Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الأدب المفرد

Al Adab Al Mufrad

by Imam Bukhari

1,325 Hadith114 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 736

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِيْ قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیْلُ ، عَنْ قَیْسٍ قَالَ : کَانَ عَمْرُ وْ بْنُ الْعَاصِ ؓ یَسِیْرُ مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ ، فَمَرَّ عَلَی بَغْلِ مَیَّتٍ قَدِ انْتَفَخَ، فَقَالَ : وَاللہِ الأَن یَأُکُلْ أَحَدُکُمْ ھَذَا حَتَّی یَمْلَأ بَطْنَہُ ، خَیْرٌ مَنْ أَنْ یَأُکُلً لَحممْسْلِمِِ

قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک مردہ خچر کے پاس سے ان کا گزر ہوا جو (زیادہ دیر مردہ حالت میں پڑا رہنے کی وجہ سے) پھول چکا تھا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم تم میں سے کوئی یہ کھائے یہاں تک کہ اپنا پیٹ بھر لے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ مسلمان کا گوشت کھائے۔“

قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Hadith 736

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 737

حَدَّثَنَا عَمْرُ وْبْنَ خَالِدٍ قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عْنْ أبِيْ عَبْدِالرَّحِیْمِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِيْ أُنَیْسَۃَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَیْرِ ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْھَضْھَاضِ الدَّوْسِيَّ ، عْنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: جَاءَ مَا َعزُبْنُ مَالَکٍ اْلَأسْلَمِيٌؓ ، فَرَجَمَہُ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ عِنْدَ الرَّابِعَۃِ ، فَمَرَّ بِہِ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ وَمَعَہُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابَہِ، فَقَالَ رَجلُاَ ن مَنْھُمْ : إِنَّ ھَذَا الْخَائِنَ أَتَی النَّبِيَّ ﷺ مِرَارًا ، کُلَّ ذَلِکَ یَرُدُّہُ ، حَتَّی قُتِلَ کَمَا یُقْتَلُ الْکَلْبُ ، فَسَکَتَ عَنْھُمُ البَنَّيَّ ﷺ حَتَّی مَرَّ بِجِیْفَۃِ حِمَارِ شَائِلَۃٌ رِجْلُہُ ، فَقَالَ : ((کُلَا مِنْ ھَذَا ))، قَالَا: مِنْ جِیْفَۃِ حِمَارٍ یَا رَسُوْلَ اللہِ ؟ قَالَ: (( فَالَّذِيْ نِلْتُمَا مَنْ عِرْضِ أَخِیْکُمَا آنِفًا أَکْثَرُ ، وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ! إِنَّہُ لَفِيْ نَھْرٍ مَنْ أَنُھَارِ الْجَنَّۃِ یَتَغَمَّصُ))

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ آئے اور زنا کی وجہ سے سزا نافذ کرنے کی درخواست کی۔ چوتھی مرتبہ آنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کر دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ ان کے پاس سے گزرے تو صحابہ میں سے دو آدمیوں نے کہا: یہ خائن خود بار بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار اسے واپس کرتے رہے حتی کہ کتے کی موت مر گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردہ گدھے کے پاس سے گزرے، پھول جانے کی وجہ سے اس کی ٹانگ اوپر اٹھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں اس میں سے کھاؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: (کیا) مردہ گدھے میں سے کھائیں؟ اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جو تم نے ابھی ابھی اپنے بھائی کی غیبت کی ہے، وہ اس سے زیادہ برا کام ہے۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، وہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر میں غوطے مار رہا ہے۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْھَضْھَاضِ الدَّوْسِيَّ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أبي عبدِالرحيمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَمْرُ وْبْنَ خَالِدٍ

