الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 724
حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ خُمَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَیْمَ بْنَ عَامَرِ، عَنْ أَوْسَطَ ابْنِ إِسْمَاعِیْلَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَابَکْرِ الصَّدَّیْقَ ؓ بَعْدَ وَفَاۃَ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ ﷺ عَامَ أَوَّلَ مَقَامِيْ ھَذَا۔ثُمَّ بَکَی أَبُوْبَکْرِ۔ثُمَّ قَالَ:((عَلَیْکُمْ باِلصَّدْقِ، فَاإِنَّہُ مَعَ الْبِرَّ، وَھمُاَ فِي الْجَنَّۃِ، وَإِیَّا کُمْ وَالْکَذِبَ، فَاإِنَّہُ مَعَ الْفُجْوْرِ، وَھمُاَ فِي النَّارِ، وَسَلُوْا اللہَ الْمَعَافَاۃَ، فَاإِنَّہُ لَمْ یُوْتَ،بَعْدَ الْیَقِیْنِ۔خَیْرٌ مَنَ الْمُعَافِاۃِ، وَلَا تَقَاطَعُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَلَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللہِ إِخْوَانًا))۔
اوسط بن اسماعیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے پہلے سال اس جگہ پر کھڑے ہوئے جس جگہ میں کھڑا ہوں، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے، پھر فرمایا: ”سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ وہ نیکی کے ساتھ ہے، اور وہ دونوں (سچائی اور نیکی) جنت میں لے جانے والی ہیں۔ اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ وہ فجور کے ساتھ ہے، اور یہ دونوں آگ میں لے جانے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو، کیونکہ ایمان و یقین کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ آپس میں قطع تعلق نہ کرو۔ ایک دوسرے سے پشت نہ پھیرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض رکھو، اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔“
أَبَابَکْرِ الصَّدَّیْقَ بَعْدَ وَفَاۃَ النَّبِيَّ ← أَوْسَطَ ابْنِ إِسْمَاعِیْلَ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ،
Hadith 724
