Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الأدب المفرد

Al Adab Al Mufrad

by Imam Bukhari

1,325 Hadith114 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 724

حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ خُمَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَیْمَ بْنَ عَامَرِ، عَنْ أَوْسَطَ ابْنِ إِسْمَاعِیْلَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَابَکْرِ الصَّدَّیْقَ ؓ بَعْدَ وَفَاۃَ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ ﷺ عَامَ أَوَّلَ مَقَامِيْ ھَذَا۔ثُمَّ بَکَی أَبُوْبَکْرِ۔ثُمَّ قَالَ:((عَلَیْکُمْ باِلصَّدْقِ، فَاإِنَّہُ مَعَ الْبِرَّ، وَھمُاَ فِي الْجَنَّۃِ، وَإِیَّا کُمْ وَالْکَذِبَ، فَاإِنَّہُ مَعَ الْفُجْوْرِ، وَھمُاَ فِي النَّارِ، وَسَلُوْا اللہَ الْمَعَافَاۃَ، فَاإِنَّہُ لَمْ یُوْتَ،بَعْدَ الْیَقِیْنِ۔خَیْرٌ مَنَ الْمُعَافِاۃِ، وَلَا تَقَاطَعُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَلَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللہِ إِخْوَانًا))۔

اوسط بن اسماعیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے پہلے سال اس جگہ پر کھڑے ہوئے جس جگہ میں کھڑا ہوں، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے، پھر فرمایا: ”سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ وہ نیکی کے ساتھ ہے، اور وہ دونوں (سچائی اور نیکی) جنت میں لے جانے والی ہیں۔ اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ وہ فجور کے ساتھ ہے، اور یہ دونوں آگ میں لے جانے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو، کیونکہ ایمان و یقین کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ آپس میں قطع تعلق نہ کرو۔ ایک دوسرے سے پشت نہ پھیرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض رکھو، اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔“

أَبَابَکْرِ الصَّدَّیْقَ بَعْدَ وَفَاۃَ النَّبِيَّ ← أَوْسَطَ ابْنِ إِسْمَاعِیْلَ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ،

Hadith 724

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 725

حَدَّثَنَا قَبِیْصَۃُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الْجُرَیْرِيَّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ مُعَاذٍ ؓ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ عَلَی رَجُلِ یَقُوْلُ: اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَسْأَلُکَ تَمَامَ النَّعْمَۃِ، قَالَ: ((ھَلْ تَدْرِيْ مَا تَمَامُ النَّعْمَۃِ؟)) قَالَ: ((تَمَامُ النَّعْمَۃِ دُخُوْلُ الْجَنَّۃِ، وَالْفَوُزُ مَنَ النَّارِ))۔ثُمَّ مَرَّ عَلَی رَجُلِ یَقُوْل ُ: اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَسْأَلُکَ الصَّبْرَ، قَالَ: ((قَدْ سَأَلْتَ رَبَّکَ الْبَلَاءَ ، فَسَلْہُ الْعَافَیَۃََ))۔وَمَرَّ عَلَی رَجُلِ یَقُوْلُ: یَا ذَا الْجَلَالِ واَالإِْا کْرَامِ افَقَالَ:((سَلْ))

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میں تجھ سے پوری نعمت کا سوال کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم جانتے ہو پوری نعمت کیا ہے؟“ اس نے کہا: پوری نعمت یہ ہے کہ بندہ جنت میں داخل ہو جائے اور دوزخ سے بچ جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کہہ رہا تھا: اے اللہ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے رب سے مصیبت کا سوال کیا ہے، اس کے بجائے عافیت کا سوال کرو۔“ ایک اور شخص کے پاس سے گزرے جو کہہ رہا تھا: اے بزرگی و اکرام والے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ سے کچھ مانگو۔“

یَا ذَا الْجَلَالِ واَالإِْا کْرَامِ افَقَالَ:((سَلْ)) ← ((قَدْ سَأَلْتَ رَبَّکَ الْبَلَاءَ فَسَلْہُ الْعَافَیَۃََ))۔وَمَرَّ عَلَی رَجُلِ ← اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَسْأَلُکَ الصَّبْرَ، ← ((تَمَامُ النَّعْمَۃِ دُخُوْلُ الْجَنَّۃِ، وَالْفَوُزُ مَنَ النَّارِ))۔ثُمَّ مَرَّ عَلَی رَجُلِ ← ((ھَلْ تَدْرِيْ مَا تَمَامُ النَّعْمَۃِ؟)) ← اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَسْأَلُکَ تَمَامَ النَّعْمَۃِ، ← مَرَّ النَّبِيُّ عَلَی رَجُلِ ← مُعَاذٌ، ← اللَّجْلَاجِ، ← أَبِي الْوَرْدِ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ،

Hadith 725

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 726

حَدَّثَنَا فَرْوَۃُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ، عَنْ یَزِیْدِ بْنِ أَبِي زِیَادِ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ الْحَارَثِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ ؓ ، قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللہِ! عَلَّمْنِيْ شَیٔاً أَسْأَلُ اللہَ بَہِ، فَقَالَ: ((یَا عَبِّاسُ! اسَلِ اللہَ الْعَافَیَۃَ))، ثُمَّ َمَکْثتُ ثَلاثَا، ثُمَّ جِنْتُ فَقُلْتُ: عَلَّمْنِي شَیْأً أَسْأَلُ اللہَ بِہِ یَا رَسُوْل َاللہِ !فَقَالَ: ((یَاعبَاَّسُ! یَاعَمَّ رَسُوْلِ اللہِ! سَلِ اللہَ الْعَافِیَۃَ فَي الدُّنْیَا وَالْاَ خِرَۃِ))۔

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیں جس کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ سے سوال کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عباس! اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرو۔“ کچھ عرصہ ٹھہرنے کے بعد میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھائیں جس کے ذریعے سے میں مانگوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! الله تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرو۔“

الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ قُلْتُ ← عَبْدِاللہِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← عُبَيْدَةُ ← فَرْوَۃُ

Hadith 726

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 727

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُوْبکْرِ ، عَنْ حُمَیْدِ ، عَنْ أَنَسِ ؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ عَنْدَ النَّبِيَّ ﷺ :اللُّھُمَّ! لَمْ تُعْطِنَيْ مَالَا فَأَ تَصدَّقْ بِہِ، فَابْتَلِنِيْ بِبَلاءِ یَکُوْنُ۔أَوْ قَالَ۔ فَیْہِ أَجْرٌ، فَقَالَ: ((سُبْحَانَ اللہِ، لَا تُطِیْقُہُ، أَلَا َقْلتَ: اللَّھُمَّ آمَنَا فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃًً، وَفِي الْاَ خِرَۃِ حَسَنَۃًً، وَقَنَا عَذَابَ النَّارِ))

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دعا کی: اے اللہ! تو نے مجھے مال نہیں دیا جس سے میں صدقہ کرتا، لہٰذا مجھے کسی مصیبت ہی میں مبتلا کر دے جس میں میرے لیے اجر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! تم مصیبت برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ تم نے یوں دعا کیوں نہیں کی: اے اللہ ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“

فَیْہِ أَجْرٌ، ← رَجُلٌ عَنْدَ النَّبِيَّ :اللُّھُمَّ! لَمْ تُعْطِنَيْ مَالَا فَأَ تَصدَّقْ بِہِ، فَابْتَلِنِيْ بِبَلاءِ یَکُوْنُ۔أَوْ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← أَبُوْبَکْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ،

Hadith 727

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 728

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا زُھَیْرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا ُحَمْیٌد ، عَنْ أَنَسِ ؓ قَالَ: دَخَلَ۔قُلْتُ لِحُمِیْدِ: النَّبِيَّ ﷺ؟ قَالَ: نَعَمْ۔عَلَی رَجُلٍ قَدْ جَھدَ مَنَ انْمَرَضِ، فَکَأَنَۃُ فَرْخٌ مَنْتُوْفٌ ، قَالَ: ((ادْعُ اللہَ بِشَيْ ءٍ أَوْ سَلْہُ))، فَجَعَلَ یَقُوْلُ: اللَّھُمَّ مَا أَنْتَ مُعَدَّبِيْ بِہِ فِي اْلَا خِرَۃِ، فَعَجَّلْہُ فِي الدُّنیَا ، قَالَ: ((سُبْحَانَ اللہِ! لَا تَسْطَیْعُہُ۔أَوَ لَا تَسْتَطْیْعُوْا۔أَلَا قُلْتَ: اللَّھُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃً ، وَفِي الْآ خِرَۃِ حَسَنَۃً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ))، وَدَعَالَہُ، فَشَفَاہُ اللہُ عَزَّوَجْلَّ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس گئے جو بیماری سے اتنا لاغر ہو چکا تھا جیسے بال نوچا ہوا پرنده ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الله تعالیٰ سے کوئی دعا کرو یا (صحت کا) سوال کرو۔“ وہ یوں کہنے لگا: اے اللہ! جو عذاب تو نے مجھے آخرت میں دینا ہے، وہ جلد دنیا ہی میں دے دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ تم نے یہ دعا کیوں نہ کی: اے اللہ! ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی اچھائی دے، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ پھر اس نے دعا کی تو اللہ عزوجل نے اسے شفا دے دی۔