Hadith 737

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 738

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ : أَخْیَرَ َنا حَنْظَلَۃُ بْنُ عَمْرٍ و الزُّرَقِيُّ الْمَدَنِيُّ قَالَ: أَبُوْ حَزْرَۃَ قَالَ: أَخْیَرَ نِيْ عُبَادَۃُ بْنُ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِيْ وَأَنَا غُلَا مٌ شَابٌ ، فَتَلْقَّی شَیْخّا ، قُلْتُ : أيْ عَمَّ ! مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تُعْطِيَ غُلَامَکَٔ ھَذِہِ الَنِمَرۃَ ، وَتَأُخُذَ الْبُرْدَۃَ ، فَیَکُوْنُ عَلَیْکَ بُرْدَتَیْنِ ، وَعَیَلْہِ نَمِرَۃٌ ؟ فَأَقْیَلَ عَلَی أَبِي فَقَالَ : ابْنُکَ ھَذَا ؟ قَالَ: نَعَمْ ، فَمَسَحَ عَلَی رَأُسِیْ وَقَالَ : بَارَکَٔ اللہُ فِیْکَٔ ، أَشْھَدْ لَسَمَعْتُ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ یَقُوْلُ : (( أَطْعِمُوْ ھُمْ مِمَّا تَأْکُلُوْنَ ، وَاکْسُوْھُمْ مِمَّا تَکْتَسُوْنَ))، یَا ابْنَ أَخِی ! ذَھَابُ مَتَاعِ الدُّنَیا أَحَبٌ إِلَيَّ مَنْ أنْ یَأْخُذَمَنْ مَتَاعِ اْلَاخِرَۃَ ، قُلْتُ : أَيْ أَبَتَاہُ ! مَنْ ھَذَا الرَّجُلُ ؟ قَالَ : أَبُو الْیَسَرِ بْنُ عَمْرِو

حضرت عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اپنے باپ کے ساتھ باہر نکلا۔ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا۔ ہم ایک بزرگ سے ملے جنہوں نے ایک چادر اور معافری کپڑا زیب تن کیا ہوا تھا، اور ان کے غلام نے بھی ان جیسا لباس پہن رکھا تھا۔ میں نے کہا: چچا جان! اس میں کیا رکاوٹ ہے کہ آپ یہ دھاری دار چادر اپنے غلام کو دے دیتے اور اس سے دوسری چادر لے لیتے۔ اس طرح آپ پر دو ایک طرح کی چادریں ہو جاتیں اور غلام پر دھاری دار چادر ہو جاتی۔ یہ سن کر وہ میرے والد کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا: یہ آپ کا بیٹا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے برکت دے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو خود کھاتے ہو وہ ان غلاموں کو کھلاؤ، اور جو خود پہنو انہیں بھی پہناؤ۔“ میرے بھتیجے! دنیا کے سامان کا مجھ سے چلے جانا مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ وہ میرے آخرت کے سامان سے کچھ لے لے۔ میں نے کہا: ابا جان! یہ آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ابوالیسر (کعب) بن عمرو ہیں۔

خَرَجْتُ مَعَ أَبِي ← أَخْیَرَ نِيْ عُبَادَۃُ بْنُ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ← أبو حزرة ← حَنْظَلَۃُ بْنُ عَمْرٍ و الزُّرَقِيُّ الْمَدَنِيُّ ← أَخْیَرَ ← إِسْحَاقُ

Hadith 738

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 739

حَدَّثَنَا عْبْدَۃُ قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ قَالَ: أِدْرَکْتُ الَّسلَفَ ، وَإِنَّھُمْ لَیکُوْنُوْنَ فِي الْمَنْزِلِ الْوَاحِدِ بِأَھاَلِیْھِمْ ، فَرُبَّمَا نَزَلَ عَلَی بَعْضِھُمُ الَّضیْفُ ، وَقِدْرُ أَحَدِھِمْ عَلَی النَّارِ ، فَیَأُ خُذُھَا صَاحِبُ الضَّیْفِ لِضَیْفِہِ، فَیَفْقِدُ الْقِدْرَ صَاحَبُھَا ، فَیَقُوْلَ : مَنْ أَخَذَ الْقِدْرَ ؟ فَیَقُوْلُ صَاحِبُ الضَّیْفُ : نَحْنُ أَخَذْنَا ھَا لِضَیْفِنَا ، فَیَقُوْلُ صَاحِبُ الْقِدْرِ : بَارَکَٔ اللہُ لَکُمْ فِیْھَا۔أَوْ کَلِمَۃَ نَحْوَھَا ۔ قَالَ بَقِیَّۃُ : وَقَالَ مُحَمَّدٌ: وَالْخُبْزُ إِذَا خبزوْا مِثْلُ ذَلِکَٔ ، وَلَیْسَ بیَنْھَمُ إِلَّا جُدُرُ الْقَصَبِ ۔ قَالَ بَقِیَّۃُ : وَأَدْرَکْتُ أَنَا ذَلِکَ : مُحَمَّدَ بْنَ زِیَادٍ وَأَصْحَابَہُ

