہرقل کے لشکر ملے جو رومیوں اور عربوں پر مشتمل تھے ۔یہ بلقاء کی بستیوں میں سے ایک بستی تھی جسے مشارف کہتے ہیں ،پھر دشمن قریب ہوا تو مسلمان ایک بستی کے قریب جمع ہوگئے جسے موتہ کہا جاتا ہے ۔وہاں رومیوں کے لشکر سے ملاقات ہوئی اور مسلمانوں نے تیاری کی ۔مسلمانوں نے اپنے میمنہ پر بنو عذر ہ کے ایک آدمی کو امیر مقرر کیا جس کو قطبہ بن قتادہ کہا جاتا تھا ۔اور میسرہ پر انصاری کا ایک آدمی مقرر کیا جسے عبایہ بن مالک کہتے تھے ۔پھر دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا اور انہوں نے جنگ کی ۔حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ جھنڈے کو پکڑ کر جنگ کی حتیٰ کہ دشمن کے نیزوں کا شکا رہو گئے ۔ان کے بعد جھنڈا حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نےپکڑ لیا اور جنگ لڑنے لگے حتیٰ کہ لڑائی بڑی سخت ہو گئی ۔آپ اپنے شقراء گھوڑے سے نیچے اترے اور اس کی کونچیں کا ٹ دیں ۔پھر دشمن سے لڑنے لگے حتیٰ کہ شہید ہو گئے آپ پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے کونچیں کاٹیں ۔

عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 195

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 196

196 - حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بن إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بن عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بن عَبْدِ اللَّهِ بن الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي الَّذِي أَرْضَعَنِي، وَكَانَ أَحَدُ بني مُرَّةَ بن عَوْفٍ، وَكَانَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، قَالَ: وَاللَّهِ، لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَعْفَرٍ حِينَ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ، ثُمَّ عَقَرَهَا، ثُمَّ قَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ، فَلَمَّا قُتِلَ جَعْفَرٌ، أَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ الرَّايَةَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ بِهَا وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ، فَجَعَلَ يَسْتَنْزِلُ نَفْسَهُ، وَيَتَرَدَّدُ بَعْضَ التَّرَدُّدِ، ثُمَّ قَالَ: أَقْسَمْتُ يَا نَفْسُ لَتَنْزِلنَّهْ …لَتَنْزِلنَّهْ طَائِعَةً أَوْ لَتُكْرَهِنَّهْ مَالِي أَرَاكِ تَكْرَهِينَ الْجَنَّهْ …إِنْ أَجْلَبَ النَّاسُ وَشدُّوُا الرَّنَّهْ لَطَالَمَا قَدْ كُنْتِ مُطْمَئِنَّهْ …هَلْ أَنْتَ إِلا نُطْفَةٌ فِي شَنَّهْ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ: يَا نَفْسُ إِنْ لَمْ تُقْتَلِي تَمُوتِي …هَذَا حِمَامُ الْمَوْتِ قَدْ صَلِيتِ وَمَا تَمَنَّيْتِ فَقَدْ أُعْطِيتِ …إنْ تَفْعَلِي فِعْلَهُمَا هُدِيتِ@ يَعْنِي: صَاحِبَيْهِ زَيْدًا، وَجَعْفَرًا. ثُمَّ نَزَلَ، فَلَمَّا نَزَلَ أَتَاهُ ابْنُ عُمَرَ لَهُ بِعَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ، فَقَالَ: اشْدُدْ بِهَذَا صُلْبَكَ، فَإِنَّكَ قَدْ لَقِيتَ أَيَّامَكَ هَذِهِ مَا قَدْ لَقِيتَ، فَأَخَذَهُ مَنْ يَدِهِ فَانْتَهَشَ مِنْهُ نَهْشَةً، ثُمَّسَمِعَ الْحُطَمَةَ فِي نَاحِيَةِ النَّاسِ، فَقَالَ: وَأَنْتَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ أَلْقَاهَا مِنْ يَدِهِ، ثُمَّ أَخَذَ سَيْفَهُ، فَتَقَدَّمَ، فَقَاتَلَ، حَتَّى قُتِلَ، فَأَخَذَ الرَّايَةَ ثَابِتُ بن أَقْرَمَ أَحَدُ بَلْعَجْلانَ، وَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اصْطَلِحُوا عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ، قَالُوا: أَنْتَ. قَالَ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ. فَاصْطَلَحَ النَّاسُ عَلَى خَالِدِ بن الْوَلِيدِ، فَلَمَّا أَخَذَ الرَّايَةَ دَافَعَ الْقَوْمَ، ثُمَّ انْحَازَ، حَتَّى انَصَرَفَ بِالنَّاسِ، وَلَمَّا أُصِيبُوا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدُ بن حَارِثَةَ، فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ، فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا". ثُمَّ صَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الأَنْصَارِ، وَظَنُّوا أَنَّهُ كَانَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ بَعْضَ مَا يَكْرَهُونَ، قَالَ:"ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ، فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا"، ثُمَّ قَالَ:"لَقَدْ رُفِعُوا لِي فِي الْجَنَّةِ فِيمَا يَرَى النَّائِمَ عَلَى سُرُرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَأَيْتُ فِي سَرِيرِ عَبْدِ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ ازْوِرَارًا عَنْ سَرِيرَيْ صَاحِبَيْهِ، فَقُلْتُ: بِمَ هَذَا؟ فَقِيلَ لِي: مَضَيَا، وَتَرَدَّدَ عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ بَعْضَ التَّرَدُّدِ، وَمَضَى".

یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد عباد بن عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا :مجھے میرے رضاعی باپ نے بیان کیا جو بنو مرہ بن عوف کے آدمی تھے ۔یہ اس غزوہ یعنی غزوہ موتہ میں شامل تھے۔انہوں نے کہا :اللہ کی قسم ! گویا میں اب بھی حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں جب وہ اپنے شقراء گھوڑے سے اترے اور اس کی کونچیں کاٹ دیں پھر دشمن سے لڑے حتیٰ کہ شہید ہو گئے ۔جب حضرت جعفر شہید ہو گئے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پکڑ لیا اور آگے بڑھے اور آپ اپنے گھوڑے پر سوا رتھے۔وہ خود کو نیچے اتارنے لگے اور کچھ کچھ تردد بھی کررہے تھے۔پھر انہوں نے یہ شعر کہے :اےنفس ! میں نے قسم اٹھائی تھی کہ تو ضرور میدان جنگ میں اترے گا ۔تو خوشی سے اترے گا یا تجھے جنگ کرنے پر مجبور کیا جائے ۔کیا وجہ ہے کہ میں تجھے دیکھتا ہو ں کہ تو جنت میں جانے کو ناپسند کرتا ہے ۔اگر لوگ واویلا کرتے ہیں اور شدت سے روتے ہیں ۔البتہ کافی عرصہ گزر گیا کہ تو مطمئن تھا تو تو ایک نطفہ ہے جو پرانے مشکیزے میں پڑا ہوا ہے ۔حضرت عبداللہ نے یہ اشعار بھی پڑھے :اے نفس ! اگر تو شہید نہ ہوا تو عام موت مرے گا اور یہ موت کی آنچ ہے جس میں تو بھونا جارہا ہے ۔اور جو تو نے تمنا کی تھی وہ تجھے عطا کی گئی ۔اگر تو ان دونوں (حضرت زید اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہما)کی طرح کام کرے گا تو ہدایت پائے گا۔آپ نے اپنے دونوں ساتھیوں حضرت زید اور حضرت جعفر کو مراد لیا ۔پھر آپ نیچے اترے اور جب نیچے اترے تو آپ کے چچا زاد بھائی ہڈی والا گوشت لائے اور کہا :اس کےساتھ اپنی کمر کو مضبوط کریں کہ آپ نے ان دونوں میں بری مشقت اٹھائی ہے ۔حضرت عبداللہ نے ان سے گوشت لے لیا اور دانتوں سے کاٹا ،پھر آپ نے لوگوں کی ایک طرف سے آواز سنی تو فرمایا :تو ابھی اس دنیا میں ہی ہے؟پھر گوشت کو ہاتھ سے پھینک دیا اور تلوار پکڑ کر آگے بڑھے اور لڑے حتیٰ کہ شہید ہو گئے ۔ان کے بعد حضرت زید بن اقرم نے جھنڈا پکڑلیا جو بنی عجلان کے آدمی تھے،انہوں نے کہا :اے مسلمانو! اپنے میں سے ایک آدمی پر اتفاق کرلو انہوں نے کہا :تم ہی امیر ہو ۔اس نے کہا میں اس قابل نہیں ہوں تو لوگوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پراتفاق کرلیا ۔جب انہوں نے جھنڈا پکڑا تو دشمن کو دھکیل دیا اور اپنے لشکر کو سمیٹا اور لوگوں کو ساتھ لے کر پیچھے ہٹ گئے ۔جب مسلمان آزمائش کا شکا ر ہو ئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مدینہ منورہ میں موجود صحابہ کرام سے )فرمایا حضرت زید بن حارثہ نے جھنڈا پکڑا ہے ،انہوں نے جنگ کی حتیٰ کہ شہید ہو گئے ،پھر جھنڈے کو حضرت جعفر نے پکڑ لیا ،انہوں نے جنگ کی حتی ٰ کہ شہید ہو گئے ۔اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے یہاں تک کہ انصار کے چہروں کا رنگ بدل گیا اور انہوں نے گمان کیا کہ حضرت عبداللہ کے ساتھ ایسا کچھ ہو گیا ہے جسے وہ پسند نہیں کرتے ۔اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا :اب جھنڈا حضرت عبداللہ نے پکڑ لیا ہے ،وہ لڑے حتیٰ کہ شہید ہو گئے ۔پھر فرمایا وہ جنت میں میرے لئے بلند کئے گئے ،وہ سونے کے پلنگوں پر ہیں جیسے سونے والا دیکھتا ہے ۔میں نے عبداللہ بن رواحہ کو دیکھا کہ اپنے ساتھیوں سے الگ ہیں تو میں نے پوچھا :اس کو کیا ہے ؟مجھے بتایا گیا کہ وہ بخوشی شہید ہو گئے جبکہ عبداللہ نے کچھ تردد کیا پھر شہید ہوئے ۔