اللَّھُمَّ مَا أَنْتَ مُعَدَّبِيْ بِہِ فِي اْلَا خِرَۃِ، فَعَجَّلْہُ فِي الدُّنیَا ← ((ادْعُ اللہَ بِشَيْ ءٍ أَوْ سَلْہُ))، فَجَعَلَ ← نَعَمْ۔عَلَی رَجُلٍ قَدْ جَھدَ مَنَ انْمَرَضِ، فَکَأَنَۃُ فَرْخٌ مَنْتُوْفٌ ← دَخَلَ۔قُلْتُ لِحُمِیْدِ: النَّبِيَّ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ،

Hadith 728

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 729

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِيْ قَالَ: حَدَّثَنَا ْالَٔا عْمَشُ قَالَ: حَدَّثَنِيْ مُجَاھِدٌ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ: یَقُوْلُ الرَّجُلُ: اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَعُوْذُبِکَ مَنْ جَھْدِ الْبَلاءِ ، ثُمَّ یَسْکُتُ ، فَاإِذَا قَالَ ذَلِکَٔ فَلْیَقُلْ: إِلَّا بَلاءَ فَیْہِ عَلَاءٌ

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: آدمی کہتا ہے: اے اللہ! میں تجھ سے سخت مصیبت میں مبتلا ہونے سے پناہ مانگتا ہوں۔ پھر چپ ہو جاتا ہے۔ جب یہ دعا کرے تو یوں بھی کہے: مگر ایسی مصیبت جو درجات کی بلندی کا باعث ہو، وہ مطلوب ہے۔

ذَلِکَٔ فَلْیَقُلْ: إِلَّا بَلاءَ فَیْہِ عَلَاءٌ ← الرَّجُلُ: اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَعُوْذُبِکَ مَنْ جَھْدِ الْبَلاءِ ثُمَّ یَسْکُتُ فَاإِذَا ← عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْروؓ ← مُجَاهِدٍ ← اْلَٔا عْمَشِ، ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ،

Hadith 729

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 730

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَنْۃََ، عَنْ سُمَيَّ ، عَنْ أَبَيْ صَالِحِ، عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ یَتَعَوَّذُ مَنْ جَھْدِالْبَلاءِ، وَدَرَکْٔ الشَّفَاءِ، وَشَمَاتَۃِ اْلَٔا عْدَاءِ، وَسُوْءِ الْقَضَاءِ

سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سخت مصیبت سے، بدبختی کے پا لینے سے، دشمنوں کی خوشی سے، اور برے فیصلے سے پناہ مانگتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← سُفْیَانُ بْنُ عُیَنْۃََ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ،

Hadith 730

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 731

حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ أَبِيْ بَکْرٍ، وَمُسْلِمٌ نَحْوَہُ قَّالَا: حَدَّثَنَا اْلَٔا سْوَدُبْنُ شَیْبَانَ ، عَنْ أَبِيْ نَوْفَلٍ بْنِ أَبِيْ عَقْرَبَ، أَنَّ أَبَاہُ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنِ الصَّوْمِ ، فَقَالَ: ((صُمْ یَوْمًا مِنْ کُلَّ شَھْرٍ))، قُلْتُ: بِأَبِيْ أَنْتَ وَأُمْیْ! زِدْنِیْ ، قَالَ: ((زِدْنِیْ ، صُمْ یَوْمَیْنِ مَنْ کُلَّ شَھْرٍ))، قُلْتُ: بِأَبِيْ أَنْتَ وَأَمَّیْ! زِدْنِیْ ، فاَإِنَّيْ أَجِدُنِيْ قَوِیَّا، فَقَالَ: (( إِنَّيْ أَجِدُنِيْ قَّوِیَّا، إِنَّيْ أَجِدُنِي قَّویًّا))، فَأَفْحَمَ، حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَہُ لَنْ یَزِیْدَنِیْ، ثُمَّ قَالَ: ((صُمْ ثلَاَثًا مِنْ کُلَّ شَھْرٍ۔))۔

ابونوفل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کے والد سیدنا ابوعقرب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں ایک روزہ رکھا کرو۔“ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اور زیادہ کی اجازت دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور زیادہ، اور زیادہ، ہر مہینے میں دو روزے رکھ لو۔“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اور زیادہ کی اجازت دیجیے، مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ میں زیادہ کی طاقت ہے، مجھ میں زیادہ کی طاقت ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چپ کرا دیا یہاں تک کہ میں نے گمان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو۔“

الصوم ← أَبِيْ نَوْفَلٍ بْنِ أَبِيْ عَقْرَبَ، أَنَّ أَبَاہُ سَأَلَ النَّبِيَّ ← اْلَٔا سْوَدُ بْنُ شَیْبَانَ ← عَبْدُاللہِ بْنُ أَبِيْ بَکْرٍ، وَمُسْلِمٌ نَحْوَہُ

Hadith 731

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 732

حَدَّثَنَا أَبُوْ مَعْمَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَرِثِ، عَنْ وَاصِلِ مَوْلَی أَبِيْ عُیَنْۃَ َقَالَ: حَدَّثَنِيْ خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَۃَّ، عَنْ طَلْعَۃَ بْن نَافِعٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ ؓ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ وَارْتَفَعَتْ رِیْحٌ خَبِیْثَۃٌ مُتِنْۃٌ، فَقَالَ ﷺ: ((أَتَدْرُوْنَ مَا ھَذِہِ؟ ھَذِہِ رِیْحُ الَّزِیْنَ یَغْتَابُوْنَ الْمُوْمِنْینَ۔)

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک بدبودار ہوا اٹھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ یہ ان لوگوں کی بدبودار ہوا ہے جو اہل ایمان کی غیبت کرتے تھے۔“

((أَتَدْرُوْنَ مَا ھَذِہِ؟ ھَذِہِ رِیْحُ الَّزِیْنَ یَغْتَابُوْنَ الْمُوْمِنْینَ۔) ← کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ وَارْتَفَعَتْ رِیْحٌ خَبِیْثَۃٌ مُتِنْۃٌ، ← جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللہِ ← طَلْعَۃَ بْن نَافِعٍ، ← خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ← وَاصِلِ مَوْلَی أَبِيْ عُیَنْۃَ ← عبدالورث. ← أَبُو مَعْمَرٍ،

Hadith 732

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 733

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضِ، عَنْ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِيْ سُفْیَانَ، عَنْ جَابِرِ ؓ قَالَ: ھَاجَتْ رِیْحٌ مُنْتِنَۃٌ عَلَی عَھْدِ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: ((إِنَّ نَاسًا مَنَ الْمُنَافِقِیْنَ اغْتَابُوْا أُنَاساً مَنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَبُعِثَتْ ھَذِہِ الرَّیْحُ لِذَ لِکَ۔))

ابوسفیان بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بدبودار ہوا پھوٹی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ منافق لوگوں نے کچھ مسلمانوں کی غیبت کی ہے تو اس وجہ سے یہ ہوا بھیجی گئی ہے۔“

ھَاجَتْ رِیْحٌ مُنْتِنَۃٌ عَلَی عَھْدِ رَسُوْلِ اللہِ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← سُلَیْمَانَ ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← مُسَدَّدٌ

Hadith 733

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 734

حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ صَالِحِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ کَثِیْرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ الشَّامِيَّ، سَمِعْتُ ابْنَ أُمَّ عَبْدِ ؓ یَقُوْلُ: مَنْ اُغْتِیْبَ عَنْدَہُ مُوْمِنٌ فَنِصَرہُ جَزَاہُ اللہُ بِھَا خَیْرَافِي الدُّنْیَا وَاْلَا خِرَۃِ، وَمَنْ اُغْیِبَ عَنْدَہُ مُوْمِنٌ فَلَمْ یَنْصُرْہُ، جَزَاہُ اللہِ بِھَا فِي الدَّنْیَا وَاْلَا خِرَۃِ شَرَّا، وَمَا الْتَقَمَ أَحَدٌ لُقْمَۃً شَرَّا مَنَ اغْتِیَابِ مُؤْمَنٍ ، إِنْ قَالَ فِیْہِ مَایَعْلَمُ،فَقَدِ اغْتَابَہُ، وَإِنْ قَالَ فَیْہِ بِمَا َلا یَعْلَمُ فَقَدْ بَھَتَّہَ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جس کی موجودگی میں کسی مومن کی غیبت کی گئی اور اس نے اس کی مدد کی اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت میں جزا دے گا۔ اور جس کی موجودگی میں کسی مسلمان کی غیبت کی گئی اور اس نے مدد نہ کی، یعنی دفاع نہ کیا، اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں برا بدلہ دے گا۔ اور کسی نے مومن کی غیبت سے بڑھ کر کوئی برا لقمہ منہ میں نہیں لیا۔ اگر اس نے ایسی بات کی جو وہ جانتا ہے تو اس نے اس کی غیبت کی، اور اگر اس نے ایسی بات کی جو اس کو معلوم نہیں تو اس نے اس پر بہتان لگایا۔

ابن أم عبد ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ الشَّامِيَّ، ← كَثِيرِ بْنِ الْحَارِثِ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عبداللہ بن صالح،

Hadith 734

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 735

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوْسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا الَّنضْرُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ َعْبدُالْعَزِیْزِ بْنُ رَبِیْعٍ الْبَاھِلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ مُحَمَّدٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ ؓ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللِہ ﷺ ، فَأَتی عَلَی قَبْرَیْنِ یُعَذَّبُ صَاحِبَا ھُمَا، فَقَالَ : ((إِنَّھُمَا لَا یُعَدَّبَانِ فِيْ کَبْیرٍ ، وَبَلَی ، أَمَّا أَ حَدُھمُاَ فَکَانَ نَغْتَابُ النَّاسَ،وَأَمَّا ا لْاْخَرُ عَلَی قَبْرٍ،فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ:((أَمَا إِنَّہُ سَیُحَھَوَّنُ مَنْ عَذَ ابِھمَاِ، مَا کَا نَتَا رَطْبَتَیْنِ،أَوْلَمْ یَتَبْسَا))۔

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس آئے جن قبروں والوں کو عذاب ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا۔ کیوں نہیں، وہ واقعی بڑا ہے (لیکن یہ بڑا نہیں سمجھتے تھے)۔ ان میں سے ایک لوگوں کی غیبت کرتا تھا، اور دوسرا پیشاب سے تکلیف محسوس نہیں کرتا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یا دو تازہ ٹہنیاں منگوائیں اور ان دونوں کو توڑا، پھر ہر ٹکڑے کے متعلق حکم دیا تو ہر ایک کو قبر پر گاڑ دیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ان سے عذاب کو ہلکا کر دیا جائے گا جب تک وہ سبز رہیں گی یا خشک نہیں ہوں گی۔“

کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللِہ فَأَتی عَلَی قَبْرَیْنِ یُعَذَّبُ صَاحِبَا ھُمَا، ← جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللہِ ← أَبُو الزُّبَیْرِ مُحَمَّدٌ ← أَبُو الْعَوَّامِ َعْبدُالْعَزِیْزِ بْنُ رَبِیْعٍ الْبَاھِلِيُّ ← النَّضْرُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 735

chevron_left Previous
1…9101112
Next chevron_right
All Chapters
1. The Parents' Book
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. My loyal book
    0. Chapter
4. The Book of Girls' Awal
    0. Chapter
5. The Book of Girls' Awal
    0. Chapter
6. The book of the neighbor
    0. Chapter
7. The Book of Generosity and Orphan
    0. Chapter
8. Child Death Book
    0. Chapter
9. Child Death Book
    0. Chapter
10. Care book
    0. Chapter
11. The Book of Good News
    0. Chapter
12. The book of extensions to the people
    0. Chapter