محمد بن زیاد رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سلف (صحابہ و تابعین) کو پایا کہ وہ ایک ہی مکان میں اہل و عیال کے ساتھ رہتے تھے۔ جب کبھی ان میں سے کسی کا مہمان آ جاتا اور ان کی ہنڈیا پک رہی ہوتی تو مہمان والا اسے اپنے مہمان کے لیے لے لیتا۔ ہانڈی والا جب ہانڈی غائب پاتا تو پوچھتا کہ ہانڈی کس نے لی ہے؟ مہمان والا کہتا: ہم نے مہمان کے لیے لی ہے۔ ہانڈی والا کہتا: اللہ تمہیں اس میں برکت دے یا اس طرح کے کلمات کہتا۔ بقیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محمد نے کہا: اور جب وہ روٹی پکاتے تو بھی اسی طرح ہوتا اور ان کے گھروں کے درمیان صرف بانس کی دیوار ہوتی۔ بقیہ رحمہ اللہ نے کہا: اور میں نے بھی اپنے استاد محمد اور ان کے ساتھیوں کو اسی طریقے پر پایا۔

مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← بَقِيَّةُ ← عَبْدَةُ

Hadith 739

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 740

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِيْ حَازَمٍ ، عَنْ أَبَيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ ،أَنَّ رَجُلَا أَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَبَعَثَ إِلَی نِسَائِہِ فَقُلْنَ : مَا مَعنَاَ إِلَّا الْمَا ءُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ (( مَنْ یَضُمُّ ۔ أَوْ یُضِیْفُ ۔ ھَذَا ؟)) فَقَال رَجُلٌ مَنَ رَجُلٌ مَنَ الأَنْصَارَ : أَناَ، فَاتْطَلَقَ بَہِ إِلَی امْرَأَتِہِ فَقَالَ : أَکْرِ مِيْ ضَیْفَ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ ، فَقَالَتْ : مَا عِنْدَناَ إِلَّا قُوْتُ الصَّبْیَان ، فَقَالَ : ھَیَّئِيْ طَعَامَکِ ، وَأَ صْلِحِيْ سِرَِاجَکِٔ، وَنَوَّمِيْ صِبْیَانَکِٔ إِذَا أَرَادُوْا عَشَاءَ ، فَھَیَّأَتْ طَعَا مَھَا ، وَأَصْلَحَتْ سِرَاجَھَا ، وَنَوَّمَتْ صِبْیَا نَھَا ، ثُمَّ قَامَتْ کَأَنَّھَا تَصْلِحُ سِرَاجَھَا فَأَ طْفَأَتْہُ ، وَجَعَلَا یُرِ یَانِہِ أَنَّھُمَا یَأْٔکُلَان ، وَبَاتَا طَا وِیَیْنِ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَی رَسُوْلِ اللہِ ﷺ ، فَقَالَ ﷺ (( لَقَدْ ضَحِکَٔ اللہُ ۔ أوْ : عَجِبَ ۔ مَنْ فَعَالِکُمَا ))، وَأَنْزَلَ اللہُ : ( وَیُؤثُروْنَ عَلَی أَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُوْقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُوْلَئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحْونَ )

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بطور مہمان آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو پیغام بھجوایا کہ کچھ کھانے کو ہو تو بھیج دیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کو کون ساتھ لے جائے گا یا اس کی مہمانی کون کرے گا؟“ ایک انصاری آدمی نے کہا: میں اسے ساتھ لے جاتا ہوں۔ وہ اسے لے کر اپنی اہلیہ کے پاس گئے اور کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی عزت افزائی کرو۔ اس نے کہا: بچوں کے کھانے کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس نے کہا: کھانا تیار کرو، کھاتے وقت چراغ درست کرنا (اور بجھا دینا) اور بچے اگر رات کا کھانا مانگیں تو انہیں سلا دینا۔ چنانچہ اس نے کھانا تیار کیا اور چراغ اچھی طرح ٹھیک کر دیا اور بچوں کو سلا دیا۔ پھر اٹھی جیسے وہ چراغ کو ٹھیک کرنے لگی ہے، تو اسے بجھا دیا۔ اور دونوں اسے یہ باور کروا رہے تھے کہ وہ کھا رہے ہیں، حالانکہ دونوں نے بھوکے رات گزاری۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم دونوں کے اس اچھے کام پر ہنسا ہے یا خوش ہوا ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: «﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ ......﴾» ”وہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود قاقے سے ہوں اور جو اپنے نفس کی بخیلی سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← عبدُاللهِ بنُ داودَ، ← مُسَدَّدٌ

Hadith 740

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 741

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ یُوْسُفَ قَالَ : حَدَّثَنَا الَّلْیثُ قَالَ : حَدَّثَنِیيْ سَعِیْدٌ الْمَقْبُريُّ ، عَنْ أَبَيْ شُرَیْحٍ الْعَدَوِيَِّ ؓ قَالَ : سَمِعَتْ أُذُنَایَ ، وَأَبْصَرَتْ عَیْنَایَ ، حِیْنَ تَکَلَّمَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ :(( مَنْْ کَانَ یُؤمَنُ باِللہِ وَالْیَوْمِ الْآ خِرِ ، فَلْیُکْرِمْ جَارَہُ ، وَمَنْ کانَ یُؤمَنُ باِللہِ وَالْیَوْمِ الْآخَرِ ، فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ جَائِزَ تَہُ))، قَالَ: وَمَا جَا ئِزَ تُہُ یَا رَسُوْلَ اللہِ ؟ قَالَ : (( یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ ، وَالضیَّافَۃُ ثلَاَ ثَۃُ أَیَّامٍ ، فَمَا کَانَ وَرَا ءِ ذَلِکَ فَھُوَ صَدَقَۃٌ عَلَیْہِ ، وَمَنْ کَانَ یُؤمَنُ باِللہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْلَیْصُمتْ ))

سیدنا ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی پرتکلف مہمانی کرے۔“ راوی نے پوچھا: اللہ کے رسول! پرتکلف کھانا کتنے روز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن اور رات اور مہمانی تین دن تک ہے، اور اس کے بعد کی خدمت اس پر صدقہ تصور ہوگی۔ اور جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔“

اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Hadith 741

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 742

حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ إِسمْاَعِیْلَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ یَذِیْدَ قَالَ: حَدَّثنَاَ یَحْیَی ۔ ھُوَ ابْنُ أَبِيْ کَثِیْرٍ ۔ عَنْ أَبِيْ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ :(( الضَّیَافَۃُ ثلَاَثَۃُ أَیَّامٍ ، فَمَا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَٔ فَھُوَ صَدَقَۃٌ ))

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضیافت تین دن تک ہے، اور جو اس کے بعد ہو، وہ صدقہ ہے۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ یَذِیْدَ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ،

Hadith 742

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 743

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیْلُ قَالَ : حَدَّثَنِيْ مَالِکٌ ، عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُريَّ ، عَنْ أَبِيْ شُرَیْحٍ الْکَعْبِيَّ ؓ، أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ قَالَ : (( مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باِللہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْیَقُل خَیْرًا أَوْلِیَصْمُتْ ، وَمَنْ کَانَ یُؤمَنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْآ خِرِ ، فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، جَائِزَِتَہُ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ ، وَالضَّیَافَۃُ ثلَاَثَۃُ أَیَّامٍ ، فَمَا بَعْدَ ذَلِکَٔ فَھُوَ صَدَقَۃٌ ، وَلَا یَحِلُّ لَہُ أَنْ یَثْوِيَ عِنْدَہُ حَتَّی یُحْرِجَہُ))

سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کرے یا چپ رہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور یومِ آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی ایک دن رات پر تکلف میزبانی کرے، اور مہمانی تین دن ہے، جو اس کے بعد کھلائے گا وہ صدقہ ہے۔ اور مہمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ میزبان کے ہاں اقامت ہی اختیار کر لے کہ وہ تنگ آجائے۔“

أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← إِسْمَاعِيلُ

Hadith 743

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 744

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمِ قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَا نُ ، عَنْ مَنْصُوْرِ ، عَنِ الشَّعْبِيَّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ أَبِيْ کَرِیْمَۃَ الشَّامِيَّؓ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ ﷺ (( لَیْلَۃُ الصَّیْفِ حَقٌ وَاجِبٌ عَلیَ کُلَّ مُسْلمٍ فَمَنْ أَصْبَحَ بِفِنَائَہِ فَھُوَ دَیْنٌ عَلَیْہِ إِ نْ شَا ءَ فَإِنْ شَا ءَ اقْتَضَاہُ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَکَہُ))

سیدنا ابوکریمہ مقدام شامی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کو مہمان آجائے تو اس کی اس رات کی مہمانی ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اور جو مہمان صبح ہونے تک ٹھہرا رہے تو اس وقت کی دعوت اس گھر والے پر قرض ہے، اگر وہ مہمان چاہے تو اس کا مطالبہ کرے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔“

الْمِقْدَامِ أَبِيْ کَرِیْمَۃَ الشَّامِيَّؓ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْیَا نُ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 744

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 745

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ صَالِحِ قَالَ : حَدَّثَنِي الَّلیْثُ ، عَنْ یَذِیْدَ بْنِ أَبِيْ حَبِیْبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَیٌرِ ، عَنْ عُقْبَۃَّ بْنِ عَامِرِ ؓ قَالَ : قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ ! إِنَّکَٔ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلَا یُقْرُوْنَا ، فَمَا تَرَی فِيْ ذَلِکَٔ ؟ فَقَالَ لَنَا : (( إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأُمَرَلَکُمْ بِمَا یَنْبَغِيْ لِلضَّیْفِ فَاقْبَلُوْا ، فَإِنْ لَمْ یَفْعَلُوْا فَخُذُوْا مِنْھُمْ حَقَّ الضَّیْفِ الَّذِيْ یَنْبَغِيْ لَھُمْ ۔))

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں کسی قوم کے پاس بھیجتے ہیں اور وہ لوگ ہماری مہمانی نہ کریں تو آپ اس معاملے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم کسی قوم کے پاس جاؤ اور وہ تمہیں کوئی ایسی چیز پیش کریں جو مہمان کے لیے مناسب ہے تو اسے قبول کر لو، اور اگر وہ مہمانی نہ کریں تو ان کے مناسب حال مہمانی کا حق ان سے لے لو۔“

قُلْتُ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← یَذِیْدَ بْنِ أَبِيْ حَبِیْبٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Hadith 745

chevron_left Previous
1…9101112
Next chevron_right
All Chapters
1. The Parents' Book
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. My loyal book
    0. Chapter
4. The Book of Girls' Awal
    0. Chapter
5. The Book of Girls' Awal
    0. Chapter
6. The book of the neighbor
    0. Chapter
7. The Book of Generosity and Orphan
    0. Chapter
8. Child Death Book
    0. Chapter
9. Child Death Book
    0. Chapter
10. Care book
    0. Chapter
11. The Book of Good News
    0. Chapter
12. The book of extensions to the people
    0. Chapter