كَانَ أَحَدَ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَوْفٍ، وَكَانَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ غَزْوَةِ مُؤْتَةَ ← أبي الذي أرضعني ← أبيه عباد بن عبد الله بن الزبير ← يَحْيَى بْنُ عَبَّاد؛ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 196

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 197

197 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن عَمْرِو بن خَالِدِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا@ أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى مُؤْتَةَ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بن حَارِثَةَ، فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ، فَإِنَّ أَمِيرَهُمْ جَعْفَرٌ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ، فَعَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ الأَنْصَارِيُّ أَمِيرُهُمْ، فَخَرَجُوا قِبَلَ الشَّامِ نَحْوَ مُؤْتَةَ، فَأُصِيبَ أُمَرَاؤُهُمُ الَّذِينَ أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ خَالِدُ بن الْوَلِيدِ الرَّايَةَ، فَاصْطَلَحَ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ، فَهَرِصَ اللَّهُ الْعَدُوَّ".

حضرت عروہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی طرف لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا اور اگر وہ شہید ہو جائیں تو حضرت جعفر بن ابی طالب اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ امیر ہونگے ۔چناچہ یہ لوگ شام کی طرف سے موتہ کی جانب روانہ ہوئے ۔ان کے سارے امیر جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا تھا جام شہادت نوش کرگئے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا تھا م لیا اور ساری قوم ان کی امارت پرمتفق ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دے دی۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 197

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 198

198 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مِثِّلُوا لِي فِي الْجَنَّةَ فِي خَيْمَةٍ مِنْ دُرَّةٍ، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ عَلَى سَرِيرٍ، فَرَأَيْتُ زَيْدًا، وَابْنَ رَوَاحَةَ أَعْنَاقُهُمَا صُدُودًا، وَأَمَّا جَعْفَرٌ، فَهُوَ مُسْتَقِيمٌ لَيْسَ فِيهِ صُدُودٌ، قَالَ: فَسَأَلْتُ، أَوْ قَالَ: قِيلَ لِي: إِنَّهُمَا حِينَ غَشِيَهُمَا الْمَوْتُ، كَأَنَّهُمَا أَعْرَضَا، أَوْ كَأَنَّهُمَا صَدَّا بِوُجُوهِهِمَا، وَأَمَّا جَعْفَرٌ، فَإِنَّهُ لَمْ يَفْعَلْ". قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: فذَلِكَ حِينَ يَقُولُ ابْنُ رَوَاحَةَ: أَقْسَمْتُ يَا نَفْسُ لَتَنْزِلنَّهْ …بِطَاعَةٍ مِنْكِ لِتُكْرَهِنَّهْ فَطَالَمَا قَدْ كُنْتِ مُطْمَئِنَّهْ …جَعْفَرُ ! مَا أَطْيَبَ رِيحَ الْجَنَّهْ.@

حضرت ابن المسیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مجھے تینوں کی تمثیل دکھائی گئی کہ جنت میں موتیوں کے خیمے میں ہیں ۔میں نے زید اور ابن رواحہ کو دیکھا کہ انہیں گردنیں مڑی ہوئی ہیں اور جعفر کی گردن سیدھی ہے ۔میں نے پوچھا یا مجھ سے کہا گیا (راوی کو شک ہے )کہ جب ان پر موت آئی تھی تو انہوں نے کچھ اعراض کیا تھا لیکن جعفر نے ایسا نہیں کیا ۔حضرت ابن عینیہ فرماتے ہیں :اسی موقع پر حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا :اے نفس !میں نے قسم کھائی تھی کہ تو ضرور میدان جنگ میں اترے گا تجھے جنگ کر نے پر مجبور کیا جائے ۔البتہ کافی عرصہ گزر گیا کہ تو مطمئن تھا ۔اے جعفر ! جنت کی خوشبو کتنی پیاری ہے ۔

ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ جُدْعَانَ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 198

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 199

199 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بن هَارُونَ بن سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بن عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ:"ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى مُؤْتَةَ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بن حَارِثَةَ، فَإِنْ أُصِيبَ، فَجَعْفَرُ بن أَبِي طَالِبٍ أَمِيرُهُمْ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ، فَعَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ أَمِيرُهُمْ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى لَقُوُا ابْنَ أَبِي سَبْرَةَ الْغَسَّانِيَّ بِمُؤْتَةَ، وَبِهَا جُمُوعٌ مِنْ نَصَارَى الْعَرَبِ وَالرُّومِ، وَبِهَا تَنُوخُ وَبَهْرَا، فَأَغْلَقَ ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ دُونَ الْمُسْلِمِينَ الْحِصْنَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ خَرَجُوا، فَالْتَقُوا عَلَى زَرْعٍ أَخْضَرَ، فَاقْتَتَلُوا قِتَالا شَدِيدًا، وَأَخَذَ اللِّوَاءَ زَيْدُ بن حَارِثَةَ، فَقُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَهُ جَعْفَرٌ، فَقُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَهُ ابْنُ رَوَاحَةَ، فَقُتِلَ، ثُمَّ اصْطَلَحَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ أُمُرَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَالِدِ بن الْوَلِيدِ، فَهَزَمَ اللَّهُ الْعَدُوَّ، وَأَظْهَرَ الْمُسْلِمِينَ، وَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جُمَادَى الأُولَى".

حضرت ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی طرف لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت زید بن حارثہ ،حضرت جعفر بن ابو طالب اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی عنہ بالترتیب یکے بعد دیگرے امیر مقرر فرمایا ۔یہ لوگ چلے حتیٰ کہ موتہ کے مقام پر ابن ابی السبرہ غسانی سے ملے ۔وہاں عرب اور روم کی نصرانی جمع تھے۔ابن ابی السبرہ نے تین دن تک مسلمانوں پر قلعے کے دروازے بند رکھے ۔پھر وہ نکلے اور سرسبز مقام پر ملے اور وہاں شدید جنگ ہوئی ۔حضرت زید بن حارثہ نے جھنڈا تھا ما پھر وہ شہید ہو گئے ان کے بعد حضرت جعفر نے جھنڈا تھاما تو وہ بھی شہید ہو گئے ان کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا پکڑا پھر وہ بھی شہید ہو گئے ان کے بعد سب مسلمانوں کا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر اتفاق ہو گیا تو اللہ نے دشمن کو شکت دے دی اور مسلمانوں کو فتح سے ہمکنا ر فرمایا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمادی الاولیٰ میں یہ لشکر روانہ کیا تھا ۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 199

المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 200

200 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بن إِسْحَاقَ بن إِبْرَاهِيمَ بن الْعَلاءِ بن زِبْرِيقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، وَحَدَّثَنَا عِمَارَةُ بن وُثَيْمَةَ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيمَ بن زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بن الْحَارِثِ الْحِمْصِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بن مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بن الْمُسَيِّبِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بن الأَعْرَجِ،@ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ:"إِنَّ أَخَاكُمْ كَانَ يَقُولُ شِعْرًا، أَوْ قولا لَيْسَ مِنَ الرَّفَثِ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ": فِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ …إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِسَاطعُ أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ … إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْكَافِرِينَ الْمَضَاجِعُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن رواحہ کے واقعات سناتے ہوئے فرماتے تھے کہ تمھارا بھائی شعر کہتا تھا ان میں شہوت کا اثر نہیں ہوتا تھا ۔اور وہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ہے :ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو کتاب کی تلاوت کرتے ہیں جب فجر طلوع ہوتی ہے ۔انہوں نے گمراہی کے بعد ہمیں ہدایت کی راہ دکھائی تو ہمارے دل ان پر یقین رکھتے ہیں کہ جو انہوں نے فرمایا وہ واقع ہو گا۔وہ رات گزارتے ہیں کہ ان کا پہلو بستر سے جدا رہتا ہے اور جب کافروں کیلئے آرام گاہوں سے دور رہنا بھاری ہوتا ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَعْرَجِ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرو بن الحارث الحمصي ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ ← عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ الْمِصْرِيُّ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 200

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter